انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کی ہر اینٹ میں میرا خون پسینہ شامل ہے

انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کی ہر اینٹ میں میرا خون ...

لاہور(جنرل رپورٹر)لاہور پریس کلب کے سینئر صحافیوں کے ساتھ سلسلہ گفتگو " میری باتیں،میری یادیں" میں ممتاز ماہر تعلیم ، محقق اور پریس کلب کے لائف ممبر پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے شرکت کی اور اپنے کیریئر کی یادیں تازہ کیں۔ تقریب میں صدر پریس کلب محمد شہباز میاں، سیکرٹری عبدالمجید ساجد، ممبران گورننگ باڈی شاہنواز رانا، رضوان خالد ، سالک نواز، نعمان وہاب، سینئر صحافی نعیم مصطفی، زاہد مقصود، افتخار مجاز، سلمان عابد، جواد رضوی، زابر سعید بدر، یاسین وٹو، فدا حسنین، فاحد شہباز، حنا ادیب، احمد شیخ سمیت انکے شاگردوں اور رفقاء نے بڑی تعداد شرکت کی۔ تقریب کی نقابت ممبر گورننگ باڈی شاہنواز رانا نے کی۔تقریب میں سیکرٹری پریس کلب عبدالمجید ساجد نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سینئرز سے سیکھنے کیلئے گفتگو کا یہ سلسلہ گذشتہ سال شروع کیا ، مجھے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے شاگر د ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اپنے شاگردوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنی زندگی کو تدریس کیلئے وقف کر دیا جہاں بھی گئے ادارہ پھلنا پھولنا شروع ہوا، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے تعلیم کو عام کرنے کیلئے ہر ممکن کام کیا۔ صدر محمد شہباز میاں نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نفیس اور پیار کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے انتھک محنت سے پنجاب یونیورسٹی میں ایک ڈیپارٹمنٹ کو انسٹی ٹیوٹ بنایا اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ،انہوں نے اپنی محنت ، لگن اور انتھک محنت سے آئی سی ایس میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کی کمی کو پورا کیا۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آٖف کمیونیکیشن سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کی ایک ایک اینٹ میں میرا خون پسینہ شامل ہے، انہوں نے بتایا کہ جب میں چیئرمین بنا تو ہفتہ ، اتوار کی چھٹی بھی نہیں کی، اپنی فیملی کا وقت بھی شعبہ کو دیا، ایم اے کرنے سے پہلے عبدالقادر حسن کے رسالے سے آغاز کیا اور پھر کچھ عرصہ امریکہ میں رپورٹنگ اور ڈیسک پر کام کیا، انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان کا واحد فارن کوالیفائڈ ٹیچر تھا اور82 ء میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی سے منسلک ہوا، پڑھانا میرا جنون تھااور میں نے اپنا مشن جاری رکھا، انہوں نے بتایا کہ میں ساڑھے تین سال ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین رہا اور شعبہ ابلاغیات کو عروج دیا، کام اور ڈسپلن کے معاملے میں سخت ہوں اکثر صحافی دوست بھی ناراض ہو جاتے جب انکے ناجائز کام نہ کرتا، انہوں نے کہا کہ میرے شاگرد اور پیار کرنے والے رفقاء ہی میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔ تقریب سے نعیم مصطفی، افتخار مجاز، زاہد مقصود، سلمان عابد، احمد شیخ، فاحد شہباز، حنا ادیب، جواد رضوی، فدا حسنین، ناصر خان نے بھی معززمہمان کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی زندگی کا احاطہ کرنا مشکل ہے، انتہائی شفیق استاد ہیں ، کتاب دوست شخصیت ہیں، تدریسی شعبہ میں ڈاکٹر مغیث الدین کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے میڈیا ہاؤسز میں ڈاکٹر صاحب کے شاگرد خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، شاگردوں کی اتنی بڑی فہرست کسی دوسرے استاد کو حاصل نہیں ہے، لوگوں کواپنی کم علمی کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب سے خوف آتا ہے اور وہ علم والوں کی بڑی قدر کرتے ہیں، ڈاکٹر مغیث الدین رشتہ بنانا اور نبھانہ جانتے ہیں،صحافت کے تمام شعبوں میں عبور حاصل ہے ۔ پروگرام کے اختتام پر پریس کلب کی جانب سے صدر محمد شہباز میاں اور سیکرٹری عبدالمجید ساجدنے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو یاد گاری شیلڈ اور پھول پیش کیے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1