وائس چانسلر کیسے ہونے چاہئیں؟

وائس چانسلر کیسے ہونے چاہئیں؟
 وائس چانسلر کیسے ہونے چاہئیں؟

  


تعلیم کو نت نئے بے سروپا تجربات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، صوبائی حکومت نے گزشتہ دنوں جامعات کے سربراہان کی تقرری کے لئے جو نئی پالیسی جاری کی ہے، اس کے مطابق جامعہ کے سربراہ کے لئے پی ایچ ڈی کی ڈگری کا ہونا لازم نہیں رہا، گویا کوئی ایم اے شخص بھی جامعہ کا سربراہ بن سکتا ہے۔نئی پالیسی کے مطابق اس عہدے کے لئے بالائی عمر کی حد جو پینسٹھ برس تھی، ختم کر دی گئی ہے ۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ حکومت دراصل اب جامعات کو بھی بیوروکریسی کے ذریعے چلانا چاہتی ہے۔یہ ایڈمنسٹریشن کا ایک بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی ادارے یا محکمے کے متعلق پالیسی بنانے سے پہلے اس ادارے اور محکمے کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ضرور کی جاتی ہے، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ زیر نظر پالیسی جاری کرنے سے پہلے اس قسم کے کسی تکلف کو برتنا ضروری نہیں سمجھا گیا، یہی وجہ ہے کہ جامعات کے اساتذہ کی تنظیموں نے اس پالیسی کے خلاف بھرپور صدائے احتجاج بلندکی ہے۔

ایک اور دلچسپ کام یہ کیا گیا ہے کہ ہر جامعہ کے سربراہ کے انتخاب کے لئے الگ الگ سرچ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں،جن میں بعض ایسے حضرات کا نام نامی بھی شامل ہے، جن کے خلاف نیب میں مقدمات چل رہے ہیں۔ ذرا تصور کیجئے کہ وہ منظر کیسا ہو گا، جب کسی یونیورسٹی میں ایک ایسا سربراہ بیٹھا ہو گا، جس کا نہ تو درس و تدریس سے تعلق ہو گااور نہ ہی وہ فن تحقیق کو سمجھتا ہو گا۔

یہ درست ہے کہ انتظامی قابلیتوں کا حامل ہونا کسی بھی ادارے کے سربراہ کے لئے بے حد ضروری ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے میں اس کی پیشہ ورانہ قابلیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں روز اول سے ہی تعلیم کو وہ ترجیح نہیں مل سکی، جس کی وہ مستحق تھی ۔شہاب نامہ میں درج وہ واقعہ تو پاکستان کی تاریخ کے تمام طالب علموں کو یاد ہو گا کہ جنرل ایوب کی کابینہ میں جب تمام وزراء نے حلف اٹھا لیا تو تقریب کے اختتام پر پتہ چلا کہ تعلیم کا قلمدان توکسی کو نہیں سونپا گیا، لہٰذا فرا تفری میں ایک چپڑاسی کو باہر بھیجا گیا کہ جو وزراء کرام حلف کی تقریب کے بعد واپس جا رہے ہیں ان میں سے جو کوئی بھی موجود ہو اسے دوبارہ لے آ ئیں ایک وزیر صاحب جو گیٹ سے نکل رہے تھے ، ان کو واپس لایا گیا اور انہیں وزارت تعلیم کا قلمدان بھی سونپ دیا گیا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نہائت سوچ بچار کے بعد تعلیم جیسی وزارت کا قلمدان کسی ایسے دانشور صاحب علم کے سپرد کیا جاتا جو حقیقتاً اس کا اہل ہوتا اور مشنری جذبے کے ساتھ قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جاتا، لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد سے اعلیٰ تعلیم اور نصاب کے حوالے سے جو صورت حال سامنے آ رہی ہے، وہ نہایت تشویشناک ہے۔

یہ اسی اٹھارویں ترمیم کا شاخسانہ ہے کہ ہر صوبے، ہر شہر میں سوچے سمجھے بغیر نصاب میں ایسا مواد شامل کیا جا رہا ہے جو ملکی یکجہتی کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم سے قبل وفاقی سطح پر نصاب کے حوالے سے ایک مرکزی بورڈ ہوا کرتا تھا جس میں تمام مضامین میں شاندار مہارت رکھنے والے افراد شامل ہوتے تھے جو تمام تر مواد کو نہائت باریک بینی کے ساتھ پڑھنے کے بعد اس کی منظوری دیتے تھے، جس کی وجہ سے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ملکی یکجہتی و سلامتی اور ہماری معاشرتی و اخلاقی اقدار کے منافی کوئی لفظ نصاب میں شامل ہو سکے، لیکن جب سے نصاب سازی کو بھی صوبوں کے حوالے کیا گیا ہے۔

قومی یکجہتی کو نا قابل بیان نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہمارے ارباب سیاست کو ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ پالیسی سازی ایک ہمہ جہتی عمل ہے جو خلا میں ترتیب نہیں پا سکتا، اس کے لئے معاملے سے جڑی تمام اکائیوں کا متفق ہونا ضروری ہے، محض چند افراد کو نوازنے کے لئے کوئی پالیسی بنانا اداروں کے لئے تباہ کن اثرات کا حامل ہوتا ہے ۔

ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب دوسرے تمام اداروں و محکموں، حتی کہ عدلیہ اور پاک فوج میں بھی بالائی عمر کی ایک حد مقرر ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ جامعات میں سربراہان کی تقرری کے لئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کی جارہی؟کیا اس کا مقصد کسی منظور نظر کو فائدہ پہنچانا تو نہیں؟

وطن عزیز میں بے روزگا ری میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ منظور نظر معمر افراد کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مختلف اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر دیا جاتا ہے، اگر ہمارے پالیسی ساز یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ افراد واقعی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں تو ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بڑے بڑے عہدوں پر فائز کرنے کی بجائے رضاکارانہ بنیاد پر ان کی خدمات اور وسیع علم و تجربے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، لہٰذا ہم وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ جامعات کو کسی بڑی انتظامی افراتفری سے بچانے کے لئے خدارا اس پالیسی پر نظر ثانی کریں تاکہ ہماری جامعات میں درس و تدریس اور تحقیق کا کام جاری رہے، کیونکہ ایک وائس چانسلر کا کام کسی محکمے کے سیکرٹری کی طرح محض فائلوں پر دستخط کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا کام اپنی جامعہ میں علم و تحقیق دوست حالات پیدا کرنا ہوتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ملک بھر کی تمام جامعات میں وائس چانسلروں کی تقرری کے لئے وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نگرانی میں ایک ایسی مرکزی کمیٹی بنا دینی چاہیے جس میں بین الاقوامی سطح کے ماہرین تعلیم و دانشور شامل ہوں تاکہ ہماری جامعات کو ایسے سربراہان میسرہوں کہ وہ بھی امریکہ و یورپ کی جامعات کے ہم پلہ آ سکیں۔

مزید : کالم