سائنسدان ٹیکسٹائل سیکٹر میں نینوٹیکنالوجی کے آسان استعمال پر تحقیق کریں

سائنسدان ٹیکسٹائل سیکٹر میں نینوٹیکنالوجی کے آسان استعمال پر تحقیق کریں

  



فیصل آباد(آن لائن)فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینٹک انجینئرنگ کے سائنسدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں نینوٹیکنالوجی کے آسان اور سستے استعمال پر تحقیق کریں تاکہ ان کے استعمال سے قومی برآمدات سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔ وہ نبجی میں" نینو ٹیکنالوجی کے موجودہ رجحانات اور پاکستان میں اس کے مستقبل بارے " ایک قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی قومی برآمدات میں فیصل آباد کا حصہ 55 فیصد ہے لیکنہماری تیار کردہ مصنوعات میں جدت کے فقدان کی وجہ سے یا تو ہماری برآمدات جمود کا شکار ہیں یا ان میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسوقت ہماری فاضل برآمدی مصنوعات کو پیداواری لاگت میں اضافہ کاسب سے بڑا چیلنج بھی درپیش ہے لیکن اگربرآمدات مصنوعات کی تیاری میں نینو ٹیکنالوجی کی تھوڑی سی مزید لاگت سے انکی قیمتوں کو تین گنا بڑھا یا جا سکے تو ہم عالمی منڈیوں میں اس کی بہتر قیمت حاصل کر سکیں گے اور اس طرح پیداوار لاگت میں کمی کے مئلہ پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ صدر فیصل آبادچیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر پانی کے استعمال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر اس شعبہ میں نینو ٹیکنالوجی کے استعمال سے پانی کے استعمال میں کمی لائی جائے تو اس طرح بھی ہم پانی کے استعمال میں کمی کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے فاضل صنعتی پانی سے پڑنے والے ماحول پر اس کے منفی اثرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روایتی ٹیکسٹائل میں بھی نینوٹیکنالوجی کے استعمال سے تیار ہونے والے کپڑے کے معیار اور کوالٹی میں بہتری بھی لائی جا سکتی ہے جس کی وجہ سے اس کی طلب میں ہونے والی کمی کے مسئلے پر بھی قابو پا جاسکے گا۔ #/s#

مزید : کامرس