یہ 6 اور 8 سالہ بہنیں انٹرنیٹ پر ایک ایسا کام کرتی ہیں کہ صرف دنوں میں کروڑوں روپیہ کما لیتی ہیں، اتنی کمائی جس کا اکثر لوگ پوری زندگی خواب ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں

یہ 6 اور 8 سالہ بہنیں انٹرنیٹ پر ایک ایسا کام کرتی ہیں کہ صرف دنوں میں کروڑوں ...
یہ 6 اور 8 سالہ بہنیں انٹرنیٹ پر ایک ایسا کام کرتی ہیں کہ صرف دنوں میں کروڑوں روپیہ کما لیتی ہیں، اتنی کمائی جس کا اکثر لوگ پوری زندگی خواب ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) چھ سے آٹھ سال کی عمر کے ننھے بچے کھیل کود کے سوا کچھ نہیں جانتے، مگر امریکا میں دو ننھی بہنیں اینا بیل اور وکٹوریا اس چھوٹی عمر میں ہی اس قدر دولت کما رہی ہیں کہ بڑی بڑی کاروباری شخصیات بھی سن کر گھبرا جائیں۔

ویب سائٹ under18ceo کی رپورٹ کے مطابق 6سالہ اینابیل اور 8 سالہ وکٹوریا بھی عام بچوں کی طرح ہی کھیل کود اور ہنسی مذاق کی شوقین ہیں لیکن انہوں نے اپنے اس شوق کو ایک ایسے کام میں بدل دیا ہے کہ جس سے انہیں ہر ماہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ ان دونوں بہنوں کیلئے ان کے والد نے یو ٹیوب پر ایک چینل ٹوائے فریکس قائم کیا جو 4 سال قبل شروع ہوا، اور اب اس ویب سائٹ کے مقبول ترین چینلز میں سے ایک ہے۔ اس چینل پر دونوں ننھی بہنوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں جن میں وہ زندگی کے دلچسپ و عجیب تجربات سے دو چار ہو تی نظر آتی ہیں۔ کھلونوں سے جنون کی حد تک محبت ان ویڈیوز کا لازمی عنصر ہے اور دنوں بہنوں کی زندگی میں پیش آنے والے معصومانہ تجربات بھی اکثر ویڈیوز کا حصہ نظر آتے ہیں۔

’ خواتین کو دراصل یہ والی صلاحیت رکھنے والے مَردوں کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جدید تحقیق میں ایسا انکشاف کہ مردوں کے آج تک کے سب خیالات غلط ثابت ہو گئے

آپ کو یہ جان کر شدید حیرت ہو گی کہ اس یوٹیوب چینل پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز کو ماہانہ کروڑوں بار دیکھا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ان بچیوں کی ویڈیوز کو 41کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔ اگر اینابیل اور وکٹوریا کے بلاگ کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان کی ویڈیو ز کو ہر ماہ 60 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جاتا ہے۔ اس بڑی تعداد میں ویڈیوز دیکھی جارہی ہوں یقیناًآمدنی بھی خوب ہو گی ۔ اینا بیل اور وکٹوریا کا یو ٹیوب چینل انہیں ہر ماہ 17 لاکھ ڈالر (تقریباً 17 کروڑ پاکستانی روپے ) کی آمدنی فراہم کرتا ہے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیجئے کہ گزشتہ 4سال کے دوران ان ننھی لڑکیوں نے کتنا پیسہ کمایا ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -