کاشت کار گندم کی کاشت 20 نومبر تک ہر صورت مکمل کر لیں،محکمہ زراعت

کاشت کار گندم کی کاشت 20 نومبر تک ہر صورت مکمل کر لیں،محکمہ زراعت

  



لاہور (آن لائن)محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق کاشت کار گندم کی کاشت 20 نومبر تک ہر صورت مکمل کر لیں اور 20نومبر کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ہر روز تقریباََ ایک فیصد کے حساب سے(15تا20کلوگرام فی ایکڑ) پیداوار میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے، ہماری فصل تقریباََ جنوری کے پہلے ہفتہ تک کاشت ہوتی رہتی ہے جس سے پیداوار میں% 50 تک کمی واقع ہوجاتی ہے، اس لئے کاشت کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پوری کوشش سے گندم کی کاشت20 نومبر تک مکمل کریں اگر پچھیتی کاشت کو ایک ہفتہ پہلے مکمل کرلیا جائے تو فی ایکڑ پیداوار میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے جو کاشتکاروں اور ملک دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق 21 نومبر تا 15 دسمبر تک کاشت کی صورت میں شرح بیج 60 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کیا جائے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیج کو زہر لگانے کے لئے گھومنے والا ڈرم استعمال کیا جائے۔ اگر ڈرم کی سہولت میسر نہ ہو تو پلاسٹک کی ایک بوری میں وزن شدہ بیج ڈال کر وزن کے مطابق سفارش کردہ پھپھوند کش زہر کی تمام مقدار ڈال کر بوری کو تقریباً آدھا بھرلیا جائے اور بوری کو دونوں طرف سے پکڑ کر اچھی طرح ہلایا جائے۔

تاکہ گندم کے بیج کے ہر دانے کو پھپھوند کش زہر لگ جائے۔ گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے کھیت کا اچھی طرح تیاراور ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔ وریال کھیتوں میں2 یا3 دن کے وقفہ سے ہل چلایا جائے کیونکہ اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں اور موسمی اثرات سے زمین میں موجود غذائی عناصر پود ے کے لئے قابل حصو ل حالت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جہاں کہیں ضرورت ہو کر اہ یا لیزرلینڈ لیولرکے استعمال سے زمین کو ہموار کیا جائے۔ راؤنی سے پہلے کھیت کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے راؤنی کی جائے۔جب بوائی کا وقت نزدیک آئے تو سورج نکلنے سے پہلے ہل چلایا جائے اور سہاگہ دیا جائے۔ یہ عمل 2 سے3 بار دہرانے سے جڑی بوٹیوں کی تلفی میں مدد ملتی ہے اور زمین کے نیچے والی نمی اوپر آجاتی ہے جو گندم کے اچھے اگاؤ کی ضمانت ہے۔ زمین کی بنیادی زرخیزی اور طبعی حالت کو درست رکھنے کے لئے دیسی و سبز کھاد کا استعمال بہت ضروری ہے۔ گوبر کی گلی سڑی کھاد اگر زمین کی تیاری سے پہلے دستیاب ہو تو بحساب 8تا10ٹن(3 سے 4 ٹرالی)فی ایکڑ ضرور استعمال کی جائے۔ اس سے زمین کی زرخیزی اور نامیاتی مادے میں اضافہ ہوتا ہے اور زمین کی طبعی حالت بھی بہتر ہوتی ہے۔ گوبر کی کھاد دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اگر وقت ہو تو گندم کی کاشت سے قبل گوارہ ، جنتر یا دیگر پھلی دار اجناس اگائی جائیں اور ان کوپھول آنے کے وقت بطور سبز کھاد زمین میں دبادیا جائے۔اس عمل سے کھیتوں میں3 سال تک سبز کھاد کے استعمال کی ضرورت نہیں رہے گی۔خیال رہے کہ دیسی یا سبز کھاد زمین میں گندم کی بوائی سے 2 ماہ قبل دبانا ضروری ہے۔گندم کی ریکارڈپیداوار کے لئے محکمہ زراعت کی آگاہی مہم جاری ہے ، پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاوہ پرائیوٹ سیڈ ایجنسیز کی طرف سے بھی بیج سپلائی کیا جاتا ہے ۔(ریاض)#/s#

مزید : کامرس