سیاسی عدم استحکام معاشی موت پر منتج ہو رہا ہے

سیاسی عدم استحکام معاشی موت پر منتج ہو رہا ہے

پاکستان میں ذرائع آمدن تیزی سے سکڑ رہے ہیں ، ہر برس دس لاکھ سے زائد افراد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور روزگار کے حصول کے سرگرداں ہو جاتے ہیں ، اس تعداد کو اپنے اندر سمونے کے لئے پاکستانی معیشت کا تسلسل کے ساتھ مستحکم رہنا ضروری ہے تاکہ روزی روٹی کے مواقع تواتر سے پیدا ہوتے رہیں۔ موجودہ حکومت نے 2013میں عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں بے پناہ سرجاہ کاری کی تھی ۔ اس سے جہاں ملک میں میگا پراجیکٹس کا آغاز ہوا اور ملک میں جاری توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کا عمل شروع ہوا وہیں پر بڑے پیمانے پر پاکستانیوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک کنسٹرکشن انڈسٹری کے چلنے سے اس سے ملحقہ 40چھوٹی بڑی انڈسٹریاں فعال ہو جاتی ہیں اور یوں ملک میں روزگار کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں عوام کی بڑی تعداد، خاص طور پر کم پڑھے لکھے دیہی نوجوانوں کی ، زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور خوش حالی ان کے گھر کی راہ لیتی ہے کیونکہ ترقیاتی منصوبے طویل المدتی ہوتے ہیں اور یوں ان کے لئے نہ صرف روزانہ کی بنیاد پر کمائی کا ذریعہ نکلتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں نئی ٹیکنالوجی کو سیکھنے کا بھی موقع ملتا ہے اوریوں وہ ترقیاتی کاموں کے سبب اپنی اپنی فیلدْ میں اپ گریڈ ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ایک وقت تک ہر حکومت کا پانچ سالہ ترقیاتی پروگرام پر بہت زور ہوتا تھا جو ملک میں خوشحالی کا سبب بنتا تھا ۔ یہ تو بعد میں ہوا کہ ترقیاتی کاموں کے نام پر ٹھیکیداروں کو ریوڑیوں کی طرح قوی خزانہ بانٹا جاتا تھا اور اس میں سے کمیش کمایا جاتا تھا جبکہ ٹھیکیدار صاحبان ترقیاتی کاموں کے نام پر غیر معیاری کاموں پر اونے پونے خرچ کرکے فارغ ہو جاتے تھے اور وہ سڑکیں اور پل اگلی بارش میں بہہ جاتے اور پھر سے اگلے ترقیاتی پروگرام کا وقت آجاتا تھا۔

تاہم 2013کے عام انتخابات کے بعد میٹرو بس، پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے، فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کا جال، سی پیک کے تحت ملک بھر میں موٹر ویز کا جال، اورنج لائن ٹرین منصوبہ، اوور ہیڈ برجز اور انڈر پاسز کا ایک بہت بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا جس کے بعد ملک بھر میں عمومی طور پر اور صوبہ پنجاب میں خاص طور پر ترقیاتی کاموں کا ینٹ ورک پھیلتا چلا گیا جس سے کنسٹرکشن انڈسٹری کے وارے نیارے ہو گئے اور ان سے وابستہ افراد کے ذرائع آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ یہ سلسلہ اگلے تین برسوں یعنی 2016تک تواتر کے ساتھ چلتا رہا جس کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ سڑکوں، میٹرو بسوں اور پلوں سے ملک میں تعلیم پھیلے نہ صحت کے مواقع حاصل ہوں گے ۔ اگرچہ اس تنقید کا جواب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے یہ کہہ کر دیا کہ اگر کسی جگہ سٹرک نہیں جائے گی تو کیا وہاں تک ترقی ، تعلیم اور صحت کی سہولیات ہوائی جہاز میں رکھ کر لے جائیں یا پھر کسی پل کے ذریعے لے جائیں ۔ اس کے باوجود تنقید بڑھتی گئی اور بالآخر 2017میں حکومت نے پوری توجہ تعلیم اور صحت کے شعبہ جات یعنی سوشل سکیٹر کی بہتری کی طرف کردی اور کہا گیا کہ حکومت نے 2013میں جن ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا تھا ، 2017ان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال ہے بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تو 2017کو وعدوں کی تکمیل کا سال قرار دیا ۔ یہ الگ بات کہ اس قدر بہتات سے ترقیاتی پروگراموں پر مبنی میگا پراجیکٹس سے اٹھنے والی دھول مٹی بھی آج کل وطن عزیز میں جاری سموگ میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے اس کے باوجود ملک میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے جس سے ان کی پرسنل اکانومی نے خوب ترقی کی۔ مختلف سروسز دینے والی کمپنیوں اور افراد کی سالانہ آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا کیونکہ ترقیاتی کاموں کے سبب سے ہر شعبے میں کام نکلا اور کام سے متعلق افراد کو روزگار کمانے کا موقع ملا۔

توانائی کا شعبہ بھی گزشتہ چار برسوں میں حکومتی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے ، خاص طور پر صوبہ پنجاب میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے حوالے سے بہت پیش رفت دیکھی گئی اور بڑے پیمانے پر مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی۔ اس شعبے میں خاص طور پر پڑھے لکھے اور پروفیشنل افراد کو ترقی کرنے کے بے شمار مواقع حاصل ہوئے ۔ اچ ٹو گیس منصوبہ ہو یا مہر گیس منصوبہ ، سیمنٹ کے بڑے پلانٹ ہوں یا پھر ملک میں ایل این جی کی برآمد کے لئے پورٹ قاسم پر بنائی جانے والی جیٹی ، گوادر پورٹ کی تعمیر کا معاملہ ہو یا پھر نیشپا گیس فیلڈ کی تعمیر کا معاملہ ہو، مائننگ کے شعبے میں بلوچستان اور وزیر ستان میں آسٹریلوی اور جرمن ماہرین کے دورے ہوں یا پھر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ٹنل پروگرام ہر جگہ پر حکومت کی جانب سے بے شمار پیش رفت دیکھی گئی ۔ نہ صرف یہ کہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام ہوا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تھرمل پاور پراجیکٹس پر بھی اسی رفتار سے کام ہوا ، یہی نہیں حکومت نے شمسی توانائی کے منصوبے بھی کھڑے کئے اور کول پاور پلانٹس لگائے ، پن بجلی کا اہتمام کیا تو بائیو ماس سے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے بھی پیش رفت کی اور ایک ایسی فضا کو یقینی بنایا جس سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بے پناہ ترقی دیکھنے کو ملی بلکہ ملک میں موجود بجلی کی کمی کے بحران کو بھی ملک سے نکال باہر کیا گیا۔ تھرکول پاور پراجیکٹ اس ضمن میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر روبہ عمل ہے۔ آج کل لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کی بات عام ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ نومبر کے مہینے کے اختتام سے ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا آغاز ہوا تو ایک عام بحث یہ تھی کہ ملک اگر وافر بجلی پیدا کربھی لے تو دستیاب ٹرانسمیشن اورڈسپیچ سسٹم میں اتنی سکت ہی نہیں ہے کہ اس وافر بجلی کو بجلی گھروں سے صارفین تک لے جا سکے ۔ چنانچہ بہت بڑی سرمایہ کاری بجلی کے کھمبوں، ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنوں کا جال بچھانے پر بھی ہوئی ۔ یوں صرف ایک توانائی کے شعبے میں اس قدر پیش رفت دیکھنے میں آئی کہ امریکہ، جرمنی ، چین اور روس سے لے کر دنیا کے بڑے بڑے ملکوں سے بے شمار ٹیکنالوجی پاکستان آئی جس سے ترقی کا سفر تیز ہوتا دکھائی دیا۔

چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور یعنی سی پیک کاآغاز پاک چین دوستی کا انمول تحفہ ثابت ہوا جس کے تحت ملک بھر میں موٹر ویز کا جال بچھنا شروع ہوا اور اب تک اس حوالے سے بے حد پیش رفت ہو چکی ہے ۔ اس ضمن میں انتہائی اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر میں سی پیک کے راستے پر حکومت نے انڈسٹریل اسٹیٹس کا جال بچھایا ہے جہاں پر مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیاں ایک کے بعد ایک فیکٹری لگاتے جارہے ہیں اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار یقینی بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وہاڑی سے محترمہ تہمینہ دولتانہ نے بتایا کہ وہ جب بھی اپنے علاقے میں جاتی تھیں نوجوان ان کو نوکریوں کے لئے ان گنت درخواستیں تھمادیتے ہیں اور وہ ہر درخواست پکڑتے ہوئے یہی سوچتی تھیں کہ وہ کس کس کو نوکری یقینی بنائیں گی۔ پھر ان کو خیال آیا کہ وہاڑی میں ایک انڈسٹریل اسٹیٹ منظور کروائی جائے تاکہ یہاں پر سرمایہ کاری کا آغاز ہو اور دیہی آبادی کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی منظوری سے وہاڑی انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام یقینی بنایا اور بتا رہی تھیں کہ اب ترکی کے سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ وہ پوری انڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹریاں لگائیں اور کام کریں۔ نہ صرف ترکی بلکہ چینی ، ملائشین اور دیگر بین الاقوامی ممالک سے بھی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے صوبہ پنجاب میں قائم ہونے والی 9انڈسٹریل اسٹیٹس میں سرمایہ کاری کے منصوبے بنا رکھے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ تین سے چار برسوں میں جس قدر تیزی سے ترقی کا سفر طے ہوا اس سے ملکی معیشت میں کچھ قباحتیں بھی در آئیں جن میں سب سے بڑی قباحت ملکی درآمدات میں بے پناہ اضافہ تھا جو آج اپوزیشن کے کندھوں پر چڑھ کر ملکی برآمدات کا منہ چڑا رہی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ درآمدات میں اضافے کا بڑا سبب مشینری کی بے پناہ درآمد کی وجہ سے ہوا کیونکہ میگاپراجیکٹس، توانائی کے منصوبوں اور سی پیک کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لئے مشینری کی امپورٹ انتہائی ضروری تھی ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایکسپورٹس نہ صرف کم ہوئیں بلکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بھی حکومت نے خاطر خواہ پیمپرنگ نہ کی جس کی توقع وہ بڑے دھوم دھڑکے سے کر رہی تھی ، چنانچہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بڑھنے والے پیداواری لاگت ، جو بجلی کی مہنگی قیمت سے پھوٹی، کی وجہ سے کئی ملیں بند ہو گئیں جس سے بے روزگاری میں اضافہ دیکھنے میںآیا۔

ترقیاتی کاموں پر بے پناہ توجہ کی وجہ سے تعلیم اور صحت کی جانب خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی ۔ خاص طور پر صحت کے شعبے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں مایوسی کا عنصر در آیا اور حکومت کو چار و ناچار 2016-17اور 2017-18کے سالانہ بجٹوں میں ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سوشل سیکٹر کی اپ لفٹ کے لئے مختص کیا ہے ۔

سی پیک کے آغاز سے مختلف حلقوں میں جس خوشی کا اظہار کیا گیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی توقعات ماند پڑنا شروع ہو گئیں کیونکہ اطلاعات یہ ہیں کہ اسلام آباد سے سی پیک کے لئے ایوارڈ ہونے والے تمام منصوبوں میں اولیت چینی کمپنیوں کو دی جاتی ہے اور پاکستانی کمپنیوں کو اس طرح سے ترجیح نہیں دی جاتی جس کی توقع کی جا رہی تھی ۔ ان کمپنیوں کو چینی کمپنیوں کی بی ٹیم بن کر کام کرنا پڑتا ہے، یہی نہیں شنید یہ بھی ہے کہ چینی کمپنیاں اپنے ساتھ چینی لیبر بھی لاتی ہیں جن میں اکثریت چینی جیلوں میں قید لوگوں کی ہوتی ہے ، تاہم ان اطلاعات کی تصدیق ابھی ہونا باقی ہے تاہم ملک کی کنسٹرکشن انڈسٹری میں یہ باتیں ان دنوں عام ہو رہی ہیں۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ سی پیک سے جس کام کی توقع باندھی گئی تھی پاکستانی کمپنیوں کے لئے اس کا عشر عشیربھی میسر نہیں ہے۔

ان تمام مسائل اور قباحتوں سے بڑھ کر مسئلہ اور قباحت ملک میں درآنے والا سیاسی عدم استحکام ہے جس کا آغاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی سے ہوا۔ جب سے نواز شریف نااہل ہوئے ہیں عدالتی مقدمات کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا ہے جو سیاسی عدم استحکام میں گہری دراڑیں ڈالتا جا رہا ہے جن میں معیشت کی ننگی اینٹیں جھانکنا شروع ہو گئی ہیں ۔ حکومت کی توجہ معیشت سے ہٹ کر سیاست پر مرکوز ہو گئی ہے جس سے نہ صرف ترقیاتی پروگراموں میں خلل پیدا ہوا ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری پر بھی کاری ضرب پڑی ہے کیونکہ ان سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ ملکی سیاسی معاملات جس تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں ان کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں معاشی ابتری میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ ایک طرف تو حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر جاری ترقیاتی پروگرام سمیٹا جا چکا ہے اور دوسری جانب سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں اور وہ نئی سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کو فروغ دیا جائے تاکہ معیشت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنا پڑے ۔ خاص طور اب جبکہ میگا پراجیکٹس اور توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے ترقی کا نیا سفر شروع ہو نے والا ہے، ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام اسے ترقی معکوس میں تبدیل کر سکتا ہے ۔ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو سیاسی این آراو سے بڑھ کر معاشی این آر او پر زور دینا چاہئے کہ کچھ بھی ہو ملکی معیشت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا وگرنہ جس طرح آئے روز مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے بہت جلد ملک میں انارکی، بے چینی اور عدم استحکام کا راج ہوگا ۔

سرخیاں

1۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے ملک میں انارکی، بے چینی اور عدم استحکام کا راج ہوگا

2۔ ملک میں سیاسی استحکام کو فروغ دیا جائے تاکہ معیشت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنا پڑے

3۔ ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام معاشی فروغ کو ترقی معکوس میں تبدیل کر سکتا ہے

4۔ سیاسی عدم استحکام کا آغاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی سے ہوا

تصاویر

1۔ میٹرو بس منصوبہ

2۔ٍ اورنج لائن ٹرین منصوبہ

3۔ توانائی کے منصوبے

4۔ موٹر ویز

5۔ گوادر پورٹ

6۔ تھر کول پاور پراجیکٹ

مزید : ایڈیشن 2