بھارتی آبدوزکے ارادے کیا تھے؟

بھارتی آبدوزکے ارادے کیا تھے؟
بھارتی آبدوزکے ارادے کیا تھے؟

  


تحریر:بلال احمد شیخ

بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز جمعہ کے روز پاکستانی پانیوں میں گھسنے سے پہلے ہی ٹریک کر لی گئی اور اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر اسکو پکڑ لیا جاتااور پوری دنیا کے سامنے اسکی حقیقت اسطرح بیان کی جاتی کہ انڈیا پاکستان کے پاو¿ں چھونے پر مجبور ہوجاتا۔ بہرحال انڈیا نے اس بات کی تردید کردی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔لیکن حالیہ کشیدگی کے بعد ایسے واقعہ کی نشاندہی یقیناً معمولی حالات کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ پاک بحریہ نے اس واقعہ کی مختصر ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ بھارتی میڈیا اور نیوی کا دعویٰ ہے کہ بھارتی ایسی کوشش نہیں کرسکتے اور یہ یقیناً کسی اور ملک کی آبدوز ہو سکتی ہے۔ آبدوز کا یہ واقعہ پاکستانی آرمی چیف کے حالیہ بیان کے فوری بعد پیش آیا ہے جس میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے انڈین جواب کے باوجود اس پر اصرار کیا ہے کہ یہ بھارتی آبدوز ہی تھی جو پاکستانی ساحلوں کی طرف رواں دواں تھی۔ جس کا مقصد معلومات کا حصول یا محدود حملہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس وقت بھارتی فلیٹ میں14عدد الیکٹرک ڈیزل آبدوزیں موجود ہیں جن میں سے 10روسی ساختہ ہیں اور 4جرمنی سے خریدی گئیں تھیں۔ روسی ساختہ کلوکلاس آبادوزیں1986ءسے بھارتی بحریہ کا حصہ ہیں۔ ان آبدوزوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے روس سے معاہدہ طے پایا ہے جس پر یہ آبدوزیں اگلے 35سال کے لیے جدید ہو جائیں گی لیکن فی الحال ایسی صرف چار آبدوزیں ہی بھیجی جائیں گی جن پر 5ہزار کروڑ روپے (انڈین کرنسی) خرچ آئے گا۔ ان آبدوزوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ 2008ءسے لے کر اب تک ان آبدوزوں کو سات مختلف حادثات پیش آچکے ہیں۔ جس وجہ سے ایک آبدوز مکمل طور پر بے کار ہو گئی تھی جبکہ بقایا چھ ابھی بھی مرمت کی منتظر ہیں اور آپریشنل نہیں ۔ان حالات کے پیش نظر آبدوزوں کو عموماً محدود فاصلہ پر ہی بھیجا جاتا ہے۔

ٹائپ2009آبدوزیں جرمنی سے خریدی گئی تھیں جن کی فراہمی1986ءسے1994ءکے درمیان ہوئی تھی۔ ان آبدوزوں کو1999ءسے 2005ءکے درمیان جدید بھی بنایا گیا تھا۔

پاکستانی علاقہ میں ٹریک کی جانے والی آبدوز ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تھی اوریہ سمندر میں کافی دنوں تک رہ سکتی ہے اور گہرے پانیوں میں بھی جا سکتی ہے۔ انڈیا نے2012ءمیں روس سے اپریل 2012میں لیز پر لی تھی جو مدت پوری ہونے پر انڈیا کو ہی فروخت کر دی جائے گی۔ اس آبدوز میں28عدد ایٹمی کروز میزائل نصب ہوتے ہیں جن کی مار3000کلو میٹر تک ہوتی ہے۔ انڈیا نے جو میزائل خریدے تھے ان کی مار 300میٹر ہے ۔روس عالمی ایٹمی معاہدہ کے تحت دور مار ایٹمی میزائل دوسرے ممالک کو فروخت نہیں کرسکتا اس لیے کم فاصلہ پر مار کرنے والے میزائل فراہم کئے گئے۔ اس آبدوز کو2008ءمیں روس میں ایک ٹریننگ مشن کے دوران حادثہ بھی پیش آیا تھا جس میں 20افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اگرچہ روس نے اس سے انکار کیا تھا لیکن مغربی ذرائع اس حادثے کے متعلق تصدیق کر چکے ہیں۔

انڈین آبدوز بلوچستان کے ساحل کی طرف جا رہی تھی جسے روکا گیا۔ پاک بحریہ کے پاس بہت موثر انٹی شپ اور انٹی آبدوز صلاحیت موجود ہے۔ پاک بحریہ کی تیز رفتار پیٹرول بوٹس ہمہ وقت سمندری حدود کے دفاع کے لیے سمندروں میں مصروف عمل ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ پاک بحریہ کے پاس پی 3اورین طیارے اور اٹلانٹک طیارے موجود ہیں جو سمندر میں جہازوں اور آبدوزوں کو کھوجتے رہتے ہیں۔ سی کنگ ہیلی کاپٹر اورین 9ہیلی کاپٹر بھی اینٹی آبدوز میزائلوں سے لیس ہیں۔ یہ پاک بحریہ کی بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ اگر یہ آبدوز محض اس علاقہ سے ہو کر کسی کارروائی کے بغیر بھی چلی جاتی تو یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ جاتی۔ اس ساری صورتحال سے بحریہ کی تیاری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

پاک بحریہ کو1999ءمیں کارگل کی جنگ کے بعد بھی فوری طور پر اپنی فورس کو میدان میں لانا پڑا تھا جس میں انڈین بحریہ کی بڑھتی ہوئی نقل و حمل پر توجہ مرکوز تھی۔ اسی سال اگست میں پاکستانی اٹلانٹک طیارے کو بھارتی مگ21طیاروں نے مار گیا تھا۔ جس میں پاکستان کے16فوجی شہید ہوگئے تھے۔ اکتوبر1999ءمیں پاکستانی پی 3اورین بھی پسنی بلوچستان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں23فوجی اور افسران شہید ہو گئے تھے۔ یہ صورتحال2001ءاور2002ءمیں برقرار رہی تھی اور پاک بحریہ ہائی الرٹ پر رہی۔

پاک بحریہ نے ملکی دفاع میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا اور پچھلے سالوں میںپاک بحریہ نے اپنی سٹریٹجی کو بہت کامیابی سے نبھایا ہے۔ بھارتی حکومت ہر طرف سے دباﺅ ڈال کر تیزی سے پاکستان کو کسی نتیجہ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے جیسے وہ بنگلہ دیش ، بھوٹان، نیپال اور سری لنکا کےساتھ کر چکا ہے ۔لیکن پاکستان اپنے گھوڑے تیار کرکے بیٹھا ہے۔اس نے پاک بحریہ کا امتحان لینے کی کوشش کی تھی جس کا اسے جواب مل چکا ہے کہ پاکستان نہ بنگلہ دیش ہے نہ سری لنکا.... ادھر سے اسکو سخت ترین جواب ملے گا۔انشااللہ

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ