سیاسی جماعتیں تاجر و صنعتکار تنظیموں سے مشاورت کے بعد اپنی اپنی معاشی پالیسی کا اعلان کریں

سیاسی جماعتیں تاجر و صنعتکار تنظیموں سے مشاورت کے بعد اپنی اپنی معاشی ...

خالد عثمان نوجوان،پڑھے لکھے اور خوش اخلاق طبیعت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا میں اپنی محنت سے تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے والی شخصیت ہیں جن کا کاروبای گھرانے سے تعلق اور لاہور کے رہنے والے ہیں جنہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی کاروبار کی سمجھ بو جھ لینا شروع کر دی بی ایس سی کیمیکل انجینئرز میں کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا اور واٹر ٹریٹمنٹ کمپنی کو ترقی کی منازل طے کروائیں جو اپنے کاروبار کو تقویت دینے کے لئے گزشتہ 17سال سے دنیا بھر کی مارکیٹوں کو پرکھ چکے ہیں ۔خالد عثمان لاہور چیمبر آف کامرس کے پروگریسو گروپ کے صدر ہیں جبکہ پاکستان بزنس مین فورم لاہور چیپٹر کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور چیمبر کی کمیٹی برائے واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کے کنونیئر ہیں ۔

اقتدار کے حصو ل کے لئے جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کو چائیے کہ وہ تاجر و صنعتکار تنظیموں سے مشاورت کے بعد باقاعدہ اپنی معاشی ترجیحات اور تجارتی پالیسی کا اعلان کریں اور اپنے ایجنڈے میں بزنس کمیو نٹی کے مسائل کے حل کے لئے اپنے مطلوبہ طریقہ کار کی وضاحت بھی کریں جبکہ اقتدار میں آنے سے قبل کاروباری برادری کو اعتماد میں لیں اور اقتدار میں آنے کے بعد معاشی مسائل کے حل کو اولین تر جیح کے طور پر بھی اپنائیں۔یوں قومی معیشت مستحکم ہو گی اور معاشی و تجارتی پالیسی ڈانوا ڈول ہونے کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر استوار دکھائی دے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جس میں معاشی پالیسی میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں حکومت کی ناقص معاشی پالیسی ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ،دوہو لڈنگ ٹیکس کا نفاذ اور ریگو لیٹری ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ سے جہاں صنعتکار و تاجر طبقہ میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے وہیں مہنگائی کا بو ل بالا بھی ہو رہا ہے جس کا سارا بو جھ عام صارف کو بردارشت کر نا پڑ رہا ہے۔ ایکسپورٹ کی شرح 25بلین ڈالر سے کم ہوتے ہوئے 19بلین ڈالر پر پہنچ گئی ہے جبکہ خسارہ بڑھنے سے ایمپورٹ 40بلین ڈالر پر آ گئی ہے جس سے لوکل انڈسٹری پر منفی اثرات اور ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے جبکہ کاروباری طبقہ کے لئے ماحول ناسازگار ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت وقت کو چائیے کہ کاروباری برادری کو ریلیف دیتے ہوئے اپنی انڈسٹری پر انحصار کیا جائے تو ملکی معیشت میں انقلاب لا یا جا سکتا ہے ۔ ’’بزنس پاکستان‘‘ کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے خالد عثمان نے کہا ہے کہ صنعتکار و تاجر برادری کو کچھ سالوں سے امید تھی کہ مسلم لیگ(ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں کاروباری سر گرمیاں پروان چڑھیں گی اور معاشی مسائل حل ہو نگے اور فر ینڈلی ماحول ملنے سے کاروبار کو بڑھانے کے وسیع مواقع ملیں گے تاہم مسلم لیگ(ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد صنعتکاروں کی غلط فہمی دور ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے لازمی جزو برآمدات ہوتا ہے تاہم دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے معلو م ہو سکے کہ پاکستان کے علاوہ کسی ملک کی ایکسپورٹ اتنی گر سکتی ہے اور امپورٹ کی شرح اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ لوکل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بنکوں سے رقوم کے لین دین پر عائد کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس نے بنکوں کو دیوالیہ بنا دیا ہے ۔کاروباری افراد اعشاریہ4 فیصد ادا کر نے کی بجائے ڈائریکٹ سو دے کر رہے ہیں اور بنکوں سے منہ موڑنے سے ٹرانزیکشن نہ ہو نے کے برابر رہ گئی ہے اور ا س حوالے سے ماہرین معاشیات نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سی پیک کی افادیت کے حوالے سے واویلہ تو کر رہی ہے تاہم اس کے بارے تفصیلات نہیں بتائی جا رہیں۔ پاکستانی کاروباری برادری سی پیک کے خلاف نہیں حمایت میں ہیں، لیکن سی پیک سے سر مایہ کار کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس بارے میں ورکشاپس اور سیمینارز کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے جو معائدے ہو رہے ہیں اس پر ہمیں کچھ پتہ نہیں۔خالد عثمان نے کہاکہ ایف بی آ ر کی جانب سے 736آئٹمز پر ریگو لیٹری ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ مہنگائی کا پیش خیمہ ہے جس کے بعد بچوں کے دودھ تک مہنگے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے لئے کے لئے کاروباری ماحول ناسازگار ہوتا جارہا ہے بجلی گیس مہنگی سمیت ٹیکس پیئرز پر ٹیکسوں کا مذید بو جھ ڈال کر مشکلات پیدا کی جارہی ہیں،ان پٹ سمیت را میٹریل مہنگی ہو رہی ہیں چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہے اور بزنس مین کمیونٹی کو سیفٹی سیکیورٹی کا بھی سامنا ہے ۔خالد عثمان کا کہنا تھا کہ تاجر و صنعتکار ٹیکس چور نہیں،بلکہ ٹیکسز کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہیں اس کے باوجو د ٹیکس پیئرز کی عزت نفس مجروح کرنے میں ادارے کسر نہیں چھوڑتے ۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کر نے کے لئے صنعتکاروں و تاجروں کو حقیقی ریلیف دیا جائے ، اعشاریہ چار فیصد ود ہو لڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جائے ،بجلی و گیس کے ٹیرف میں کمی کی جائے ،مینو فیکچرز کے لئے فرینڈلی ماحول دیا جائے اور لو کل انویسٹر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے معاشی پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں۔

خالد عثمان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کو مظبو ط پیغام دینے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہوئے جلد ہی پروگر یسو گروپ ریگو لیٹری ڈیو ٹی کے خلاف کانفرنس کا انعقاد کر یں گے، جس میں مظبو ط موقف اور مشاورت سے لائحہ عمل تر تیب دیا جائے گا ۔ ا س حوالے سے پر وگریسو گروپ نے بزنس کمیونٹی اور تنظیموں کے رہنماؤ ں کے پاس جا کر پروگرام تر تیب دینا شروع کر دیا ہے ۔

پروگریسو گروپ کے صدر خالد عثمان نے بزنس کیمونٹی پر زور دیا ہے کے وہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے متحد اور یک جان ہو جائے۔ آپ اپنی سیاسی سوچ کو مت چھوڑیں، مگر معیشت کی بحالی اور اس کے پہیہ کو رواں دواں رکھنے کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ورنہ ہر آنے والی حکومت اسی طرح کاروباری طبقہ کو نچوڑتی رہے گی جیسے پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا اور اب پچھلے ساڑھے چار سال سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کیمونٹی مسلم لیگ(ن) کی حکومت بننے پر بے حد خوش تھی اور اس کو اس کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ کر لیں کے بذات خود ایک بزنس مین اور صنعتی شعبہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حکمران بزنس فرینڈلی پا لیسیاں ترتیب دیں گے۔ ہمارا خیال تھا کہ ملک میں ایک ایسا ماحول بنایا جائے گا، جس میں نہ صرف بیرون ملک بلکہ ملکی انویسٹر بھی خوش دلی سے کاروبار میں پیسہ لگائے گاتاہم پہلے دن سے ہی نون لیگ کی حکومت نے ان امیدوں پر پانی پھیرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اس وقت سے یہ بات کرنا شروع کی کے جس قسم کی پالیسیاں اسحاق ڈار بنا رہے ہیں اس کا بہت منفی اثر کاروبار اور صنعت پر آئے گا۔ آنے والے وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ انہوں نے ہر سیکٹر پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا یہاں تک کے بیرون ملک سے آنے والی رقومات بھی بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس ادا کرنے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ مشاورتی عمل میں کبھی بھی کاروباری حضرات یا کسی بھی چیمبر کو گھاس نہیں ڈالی گئی، بلکہ ان کی طرف سے مختلف چیمبر کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو بھی کبھی ملحوظ خاطر نہیں لایا گیا،جو کماؤ پتر ہیں ان کو سب سے زیادہ بے توقیر کیا گیا۔

خالد عثمان نے کہا کہ بزنس کیمونٹی کو پاکستان کی تمام جماعتوں بشمول حکومت کے منشور کو دیکھنا پڑے گا کے کس نے کاروباری طبقہ اور معیشت کو ترجیح دی ہے۔ ہمیں اپنی سیاسی لگاؤ کو چھوڑ کر اکٹھا ہونا پڑے گا ہم پروگریسو گروپ کی طرف سے تمام کاروباری اور صنعت کاروں کو اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ اس حکومت اور اس سے پچھلی حکومتوں نے ایسے قوانین بنا دیئے ہیں،جس سے تاثر ملتا ہے کے کاروباری حضرات چور ہیں اور اگر ہم اب اکٹھا نہ ہوئے تو آنے والے حکمران بھی ایسا سلوک ہی روا رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ پروگریسو گروپ بزنس کیمونٹی کے لیڈر ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور ھماری قیادت کریں۔ ہم جلد ہی ایک کانفرنس کا انعقاد کریں گے اور تمام بزنس کیمونٹی کے لیڈران کو بلایں گے تاکہ ایک مشترکہ اور ٹھوس پیغام بھیج سکیں۔

خالد عثمان نے مزید کہا کہ ہم سی پیک کو خوش آمدید کہتے ہیں یہ واقعی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، مگر حیرانگی اس بات کی ہے کہ پاکستان حکومت کسی کو بھی اس پر اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں کہ چین کے ساتھ آخر معاہدہ ہے کیااور یہ کیسے پاکستان کی صنعتوں اور کاروبار کیں تیزی لائے گا۔ تمام کام چینی کمپنیاں کر رہی ہیں اور پاکستانی کمپنیوں کو ان کی ہوا بھی لگنے دی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں گوادر میں ایک صاف پانی کا پلانٹ لگانے کیا ٹینڈر آیا، مگر اس میں شرط یہ تھی کہ lead کمپنی چائینز ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ CPEC پر لگنے والے قرض کی واپسی بھی اگلے سال سے شروع ہو جائے گی اور یہ پانچ ارب روپے کا سالانہ ا ضافی بوجھ پاکستانی معیشت پر ہو گا۔ ان پیسوں کی واپسی اسی صورت ممکن ہے کے برآمدات میں اضافہ کے لئے ٹھو س اقدامات اور تھنک ٹینک پالیسی تر تیب دی جائے اور لو کل انڈسٹری کو چائینز کمپنیوں کی طرح پر مورٹ اور مساوی ریلیف دیا جائے۔

مزید : ایڈیشن 2