’ میں ٹیکسی میں بیٹھی تو ڈرائیور مجھے انجان راہوں پر لے گیا اور پھر۔۔۔ ‘ سعودی خاتون نے ایسی آپ بیتی بیان کر دی کہ لڑکیاں ٹیکسی سے ہی دور بھاگنے لگیں

’ میں ٹیکسی میں بیٹھی تو ڈرائیور مجھے انجان راہوں پر لے گیا اور پھر۔۔۔ ‘ ...
’ میں ٹیکسی میں بیٹھی تو ڈرائیور مجھے انجان راہوں پر لے گیا اور پھر۔۔۔ ‘ سعودی خاتون نے ایسی آپ بیتی بیان کر دی کہ لڑکیاں ٹیکسی سے ہی دور بھاگنے لگیں

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جہاں خواتین جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے والا لباس پہنتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ امر تشویشناک ہے خواتین کو حراساں کرنے کا مسئلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ سعودی گزٹ اور روزنامہ اوکاز نے اس مسئلے پر خواتین سے بات کی تو متعدد چشم کشا انکشافات سامنے آئے۔

’جو بھی اب یہ شرمناک کام کر ے اسے 5 سال کیلئے جیل میں ڈال کر ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی کرو ‘

ثمر امین نامی کالج کی طالبہ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا، ” میں ٹیکسی میں سفر کر رہی تھی کہ ڈرائیور نے اچانک قابل اعتراض گفتگو شروع کر دی۔ پھر اس نے نے اچانک گاڑی ایک ایسی سڑک کی جانب موڑ لی کہ جس کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ گاڑی واپس موڑے۔ جب اس نے بات نہ مانی تو میں نے چیختے ہوئے کہا کہ گاڑی موڑو ورنہ میں چھلانگ لگا دوں گی، جس پر وہ خوفزدہ ہو گیا اور گاڑی واپس ہائی وے کی جانب موڑ لی۔ “

لبنیٰ عمر نامی ایک طالبہ نے بتایا کہ ان کے ہاں کام کیلئے آنیوالا نیا ڈرائیور انہیں پہلے دن ہی کالج لے کر گیا تو راستے میں دیدہ دلیری کے ساتھ ان کے ساتھ فلرٹ کر نے کی کوشش کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس واقعہ کے متعلق اپنے والد کو بتایاجنہوں نے اسے فوری طور پر ملازمت سے نکال دیا۔

مزید : عرب دنیا