چیئرمین نیب کاکامیاب دورئہ چین۔۔۔بد عنوانی کے خاتمہ کےلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

چیئرمین نیب کاکامیاب دورئہ چین۔۔۔بد عنوانی کے خاتمہ کےلئے مفاہمت کی یادداشت ...
چیئرمین نیب کاکامیاب دورئہ چین۔۔۔بد عنوانی کے خاتمہ کےلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

  

تحریر :بشریٰ خان

عوامی جمہوریہ چین پاکستان کابہترین دوست ہے پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور شہر سے میٹھی ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات مثالی ہیں چین نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستی کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں۔ چین کے صدر نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر دستخط کرکے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو جہاں نئی جہت عطا کی وہاں اس منصوبہ کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان کی معیشت ترقی کرے گی بلکہ گوادر ائرپورٹ کی ملکی اور بیرونی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا ۔گوادرپورٹ پوری دنیا خصوصاً سنٹرل ایشین ریاستوں کےلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کی تکمیل سے پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت میں اضافہ ہوگا،وہاں معاشی ترقی بھی ہوگی۔

بدعنوانی ایک لعنت ہے جو پوری دنیا کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جن ملکوں نے بدعنوانی پر قابو پانے کےلئے اقدامات اٹھائے ان ممالک کی معیشت نے ترقی کی، بد عنوانی کو ملکی ترقی کے لئے زہر سمجھنے والے ملک چین نے بھی بدعنوانی میں کمی کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اورچین کے صدر مملکت کے بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جس کی وجہ سے چین میں بدعنوانی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ چین کا بہترین دوست پاکستان بھی ان چند ممالک میں سے ہے جس نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے آگاہی، تدارک اورنفاد کی پالیسی اپنائی جس کی وجہ سے ٹرانسپرسٹی انٹر نیشنل کی 2014 کی رپورٹ میں کرپشن پر سپشن انڈیکس 175 سے126 تک آگیا جب کہ 2015 کی رپورٹ کے مطابق126 سے 117تک پہنچ گیا۔ مزید برآں پاکستان سارک ممالک میں واحد ملک ہے جس کے کرپشن پر سپشن انڈیکس میں کمی آئی جبکہ سارک کے دیگر ممالک کے انڈیکس یا توبرقرار رہے یاان میں اضافہ ہوا۔ یوں پاکستان سارک میںایک رول ماڈل کے طور پر پہنچانا جاتا ہے جوکہ قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت ہے اور جب سے نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالتے ہی جو بروقت اورموثر اقدامات اٹھائے ان کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین نے شکایت سے انکوائری اورانکوائری سے تفتیش تک 10ماہ کا وقت مقرر کیا۔ اس کے علاوہ کمبائن انوسٹی گیشن(CIT)کا تصوردیا جس کی وجہ سے اب آپریشنل میتھا ڈلوجی میں بہتری کے ساتھ پراسیکیوشن میں بھی بہتر ی آئی ہے اور قومی احتساب بیورو کا Conviction Rate تقریباً 75 فیصد ہے جوایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

اس کے علاوہ سالانہ گریڈنگ سسٹم، مانیٹرنگ اینڈ ایلویلشن سسٹم، اندرونی احتساب کانظام اور سب سے بڑھ کر قومی احتساب بیورو کی اپنی جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فرانزک سائنس لیبارٹری کااسلام آباد میں قیام عمل میں لانا ہے، جس کی وجہ سے اب بدعنوان عناصر کےخلاف تفتیش کا معیار مزید بہتر ہوگا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے اپنے تجربہ اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت پاکستان میں بد عنوانی کے خاتمہ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے نہ صرف” کرپشن سے انکار“ کی قومی آگاہی مہم کا آغاز کیا بلکہ یونیورسٹیوں اورکالجز میں تقریباً 42 ہزار کریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا،جس کی سب سے بڑی وجہ نوجوان ہیں جو کہ پاکستان کااثاثہ اورمستقبل ہیں ان کی کردار سازی پر توجہ دینے اور انہیں بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں جبکہ مستقبل میںیونیورسٹیوں اور کالجز میں مزید کریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے بدعنوانی کے خاتمے کےلئے اپنی کاوشوں کو مزیدمربوط اور منظم بنانے کےلئے عوامی جمہوریہ چین جو پاکستان کا دوست ملک ہے اور اس نے بدعنوانی کے خاتمے کےلئے جو گرانقدر اقدامات اٹھائے ہیں ان اقدامات کی روشنی میں پاکستان اورچین کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید بڑھانے کےلئے قومی احتساب بیورو نے وزارت خارجہ کے ذریعے حکومت پاکستان کی منظوری سے نہ صرف چین کے ساتھ بدعنوانی کے خاتمے کےلئے روابط بڑھائے بلکہ بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے پاکستان کے عزم کا بھی اظہار کیا جس کا عوامی جمہوریہ چین نے مثبت انداز سے جواب دیااورعوامی جمہوریہ چین کے وزیر برائے سپرویژن اور انسپکشن ہوآنگ شکشیان نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کوچین کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔جس کو قبول کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی اجازت سے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین چین کے دورہ اور مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کےلئے پہلے سے طے شدہ چین کے سرکاری دورہ کیا جہاں چین کے وزیر برائے سپرویژن اور انسپکشن ہوآنگ شکشیان اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے دونوں ممالک کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت(MOU) پربیجنگ میں دستخط کئے جس سے چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے تناظر کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بد عنوانی کے خاتمہ اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔چین کے حکام نے دونوں ممالک کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا ۔ چینی حکام نے قومی احتساب بیورو کی چیئرمین قمر زمان چوہدری کی قیادت میںنیب کی کارکردگی کو سراہا اورمستقبل میں بد عنوانی کی روک تھام کےلئے تعاون کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین حقیقی دوست ہیں دونوں ممالک کے درمیان بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے کاوشیں کرنے کے عملی اقدامات کی بدولت قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کے دورہ چین کو کامیاب قرا ر دیتے ہوئے چینی قیادت نے پاکستان کےلئے نیک خواہشات کااظہار کیا۔

مزید : بلاگ