این ایل سی جرمن کمپنی کا اشتراک سے مال برد ار گاڑیاں تیار کرنے کا فیصلہ

این ایل سی جرمن کمپنی کا اشتراک سے مال برد ار گاڑیاں تیار کرنے کا فیصلہ
 این ایل سی جرمن کمپنی کا اشتراک سے مال برد ار گاڑیاں تیار کرنے کا فیصلہ

  


کراچی (ویب ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے ( سی پیک ) کے باعث ملک میں مال بردار گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی ) نے جرمن کمپنی کے ساتھ مل کر آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جرمن کمپنی پاکستان میں مال بردار گاڑیاں تیار کرنے کیلئے پلانٹ لگائے گی ۔ مذکورہ پیش رفت کے حوالے سے معلومات رکھنے والے سرکاری حکام نے کہا ہے کہ این ایل سی نے جرمنی کی ” مان ٹرک اینڈبس کمپنی “ کے ساتھ مل کر مال بردار گاڑیوں کی تیاری کیلئے مشترکہ منصوبے کے تحت پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے این ایل سی نے ابتدائی طورپر 50 کروڑ سے 70 کروڑ روپے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پاکستانی فوج کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹرک بنائے جائیں گے ، دوسرے مرحلے میں اقتصادی راہداری کی طلب کو مد نظر رکھتے ہوئے مال بردار گاڑیاں بھی بنائی جائیں گی ۔ ابتدائی طورپر 700 سے 1000 گاڑیاں سالانہ بنائی جائیں گی اور بعدازاں ضرورت کے مطابق اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت صنعت و پیداوار کے تحت حکومت کے محکمے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) طارق چوہدری نے تصدیق کی کہ این ایل سی نے مال بردار گاڑیاں بنانے کیلئے جرمنی کی کمپنی کے ساتھ مشترکہ طورپر پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ خیال رہے کہ ” مان ٹرک اینڈبس کمپنی “ کا ہیڈ کوارٹر جرمنی کے شہر میونخ میں قائم ہے اور یہ کمرشل گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے یورپ کی معروف بین الاقوامی کمپنی ہے۔ اس کمپنی کے پیداواری 3 پلانٹ یورپی ممالک میں قائم ہیں اس کے علاوہ کمپنی کے دیگر پلانٹ روس، جنوبی افریقہ، انڈیا اور ترکی میں بھی موجود ہیں۔ گوادر پورٹ کے ذریعے پہلی بار چینی مصنوعات مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک کو برآمد کیے جائیں گے جبکہ کنٹینر پر چاول سے لے کر کپاس تک مختلف اشیاءموجود ہیں جبکہ بعض مشینری بھی ہے جو گوادر میں جاری ترقیاتی کاموں کے لیے وہاں پہنچائی گئی۔

مزید : بزنس