’’دہشت گرد استاد ‘‘

’’دہشت گرد استاد ‘‘
’’دہشت گرد استاد ‘‘

  

تحریر :ڈاکٹر رانا تنویرقاسم  

نئی نسل کی تعمیر و ترقی،دنیائے انسانیت کی نشو ونما ،معاشرے کی تعمیرو تشکیل اور فرد وبشر کی فلاح وبہبود میں ایک کامیاب معلم اور باکمال استاد کا جتنا بڑا مقام ہوتا ہے شاید کہ کوئی اس درجے کو پاسکے۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کو معلم انسانیت اور استاد کل کے نام سے پکارا گیا کیونکہ استاد حقیقی باپ سے زیادہ درجے کے حامل اور عزت وشرف میں اللہ کے سوا سبھوں میں ممتاز ہوتے ہیں جنہیں قوم کا حقیقی رہنما اور نسل انسانی کا کامل پیشوا مانا جاتا ہے جس سے علم کا دریا بہتا ہے۔عمدہ اخلاق کی فضا ہموار ہوتی ہے۔امن وامان کا سایہ فگن ہوتا ہے،حقیقی زندگی کی تازگی اور کامیاب منزل کی نورانی نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں:بھارتی آبدوزکے ارادے کیا تھے؟

ہارون رشید کے دربار میں جب کوئی عالم/استاد تشریف لاتے تو ہارون رشید ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہوجاتے۔اس پر انکے درباریوں نے ان سے کہا اے بادشاہ سلامت! اس طرح سلطنت کا رعب جاتا رہتا ہے تو ہارون رشید نے جو جواب دیا یقیناًوہ آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔آپ نے کہا اگر علماء /اساتذہ کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جائے۔

ایک استاد دہشت گرد تب بنتا ہے جب وہ تدریسی اخلاقیات سے عاری ہو کر حیوانی رویے اپنا تا ہے اور اپنے طالب علموں کو ڈنڈے سے ہانکتا ہے جیسے ایک چرواہا اپنے ریوڑ کو،جب اس کی زبان کی تاثیر اوراسکے جذبوں کی حلیمی دم توڑ جاتی ہے۔ بچوں کو بالوں سے پکڑنا، تھپڑمارنا ،بنچ پر کئی گھنٹے کھڑا رکھنا،ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان پنسل پھنسا کر دبانا،مرغا بنا کر ڈنڈے برسانا جب وہ اپنا حق سمجھنے لگ جائے ، پھر تشدد یہیں تک رہے تو قابل برداشت مگر جب وہ تعلیم دلانے کے نام پر وحشیانہ تشدد کرکے پھول جیسے بچوں کوذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کرنے لگ جائے تو پھر اسکے دہشت گرد ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے؟ سکولز ہوں یا دینی مدارس اساتذہ کا بچوں پر تشدد اب ایک عام سی بات ہے۔’’مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ باقی نعروں کی طرح دیواروں پر پر ہی لکھا رہ گیا، مجھے بھی ٹاٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا’ اعزاز ‘حاصل ہے۔مجھے یاد ہے بعض والدین اپنے بچوں کو سکول چھوڑتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ماسٹر جی بچے کی ہڈیاں ہماری اور جسم آپ کا۔زمانہ طالب علمی کے دوران سکول میں ماسٹر جی کے ہاتھو ں ڈنڈوں سے پٹائی کی کوئی شکایت نہیں کرتا تھا بلکہ ہم اپنے ہاتھوں پر لگے چھڑی کے نشان گھر جاکر دکھایا کرتے تھے۔ مرغا بناکر پڑنے والے ڈنڈے ہمیں آج بھی یاد ہیں بلکہ کمرپر چھڑی کی شدت سے بچنے کے لیے سردیوں میں موٹے سویٹر پہنا کرتے تھے۔بات لائق یا نالائق کی نہیں ہوتی تھی۔ طفلانہ شرارتیں اور حرکتوں کی وجہ سے بھی پٹائی ہو ا کرتی تھی۔

مزید ُپڑھیںَ:ہمیں تو سعودی عرب سے کھجور اور آب زم زم کے سوا کچھ نہیں ملتا ، حکمرانوں کو سٹیل ملیں تحفہ میں کیسے مل جاتی ہیں:سینیٹر سراج الحق

مارنا استاد کا حق سمجھا جاتا اور مار کھانا طالب علم پر فرض عین تھا۔ حکومت کی طرف سے خبردار ہو شیار کے اعلانات ہوتے تھے اور نہ ہی کوئی ہدایت دی جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ سکولوں میں وزٹ کرنے والی مانٹیرنگ ٹیمیں اس قسم کے تشدد پر سوال بھی نہیں اٹھاتی تھیں۔ یعنی مار کوسرکاری تحفظ حاصل تھا،البتہ اس مار میں تشدد کی انتہا نہیں تھی کہ آپ طالب علم کو اسکے اعضا سے محروم یامفلوج کردیں،دینی مدرسہ کا ماحول بھی دیکھنے کا اتفاق ہو ا ہے،تشدد وہاں بھی ہوتا ہے بلکہ اس حد تک کہ بعض والدین بچوں کو زنجیروں میں اپنی نگرانی میں باندھ کر جاتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین سے بڑھ کر بچوں کی عادات ونفسیات سے کوئی دوسرا واقف نہیں ہو سکتا،بگڑے اور باغی بچوں کا اس زمانے میں یہی بہترین علاج تجویز کیا جاتا تھا۔سر منڈوادینا بھی سزا کی اقسام میں شامل ہوتاتھا۔اس قسم کی سزا آج بھی کہیں نہ کہیں دکھائی دیتی ہے۔حالیہ دنوں میں امریکا میں شرارتی بچوں کو سدھارنے کا انوکھا طریقہ سامنے آیا، امریکی ریاست اٹلانٹا میں ایک حجام نے والدین کے لیے شرارتی بچوں کو سزا دینے کا انوکھا طریقہ متعارف کراتے ہوئے بچوں کے بال بزرگوں کی طرح کاٹنا شروع کردیئے۔شرارتی بچوں کو سزا دینے میں ہیئر ڈریسرزنے اپنی خدمات پیش کیں، بچوں کے بالوں کو اس طرح کاٹا جاتا کہ وہ بوڑھے شخص کی طرح نظر آنے لگتے ہیں جس کے بعد وہ شرمندگی سے اپنے دوستوں کے پاس بھی نہیں جاسکتے اور سب سے بڑھ کر کچھ دیر کے لیے اپنی شرراتیں بھول جاتے ہیں۔

ایک حجام کا کہنا تھا کہ لوگوں کی اکثریت نے اسے بچے کو سدھارنے کا اچھا اقدام قرار دیا تاہم بعض افراد نے اس پر تنقید بھی کی۔المختصر بچوں کو کنٹرول کرنے کے ہرزمانے میں مختلف طریقے رائج رہے ہیں۔ آجکل اگر چہ شہری سکولوں میں خاص طور پر انگلش میڈیم میں اس قسم کی سزاؤں کا رحجان نہ ہونے کے برابر ہے تاہم سرکاری سکولز میں خاص طور پر دیہات میں آج بھی اس قسم کا تشدد ہوتا ہے۔اگلے روز کی بات ہے کہ لاڑکانہ میں قائم نجی کیڈٹ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے آٹھویں جماعت کے طالب علم کو استاد نے مبینہ طور پر اس بے دردی سے مارا کہ وہ دماغی طور پر معذور ہوگیا۔ میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے بلکہ تمام اساتذہ کے لیے باعث شرم بھی ہے۔میں سوچ رہا تھا کہ اس طرح کا تشدد کسی دینی مدرسہ کے استاد سے ہوا ہوتا تو آج میڈیا میں ایک طوفان کھڑا ہو جاتا، این جی اوز مدرسہ کے استاد کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتیں،قومی وصوبائی اسمبلیوں میں مذمتی قراردادیں پیش ہورہی ہوتیں اورمغربی ذرائع ابلاغ کی ٹاپ سٹوری ہوتی۔اس آڑ میں دینی مدارس کے نظام، نصاب اور کلچر پر دانشوروں کی طرف سے مضامین اور تبصروں کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آتا۔چونکہ مذکورہ واقعہ ایک کیڈٹ کالج میں پیش آیا ہے،اس لئے اس پر وہ ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔متاثرہ بچے کے والد کے مطابق ان کا بیٹا محمد احمد حسین 6 بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے اور اس کو خود بھی معلوم نہیں کہ اس کے استاد نے اس پر وحشیانہ تشدد کیوں کیا، جس سے وہ معذور ہوگیا؟۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ہونہار طالب علم ہے اور امتحانات میں بہترین نمبر لے کر پاس ہوتا رہا ہے، استاد کی جانب سے ان کے ہونہار بچے پر تشدد کی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے۔انھوں نے بتایا کہ بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔نجی کیڈٹ کالج کے ایک استاد نے محمد احمد حسین کو اس بری طرح سے مارا پیٹا کہ اس کا جسم سوج گیا اور سر پر چوٹیں آنے کی وجہ سے دماغ کو آکسیجن کی سپلائی بند ہوگئی، جس کی وجہ سے ہنستا مسکراتا احمد حسین دماغی طور پر معذور ہوگیا۔مذکورہ واقعے کے بعد نہ تو محمد احمد حسین اب چل سکتا ہے نہ ہی بات چیت کرسکتا ہے۔متاثرہ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ کراچی کے ایک معروف ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اس کے علاج کیلئے اپنی سی کوششیں کرکے دیکھ لی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا علاج صرف امریکہ میں ممکن ہے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے لاڑکانہ کے نجی کیڈٹ کالج کے طالبعلم پر مبینہ تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس پر تشدد ثابت ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔غالبا2013 ء میں قومی اسمبلی میں پاس کیے جانے والے بل کے تحت بچوں پر تشدد کرنیوالے شخص کو ایک سال قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔جسمانی سزا دینے والے شخص کے خلاف بچہ خود یا اس کے والدین یا سرپرست مجسٹریٹ کو درخواست دے سکیں گے۔

یہ امر تو یقیناً مستحسن ہے کہ قومی اسمبلی نے وفاقی سطح پر تو بل پاس کردیا ہے،لیکن تاحال صوبائی سطح پر ایسے قوانین کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق معصوم بچوں پر جسمانی تشدد سے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بچوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔بچے مارپیٹ کی وجہ سے ڈھیٹ بن جاتے ہیں یا پھر گھر سے فرار ہوجاتے ہیں۔۔۔اسی تشدد آمیز رویے کے باعث ہزاروں بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف قانون بنانے سے تو مسائل حل نہیں ہوتے اصل چیز قانون پرعملدرآمد اور اس کا مکمل اطلاق ہے ، قانون کی پاسداری کروانا بھی حکومت کی اولین ذمے داری بنتی ہے۔ بچوں کے ساتھ حسن سلوک ، چاہت اور پیارکے انداز ہمیں سیرت رسول ﷺ کے مطالعے سے ملتے ہیں۔ بچوں سے شفقت اور پیار سے پیش آنا نہ صرف حسن خلق ہے بلکہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کی طرف پہلا قدم بھی ہے بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے ہادی ورہبر نبی اکرم ﷺ کی پیروی کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں بچوں سے پیا ر کرنا چاہیے ان کو مارنا نہیں چاہیے، کیونکہ مارنے سے وہ ڈر جاتے ہیں اور پھر پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے۔ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ بچوں پر نفسیاتی تشدد کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں جس سے بچوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور بچوں کے معصوم ذہنوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جب اساتذہ ہمیں مارتے تھے تو ہم سکول نہیں جایا کرتے تھے اور دو دو دن اسکول تک سے غائب رہتے تھے۔

سکول اور مدرسے کے اساتذہ میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو دی جانے والی جسمانی سزائیں ان کے مستقبل کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ ذاتی طور پر بھی اور معاشرتی طور پر، میں یہی کہوں گا کہ بچوں کو مار سے نہیں پیار سے سمجھانا چاہیے، تشدد سے بچے سدھرجائیں گے، یہ بالکل غلط سوچ ہے،جدید تعلیمی رجحانات سے واقف، تعلیمی نفسیات کے ماہر اور طلبا کو شفقت سے پڑھانے والے اساتذہ ہی ملک کے تعلیمی بحران کو کم کر سکتے ہیں۔ایک مثالی استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعتدال پسندی اور نرم مزاجی کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائے۔ تدریسی عمل میں استاد کا نرم و شیریں لہجہ اور مشفق رویہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی تکلم فر ماتے آپ کا لہجہ نہایت ہی شیر یں اور ملائم ہو تا اور آپ ﷺ کی تعلیم سامعین کی دلوں پر راست اثر کر تی تھی۔ استاد دانشمند انہٍ روایات کی منتقلی اور تہذیب کے چرا غوں کو روشن کر تا ہے۔ یک استاد کا مائنڈ سیٹ اسکے رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔اسے اپنے علم کے ساتھ اپنے اخلاق کا بھی پہرہ دارہونا چاہیے۔اسے سوچنا چاہیے کہ وہ کہیں پنے علم سے سماج دشمنی کی طرف تو مائل نہیں ہو رہا؟ اسکے انسان دوست جذبات قابو میں رہنے چاہیے۔اسے اپنی منفی اور تخریبی سوچ سے تدریسی اخلاقیات پامال نہیں کرنی چاہیے۔ایک جارح ٹیچر کے ماحول کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسکا دقیانوسی انداز وفکر کہیں ارد گرد کے تنگ دست ماحول کے سبب تو نہیں؟ اسکے اپنے پیشے سے والہانہ لگاؤ کی کمی کے کیا اسباب ہیں؟ پھرٹیچرز کے انتخاب کے وقت محض یہ نہ دیکھا جائے کہ وہ گولڈ میڈل اور ٹاپر ہے بلکہ اس کی قو ت اعتمادی ،شخصیت ،بصیرت، معاملہ فہمی، مرببانہ مزاج کو بھی دیکھنا چاہیے۔ایک استاد وہ مقام اور صلاحیت رکھتا ہے کہ اپنے عمل وکردار سے طلبہ کے کردارکی بہتر تعمیر بھی کرسکتا ہے اور انھیں تراش کر ہیرا بھی بناسکتا ہے، ہمیں مستقبل کے ہیرے تراشنے کی کوشش کرنی چاہیے اگرچہ یہ سخت کٹھن اور مشکل مرحلہ ہے مگر ناممکن۔۔۔

مزید : بلاگ