فیض احمد فیض اور صحافت (2)

فیض احمد فیض اور صحافت (2)
 فیض احمد فیض اور صحافت (2)

  

اس کے بعد فیض ؔ صاحب لاہور آگئے اور ہیلے کالج آف کامرس میں انگریزی کے لیکچرر ہو گئے انہی دنوں کے حوالے سے فیضؔ خود لکھتے ہیں:’’جب تین طرف سے فاشسٹوں کا ریلا یعنی مشرق سے برما، مغرب سے شمالی افریقہ، اور شمال سے جنوبی روس کی طرف بڑھنے لگا اور اپنا دیس بھی اس سہ شاخہ یورش کی زد میں نظر آنے لگا تو مَیں نے ہندوستانی فوج میں ملازمت کرلی‘‘۔۔۔۔فیضؔ صاحب1942ء میں لڑکپن کے دوست میجر مجید ملک کے مشورے پر فوج میں کپتان ہو گئے اور ان کی خدمات نشر و اشاعت اور باشندگان مُلک کے شعبے کو تفویض کی گئیں۔

ان کے ہمہ گیر فرائضِ منصبی میں مختلف محاذوں سے روزانہ وائرلیس پر موصول ہونے والی خبروں کو یکجا کر کے جنگی خبر نامے تیار کرنا ، ان پر تبصرے لکھنا اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے برقیوں سے لے کر اخبار و رسائل کی اشاعت تک کا کام شامل ہوتا تھا۔

فیض نے نشر و اشاعت و اطلاعات کا یہ کام اتنی قابلیت اور کامیابی سے کیا کہ 1943ء میں میجر اور 1944ء میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی، جنگ کے اختتام پر M.B.E ،یعنی رُکن مملکت برطانیہ کے خطاب سے سرفراز ہوئے ۔

دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمے کے بعد فیض فوجی ملازمت چھوڑنے کا سوچنے لگے ، انہوں نے محکمہ تعلیم کو دوبارہ استادی لوٹانے کی درخواست بھی کی، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک روز اچانک انہیں ایک انگریزی روزنامے کی ادارت سنبھالنے کی دعوت ملی۔ ڈاکٹر ایوب مرزا کی کتاب ’’فیض نامہ‘‘ کے مطابق فیض خود اس کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ : ’’ایک دن میاں افتخار الدین صاحب ہمارے پاس آئے اورکہا دیکھو ہم لاہور سے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے نام سے انگریزی اخبار نکال رہے ہیں اور تمہارا نام چیف ایڈیٹری کے لئے طے پا گیا ہے۔

مَیں نے کہا:’’ میاں صاحب آپ کمال کر رہے ہیں‘‘ مَیں نے صحافت میں کبھی قدم نہیں رکھا ۔ بھلا اتنا بڑا پرچہ کیسے چلا سکتا ہوں؟ میرا سیدھا سادا سا جواب سن کر میاں صاحب ناراض ہوئے اور کہا: مَیں کوئی بے وقوف ہوں، تم نے مجھے جاہل سمجھاہے جو تمہارا نام تجویز کر آیا ہوں ؟ اگر نا تجربہ کاری دلیل ہے تو فوج کا تمہیں کہاں تجربہ تھا ؟ بس اب فوج سے ریلیز کی درخواست بھجوا دو، اور دو ماہ میں پرچہ سڑکوں پر ہونا چاہئے ‘‘ ۔۔۔ فیض صاحب نے میاں افتخار الدین کی پیش کش تھوڑے غور و فکر کے بعد قبول کر لی ۔

ویسے بھی ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ بری نہیں تھی ۔انہوں نے فوج سے مستعفی ہو کر اخباری ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اس انہماک سے کام کیا کہ سونپی گئی ذمہ داری کے مطابق 4 فروری 1947ء کے دن ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کا شمارہ لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا ۔

شروع میں مدیراعلیٰ کی مدد سے سینئر انگریز صحافی ’’ڈیسمنڈینگ ‘‘کا تقرر بھی کیا گیا جو صحافت و اشاعت کے کام کی باریکیوں سے فیض صاحب کو آشنا کرتا تھا، مگر لُدمیلاوسیلئیوا کے مطابق فیضؔ نے جلد ہی فن صحافت میں مہارت حاصل کر لی،اس انگریزمعاون کو خود ہی یہ احساس ہو گیا کہ بحیثیت اتالیق اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ابتداء میں ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس میں چھپتا رہا، مگر چند ماہ بعد پاکستان معرض وجود میں آگیا اور اسی دوران وہاں سے نکلنے والا اخبار ’’ٹریبیون‘‘ بند ہو گیا تو پی پی ایل کے میاں افتخار الدین نے اس پریس کو بلڈنگ سمیت خرید لیا ۔ فیض ؔ صاحب نے اس اخبار کے لئے جو ٹیم منتخب کی وہ ان ہی کا حسن انتخاب ہو سکتا تھا۔ مظہر علی خاں ان کے ساتھ جوائنٹ ایڈیٹر بنے تو زہیر صدیقی اور احمد علی خاں بھی ان کی ٹیم کا حصہ تھے ۔ فیض کی یہ صحافتی ٹیم آگے چل کر ملکی صحافت کی نئی سمت متعین کرنے میں بھی معاون ثابت ہوئی۔

جدوجہد پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے میں ’’پاکستان ٹائمز‘‘جیسے روزنامے کے اجراء نے تحریک پاکستان کو تقویت پہنچائی۔ پھرحصول پاکستان کے بعد تعمیر وطن کے ابتدائی مراحل میں فیض صاحب کی زیر ادارت ’’پاکستان ٹائمز‘‘نے زور و شور سے حصہ لیا ۔

مختصر سے عرصے میں ہی ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کا شمارموقر اور ممتاز روزناموں میں ہونے لگا، چنانچہ جلد ہی پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر انتظام ’’پاکستان ٹائمز‘ ‘کے مماثل اردو روزنامہ ’’امروز‘‘کے نام سے 4 مارچ1948ء کو جاری کیا گیا ۔ اس وقت ’’پاکستان ٹائمز‘ ‘کو ایک سال مکمل ہو چکا تھا۔

’’امروز‘‘ جاری ہوا تو فیض صاحب اس کے بھی چیف ایڈیٹر ہو گئے ۔ ’’امروز‘ ‘کا پہلا اداریہ بھی انہی کا رقم کردہ ہے ۔انہوں نے امروز کے ادارتی عملے میں مولانا چراغ حسن حسرت ، پروفیسرمحمد سرور اور حامد علی خاں کو شامل کر لیا۔ فیض ؔ صاحب کی انتھک محنت نے دونوں اخبارات کو شہر ت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔

’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ کے حوالے، کبھی اختلافی نوٹ کے ساتھ ہی سہی،نہ صرف پاکستانی اخبارات، بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لئے بھی روز مرہ کا معمول بن گیا اور فیض ؔ صاحب کا شمار پاکستان کے صف اول کے مدیروں اور صحافیوں میں ہونے لگا تھا ۔

1948ء میں پاکستان میں پریس کی آزادی پر پہلی ضرب اس وقت پڑی جب پنجاب کی حکومت نے ’’سویرا‘‘۔۔۔ ’نقوش‘‘ اور’’ادب لطیف‘‘ ضبط کر لئے۔ یہی وہ وقت تھا ،جب ملکی پریس حکومت مخالف اور موافق دھڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا ۔

فیض کی زیر ادارت نکلنے والے اخباروں نے اس ضبطی پر سخت تنقید کی تو باغی اخباروں کی ضبطی کے ساتھ ہی باغی صحافیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔

1948ء میں ’’امر وز‘‘ لاہور میں ایک خبر کی اشاعت پر فیض احمد فیضؔ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے گئے اور انہیں لاہور کے ڈپٹی کمشنر ظفر الحسن کی عدالت میں طلب کیا گیا۔انہوں نے پیرول یا شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا عندیہ دیا،لیکن فیض صاحب نے انکار کر دیا ۔

جب محمود علی قصوری کو ان کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ فوراً ان کی طرف سے پیروی کرنے عدالت پہنچے۔ فیض ؔ صاحب نے انہیں بھی روک دیا ۔ آخر کار خود عدالت نے فیض کی پیروی کے لئے وکیل مقرر کیا اور دلائل سننے کے بعد ’’باعزت‘‘ طور پر رہا کر دیا ۔ اگلے روز کے ’’امروز‘‘ میں فیض صاحب کے دستخطوں کے ساتھ ایک سخت اداریہ شائع ہوا۔

یہ پی پی ایل کے اخباروں کی تاریخ میں پہلا اور آخری اداریہ تھا جو ان کے نام کے ساتھ شائع ہوا ۔ دستخط کر کے انہوں نے اس سخت اداریے کی تمام تر ذمہ داری اپنے سر لے لی ۔

فیض صاحب ہمیشہ آزادی صحافت کے لئے کوشاں رہے، مثلاًماہنامہ ’’جاوید‘‘ لاہور نے، جس کے ایڈیٹر عارف عبدالمتین اور مالک نصیر انور تھے ، مارچ 1949ء میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ شائع کیا ۔

اس کی اشاعت کے ایک مہینے بعد پنجاب پریس برانچ حرکت میں آگئی اور اس رسالے کو ضبط کر لیاگیا، پھر معاملہ پریس ایڈوائزری کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، جس کا اجلاس’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے دفتر میں ہوا ۔

منٹو کے مطابق کنوینر فیض احمد فیضؔ کے علاوہ حمید نظامی ، وقار انبالوی، ایف ڈبلیو بسٹین، امین الدین صحرائی، مولانا اختر علی خان، اور پولیس کی پریس برانچ کے چیف اس اجلاس میں شریک ہوئے، فیض صاحب کے سوا تمام شرکاء نے منٹو کے خلاف گواہی دی ۔

اپریل 1949ء میں ایسٹرن نیوز ٹرسٹ قائم کیا گیا،جس نے رائٹر زسے پاکستان میں موجود یونٹ خرید لئے، اس طرح اے پی پی وجود میں آئی، جس کے منیجنگ ٹرسٹی ملک تاج الدین تھے، جبکہ دوسرے ٹرسٹیوں میں فیض احمد فیضؔ بھی شامل تھے۔

1951ء میں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور تقریباً چار سال تک عملی صحافت سے دور رہے ۔ دوران اسیری ان کے گھریلو معاملات کا سہارا بھی صحافت ہی بنی ۔

فیض کی گرفتاری کے بعد اخبار کے مدیر اعلیٰ کے عہدے پر ان کے ساتھی مظہر علی خاں مقرر ہوئے۔انہوں نے ایلس فیض کو ’’پاکستان ٹائمز ‘‘میں خواتین اور بچوں کے صفحات کی مدیرہ کا کام سونپ دیا ۔ ایلس نے 1962 ء تک یہ کام کیا ۔

فیض صاحب بھی رہائی کے بعد واپس ’’پاکستان ٹائمز‘ ‘ میں آگئے اور پہلے کی طرح مضامین اور اداریوں میں دو ٹوک انداز میں سرکاری سیاست کے خلاف آواز اٹھانے لگے اور حکومت کی داخلہ پالیسی کو عوام اور خارجہ پالیسی کو امریکہ نواز کہنے سے گھبرائے نہیں ۔ پی پی ایل ہی کی طرف سے 20جنوری 1957ء کو ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ لاہور سے جاری کیا گیا۔

اس پرچے کے ابتدائی شماروں پر فیض صاحب کا نام مدیر کے طور پر شائع ہوا ،لیکن چند ماہ بعد ان کا نام چیف ایڈیٹر اور سبط حسن کا نام مدیر کی حیثیت سے شائع ہونے لگا ۔

فیض صاحب کی زیر ادارت پی پی ایل کے اخباروں اور رسائل نے ملکی صحافت میں اہم مقام حاصل کر لیا ۔ ان پرچوں نے نہ صرف نئے صحافتی رجحانات متعارف کروائے، بلکہ بیرونی دُنیا میں بھی پاکستانی صحافت کا نام روشن کیا ، لیکن ارباب اقتدار کو ان اخبارات کی بے باکی اور حق گوئی کبھی پسند نہ آئی ۔

پھر ایوب خاں کے ’’پُر امن انقلاب‘‘ کے ایک ہفتے کے اندر اندر صحافت کو پابندِ سلاسل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔(جاری ہے)

مزید : کالم