ایپکا کا مطالبات کی منظوری کیلئے 22نومبر کو ایوان وزیر اعلٰی کے گھیراؤ کا اعلان

ایپکا کا مطالبات کی منظوری کیلئے 22نومبر کو ایوان وزیر اعلٰی کے گھیراؤ کا ...

لاہور(خبرنگار) ایپکا کے صوبائی صدر حاجی محمد ارشاد چودھری نے کہا ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لئے مرحلہ واراحتجاجی تحریک شروع کر دی گئی ہے اور 22 نومبر کو لاہور میں تمام صوبائی دفاتر میں مکمل ہڑتال اور ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراؤ کیاجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’ پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سرکاری محکموں کے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جسمیں صوبائی محکموں کے ملازمین کی تنخواہ کے پی کے اور دیگر صوبوں کی نسبت ساڑھے سات فیصد کم ہے اور اس سلسلہ میں کئی سالوں سے حکومت کو بار بار یاددہانی کروانے کے باوجود ٹرخایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ اور گورنر ہاؤس کے ملازمین کو یوٹیلی الاؤنس نہیں دیا جا رہا جبکہ صوبائی محکموں کے ملازمین اس اہم ترین سہولت سے محروم ہیں۔ حکومت کو ایپکا کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں اس اہم مسئلہ کی جانب توجہ دلوائی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کو ہاؤس ریکوزیشن اورہاؤس رینٹ الاؤنس سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں ملازمین کی تنخواہوں سے ہاؤس ریکوزیشن فنڈز کی کٹوتی کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود ملازمین کو نہ تو کوئی رہائشی سہولت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس دیا جا رہا ہے جبکہ کئی سالوں سے سرکاری محکموں میں ڈیلی ویجز کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو ریگولر نہیں کیا جا رہا ہے جس پر مجبوراً احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں پہلے مرحلہ میں صوبائی سطح پر احتجاجی تحریک چلائی جا رہی ہے اور اس میں 22 نومبر کو ایوان وزیراعلیٰ کا گھیراؤ کیاجائے گا جس میں لاہور میں واقع تمام صوبائی محکموں میں مکمل ہڑتال ہو گی اور ملازمین کے مختلف قافلے احتجاجی ریلیوں کی شکل میں ایوان وزیراعلیٰ پہنچیں گے جس میں لاہور کے ساتھ ساتھ قصور ، ننکانہ اور شیخوپورہ کے ملازمین بھی احتجاجی دھرنے میں شرکت کریں گے اور ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایپکا کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر علمدرآمد نہ کیا گیا تو پھر صوبائی محکموں میں روزانہ کی بنیاد پر ہڑتال کا شیڈول جاری کیاجائیگا اور ریجنل و ضلعی سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور بعد میں صوبائی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جس میں تمام صوبوں کے گورنر ہاؤس اور وزرائے اعلیٰ ہاؤسز کے سامنے الگ الگ احتجاجی دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ آخری مرحلہ میں ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1