مستقبل کی سیاست اور جنوبی پنجاب

مستقبل کی سیاست اور جنوبی پنجاب
 مستقبل کی سیاست اور جنوبی پنجاب

  



15دسمبر کو ملتان میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسے کی کامیابی پیپلزپارٹی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جلسہ پہلے بھی اعلان کے باوجود ملتوی ہو چکا ہے اور اس کی واحد وجہ جلسے کی ناکامی کا خوف تھا۔ پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے خاطر خواہ نشستیں حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھی ہے، یہ امید بر آتی ہے یا نہیں ،اس پر تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم آثار کچھ اچھے دکھائی نہیں دیتے۔ حیران کن حد تک پیپلزپارٹی اس وقت زمین سے لگی نظر آتی ہے۔

اگرچہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی گاہے بہ گاہے 2018ء میں پیپلزپارٹی کو دوبارہ حکومت بننے کے خواب دکھاتے رہتے ہیں تاکہ رہے سہے رہنما اور کارکن بھاگ نہ جائیں مگر ان خوابوں کی تعبیر کس طرح پیپلزپارٹی کے حق میں نکلے گی یہ شاید وہ بھی نہیں جانتے۔ یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بیٹے آج کل ہر وقت اپنے اپنے حلقے کے عوام میں نظر آتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کی دیکھا دیکھی گیلانی کے بیٹے بھی موٹر سائیکل پر رابطہ عوام مہم چلائے ہوئے ہیں۔ مگر جو سوال یہاں پیپلزپارٹی کے حلقوں میں زبانِ زد عام ہے اس کا تعلق بھی گیلانی خاندان سے ہے۔ یوں لگتا ہے پیپلزپارٹی گیلانی خاندان میں سکڑ کر رہ گئی ہے۔

یوسف رضا گیلانی غالباً اپنے تینوں بیٹوں کو انتخاب لڑوانا چاہتے ہیں یوں ملتان کی بیشتر نشستوں پر گیلانی خاندان الیکشن لڑتا نظر آئے گا۔ اب یہ حکمتِ عملی پیپلزپارٹی کے لئے کس حد تک مفید ثابت ہو گی یہ تو گیلانی ہی بتا سکتے ہیں تاہم ان کی اس پالیسی کی وجہ سے پیپلزپارٹی سکڑتی جا رہی ہے۔

بلاول کے جلسے میں اندازہ ہو گا کہ گیلانی خاندان نے پیپلزپارٹی کو گیلانی ہاؤس تک محدود کر کے فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان۔؟

جنوبی پنجاب کی سیاست اس وقت معلق حالت میں ہے بہت سے سیاستدان اور ’’سیاسی خاندان‘‘ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے نظریئے پر عمل پیرا ہیں۔ تینوں ڈویژنوں ملتان، ڈیرہ غازیخان اور بہاولپور میں انتظار کرو کی کیفیت ہے۔

سب سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کے حامی پریشان ہیں، انہیں آنے والے دنوں کا منظر نامہ ہی سمجھ نہیں آ رہا۔ وہ پارٹی چھوڑنے اور نہ چھوڑنے کے مخمصے میں مبتلا ہیں اگرچہ ملتان میں ایسی صورت حال زیادہ نمایاں نظر نہیں آتی تاہم جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع میں مسلم لیگی حلقے بے یقینی کا شکار ضرور ہیں۔

اب نوازشریف سیاسی جلسوں کے لئے سرگرم ہوئے ہیں تو شاید اس بے یقینی میں کچھ کمی آئے تاہم جنوبی پنجاب کا سیاسی منظر نامہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں زیادہ ساز گار نظر نہیں آتا اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اس علاقے کو بری طرح نظر انداز کیا ہے، نوازشریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دورے برائے نام رہے اور سونے پہ سہاگہ یہاں کے مسلم لیگی نمائندوں کی غلامانہ سوچ ہے، جس کے تحت وہ کروڑوں کی آبادی والے اس علاقے کے لئے بنیادی حقوق تک نہیں مانگتے بلکہ خوشامد اور ذاتی مفاد کے لئے حکمرانوں کو ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ دیتے ہیں اس کا ایک حالیہ مظاہرہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دورۂ مظفر گڑھ کے موقع پر ہوا تھا جب وہ ملتان ڈیرہ غازیخان روڈ کی تعمیر کا افتتاح کرنے آئے تھے اور ایم این اے سلطان ہنجرا نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو ضرورت سے بڑھ کر دیا ہے، جو لوگ محرومی کی بات کرتے ہیں، وہ مخالفت برائے مخالفت کرنے والے سازشی ہیں۔ اب ایسا بیانیہ رکھنے والوں کی موجودگی میں مسلم لیگ (ن) اس بیانیہ کا مقابلہ کیسے کر سکے گی جو قوم پرست جماعتیں اور تحریک انصاف و پیپلزپارٹی دے رہی ہے نوازشریف یقیناً اپنی رابطہ عوام مہم کے دوران ملتان اور جنوبی پنجاب بھی آئیں گے، لیکن اگر وہ صرف اپنی نا اہلی کا بیانیہ ہی اختیار کرتے ہیں اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں نیز اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان سے جنوبی پنجاب کے سلسلے میں کوتاہی ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) آئندہ اس کوتاہی کا ازالہ کرے گی تو ان کے اس دورے کا مسلم لیگ (ن) کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے دورۂ ملتان و جنوبی پنجاب کے دوران کیا بیانیہ اختیار کرتے ہیں؟ پارٹیوں کی مجبوریاں اپنی جگہ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اب جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کی حمایت کے بغیر سیاست نہیں کی جا سکتی۔ پیپلزپارٹی دبے لفظوں میں ہمیشہ اس مطالبے کی حمایت کرتی رہی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی تو یہاں اپنے ہر جلسے میں علیحدہ صوبہ کی بات کرتے ہیں مگر ان کی باتوں پر اکثر لوگ اس لئے تنقید کرتے ہیں کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو انہوں نے اس ضمن میں کچھ نہ کیا بلکہ دوران وزارتِ عظیٰ تو وہ اس کے ذکر سے بھی کتراتے رہے کہ مبادا ان کی وزارتِ عظمیٰ پر حرف نہ آ جائے۔

مگر آج کل وہ اس کا ورد کرتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ملتان کے جلسے میں بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے کیا اعلان کرتے ہیں اگر انہوں نے اس ایشو کو نظر انداز کئے رکھا اور اس سے بچ کر گزر گئے تو پیپلزپارٹی کے لئے یہاں کے عوام میں کوئی نرم گوشہ پیدا نہیں ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے کئی بار یہ اعلان کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بننا چاہئے اور اس کی کھل کر حمایت بھی کی ہے پی ٹی آئی کے ذرائع نے مجھے بتایا کہ آنے والے دنوں میں عمران خان کا جو یہاں جلسہ ہونے جا رہا ہے، اس میں وہ اس حوالے سے واضح اعلان کریں گے۔

یوں ایک طرح سے جنوبی پنجاب کی آئندہ الیکشن میں سیاست اسی مطالبے کے گرد گھومے گی جو سیاسی جماعت اس مطالبے کو اپنے منشور میں شامل کر لے گی وہ عوام کے دل جیتنے میں زیادہ کامیاب رہے گی۔

فی الوقت تنیوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حکمتِ عملی صرف یہ نظر آتی ہے کہ ایسی شخصیات کو پارٹی میں شامل کیا جائے جو انتخابات میں حصہ لیتی اور جیتتی رہی ہوں۔ آصف علی زرداری تو باقاعدہ اس مشن پر ہیں اور ذاتی رابطوں کے ذریعے بڑی بڑی سیاسی شخصیات کو پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں مگر انہیں ابھی تک کوئی بڑی کامیابی اس لئے نہیں ملی کہ زمینی حقائق پیپلزپارٹی کے حق میں نظر نہیں آ رہے۔ بڑی سے بڑی سیاسی شخصیت بھی موجودہ حالات میں پیپلزپارٹی کو اٹھا نہیں سکتی البتہ اس کے ساتھ ڈوب ضرور سکتی ہے سب سے زیادہ رجحان تحریک انصاف کی طرف ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر پیپلزپارٹی کے منحرفین ہی تحریک انصاف میں جا رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) سے جانے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب پیپلزپارٹی کی واحد امید بلاول بھٹو زرداری ہیں یہ ٹرمپ کارڈ اگر چل جاتا ہے تو پیپلزپارٹی کو اس خطے سے امیدوار بھی مل جائیں گے اور شاید چند نشستیں بھی وگرنہ ضمانت ضبطی کی تاریخ یہاں بھی دہرائی جائے گی۔

تحریک انصاف میں اگرچہ لوگ جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں، تاہم اس کے اندر کا انتشار اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جہانگیر خان ترین اور شاہ محمود قریشی دو حریفوں کی طرح آمنے سامنے ہیں دونوں نے اپنے گروپ بھی بنا رکھے ہیں اگرچہ جہانگیر خان ترین کا پلڑا بھاری ہے۔ کیونکہ وہ عمران خان کے زیادہ قریب بھی ہیں اور پارٹی پر خرچ بھی کرتے ہیں۔ تاہم شاہ محمود قریشی بھی جنوبی پنجاب میں اپنا موثر حلقہ بنائے ہوئے ہیں۔

انتخابات کے قریب آنے پر جنوبی پنجاب میں ٹکٹوں کا فیصلہ کون کرے گا ؟ کس کا ہاتھ زیادہ مضبوط ہوگا اور کس کی پارٹی پر گرفت زیادہ مضبوط ہو گی اس بارے میں چہ میگوئیاں آج کل جاری ہیں تاہم ابھی تک جو لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

وہ سب کے سب جہانگیر خان ترین اور اسحاق خاکوانی کے کیمپ سے ہیں شاہ محمود قریشی کی کوشش ہے کہ ملتان کی حد تک پارٹی ان کے دیئے گئے ناموں کو ٹکٹوں کے لئے منتخب کرے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملتان میں بھی تحریک انصاف کے تنظیمی عہدوں پر جہانگیر خان ترین گروپ چھایا ہوا ہے۔

عمران خان آنے والے انتخابات میں جنوبی پنجاب کے حوالے سے ان دو بڑوں کو کیسے راضی کرتے ہیں؟ یہ ان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ اگر جہانگیر خان ترین سپریم کورٹ کی طرف سے نا اہل بھی ہو جاتے ہیں تو بھی پارٹی پر ان کی گرفت مضبوط رہے گی کیونکہ وہ عمران خان کے بعد تحریک انصاف میں سب سے طاقتور رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

مستقبل کی سیاست میں جنوبی پنجاب کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے اگر کسی سیاسی جماعت نے پنجاب پر اپنا جھنڈا گاڑنا ہے تو اسے لازماً جنوبی پنجاب کو تسخیر کرنا پڑے گا۔ مگر جو صورتِ حال نظر آ رہی ہے اس میں فی الوقت کوئی بھی جماعت اس پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔

اب اس آٹھ دس ماہ کے عرصے میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں کیا داؤ پیچ آزماتی ہیں اور اس خطے کے کروڑوں ووٹروں کو کیا نئے سبز باغ دکھاتی ہیں، آئندہ کی سیاست کا انحصار اس پر ہے مگر اب شاید آسانی سے جنوبی پنجاب کے عوام کو بے وقوف نہ بنایا جا سکے۔

مزید : کالم