ہر ہفتہ 2 ہزار پاکستانی ایران بارڈر پار کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں

ہر ہفتہ 2 ہزار پاکستانی ایران بارڈر پار کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں
 ہر ہفتہ 2 ہزار پاکستانی ایران بارڈر پار کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں

  


پنجاب سے ہر سال 20 سے 30 ہزار تک نوجوان یورپ جانے کے شوق میں ایران کا بارڈر پار کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں اور پھر ایرانی حکومت انہیں تفتان بارڈر پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیتی ہے اس کے بعد ایک نیا کھیل شروع ہو جاتا ہے وہ کھیل کیا ہے، اس کا ذکر آگے چل کر کیا جائے گا۔

اس گھناؤنے کھیل میں پنجاب کا ایک گروہ شریک ہے جو انسانی سمگلروں پر مشتمل ہے۔ پنجاب میں بے روز گاری نے اس گروہ کو لکھ پتی سے کروڑ پتی بنا دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایجنٹ کے ذریعے ایران کا ویزہ دلوایا جاتا ہے اس کے بعد لوگوں کوپنجاب کے مختلف شہروں سے کوئٹہ پہنچا دیا جاتا ہے یہ گروپ انہیں ایران بارڈر تک اپنی حفاظت اور نگرانی میں پہنچا دیتا ہے۔

اس کے بعد ان کو پاکستان کے مختلف سرحدی علاقوں سے ایران کے سرحدی حصے میں پہنچا دیتا ہے، ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہوتی ہے، جنہیں ایران سے ترکی اور اس کے بعد یورپ کے ممالک تک پہنچنا ہوتا ہے۔

ایران کے بارڈر پر سختی بہت زیادہ ہے عموماً ان کی گرفتاری ہو جاتی ہے اور یورپ کا خواب اُدھورا رہ جاتا ہے ایران انہیں اپنی جیلوں میں نہیں رکھتا بلکہ انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیتا ہے ریلوے سٹیشن پر ان سے اکثر میری ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور ان سے معلومات حاصل کرتا ہوں ان میں سے اکثر نوجوان وہ ہیں جوماؤں کے زیورات بیچ کر ویزہ حاصل کرتے ہیں اور ایران پہنچانے والے ایجنٹوں کو 2 سے 3 لاکھ روپے کی رقم ادا کرتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ اس رقم سے آپ لوگ اپنے علاقوں میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے اور کچھ نہیں تو ریڑھی ہی لگا لیتے تو بہتر ہوتا۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہوتی ہے جنہوں نے جینز کی پینٹ پہنی ہوتی ہے اور ان کی حالت انتہائی خراب ہوتی ہے۔ ایران پلٹ نوجوان آسانی سے شناخت کر لئے جاتے ہیں۔

بارڈر سے گرفتار ہونے کے بعد ایک دوسرا کھیل شروع ہو جاتا ہے ایف آئی اے انہیں پولیس کے حوالے کر دیتی ہے ان انسانی سمگلروں کا ایک مکمل نیٹ ورک موجود ہے اس گروہ کے ایجنٹ کوئٹہ میں موجود ہوتے ہیں اور ان گرفتار لوگوں کے لئے وکیل کا بندوبست ہوتا ہے اس گروہ کے پاس ان کے شناختی کارڈز، موبائل نمبر اور گھروں کے پتے ہوتے ہیں ان کے عزیز و اقارب سے ان کی ضمانت کے لئے رقوم وصول کرتے ہیں اور انہیں رہائی دلوا دیتے ہیں ان میں سے کچھ بالکل خالی ہاتھ اور خالی جیب لوٹتے ہیں یہ گروپ انہیں واپس پہنچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اس کی رقم وہ ان کے عزیز و اقارب سے وصول کر لیتے ہیں اس کھیل میں بارڈر کا عملہ اور پولیس شریک ہے اور اس کام کے لئے ان کے پاس وکیل موجود ہوتے ہیں یہ گروپ مکمل انتظامات رکھتا ہے حکومت پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ اس گروہ کا کھوج لگائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔

ان انسانی سمگلروں نے کئی خاندان تباہ کر دیئے ہوں گے، کئی خاندان قرض تلے دب چکے ہوں گے ، پھر یہ مایوس نوجوان بڑے آرام سے جرائم کی دنیا میں چلے جاتے ہوں گے۔ جتنے لوگ پکڑے جاتے ہیں ان کے پاسپورٹ پر ویزے لگے ہوتے ہیں لیکن یہ تمام افراد قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے ایران میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ان کو ایران کے سرحدی علاقوں سے جہاں نگرانی نہیں ہوتی ایران پہنچایا جاتا ہے۔

ایران کے شہر میں داخل ہوتے ہی گرفتار کر لئے جاتے ہیں اور پوچھ گچھ کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں۔ ان پر کوئی تشدد نہیں کرتے ہیں ان میں اکثریت فارسی زبان سے نابلد ہوتے ہیں اور گرفتار ہو جاتے ہیں ان کے مخصوص ہوٹل ہیں یہ سارا کام ایجنٹ ہی کرتے ہیں یہ ایک طاقتور اور با اثر نیٹ ورک ہے اب یہ حکومت پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ کارروائی کرے۔

کوئٹہ کے علاقے تربت میں ایک المناک واقعہ پیش آیا ہے۔ ایران جانے کے لئے اس حصہ میں لائے گئے کچھ لوگ غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے بارڈر پار کرنا چاہتے تھے یہ سرحدی علاقہ بلوچوں پر مشتمل ہے اور پنجاب سے آئے ہوئے لوگ بڑی آسانی سے شناخت ہو جاتے ہیں۔

یہ 15 افراد تھے جو غریب لوگ تھے اور ایران سے یورپ جانا چاہتے تھے کہ مسلح گروہ کے ہتھے چڑھ گئے یہ بس میں سوار تھے ان کو بس سے اتار کر گولیاں ماری گئیں اور ان کی لاشیں کیچ کے علاقے گروک میں پھینک دی گئیں۔ ان مرنے والوں کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے تھا ان کی عمریں 20 سے 46 سال کے درمیان تھیں ان کے لباس سے اندازہ ہوتا تھا کہ انتہائی غریب لوگ تھے جو موت کے منہ میں چلے گئے۔

ان سب افراد کی لاشوں کی شناخت کے بعد ان کے علاقوں میں پہنچا دیا گیا ۔ اس واقعہ پر حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تربت میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے بے گناہ افراد کا ذمہ دار بلوچستان لبریشن فرنٹ ہے۔

مسلح جدوجہد کے حوالے سے مکران ڈویژن اس وقت سب سے گرم محاذ ہے، اس حصے میں بلوچستان لبریشن فرنٹ ڈاکٹر اللہ نذر کی کمان میں کارروائی کرتا ہے۔

14 نومبر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے اسلام آباد میں جنوبی ایشیا میں ’’علاقائی جہتیں اور تزویراتی خدشات ‘‘کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا بھارت ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور ’’را‘‘ کے ذریعے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے 50 کروڑ ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔

ایل او سی پر بھارت کا رویہ کسی وقت بھی بڑی جنگ میں کا باعث بن سکتا ہے بھارت جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے اور بھارتی سازشیں کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ حکومت کے علم میں ہے کہ بھارت بلوچستان میں کیا کر رہا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے بھارت سرگرم ہے اور اب افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں سرگرم ہے جوں جوں سی پیک آگے بڑھے گا، اس کی کارروائیاں بلوچستان میں مزید تیز ہو جائیں گی۔

تربت میں غریب مزدوروں کے ساتھ جو کچھ ہوا پنجاب حکومت کو اس طرف توجہ دینا ہو گی انسانی سمگلروں کے گروہ کا تعاقب کرنا ہوگا۔ ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کا ایران کے راستے یورپ جانے کا خواب ان کی تباہی اور بربادی کا سبب بن چکاہے اور ہزاروں گھر اس گروپ کی وجہ سے اُجڑ رہے ہیں ۔

حکومت پنجاب کو اس گروہ کا سراغ لگانا ہوگا جو ہر سال ہزاروں نوجوانوں کو جھانسہ دے کر لوٹ رہے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہئے تاکہ مزید لوگ دہشت گردی اور یورپ گردی کا شکار نہ ہوں۔

مزید : کالم