کھیل کے میدان سے تازہ معلومات پر ایک نظر

کھیل کے میدان سے تازہ معلومات پر ایک نظر
 کھیل کے میدان سے تازہ معلومات پر ایک نظر

  


ہاکی میں افضل منا کی خدمات نہ کبھی فراموش کی جائیں گی اور نہ ہی ان کو بھلایا جاسکتا ہے پاکستان کے اس ہیرو نے جس طرح پاکستان میں ہاکی کے کھیل میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا اور پوری دنیا میں نہ صرف اپنا بلکہ قومی ہاکی ٹیم کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پرچم بھی بلند کیا ایسے کھلاڑی بہت کم پیدا ہوتے ہیں ۔1964 ٹوکیو اولمپک کے سلور میڈلسٹ کے علاوہ160 1958 اور 1962 کی ایشین گیمز کے گولڈ میڈلسٹ استاد افضل منا اب اس دنیا میں نہیں ہیں مگر وہ صدا ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے ان کے ہاکی کے لئے کارنامے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایسے ہیروز کے لئے ایسا کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیشہ ہم ان کی خدمات کو یاد رکھ سکیں۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ کا باؤلنگ ایکشن ایک مرتبہ دوبارہ مشکوک قرا ر دیتے ہوئے آئی سی سی نے ان کے باؤلنگ کروانے پر پابندی عائد کردی ہے جس سے حفیظ سمیت ان کے پرستار شدید مایوسی کا شکار ہیں بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں کھیلنے والے محمد حفیظ نے اب بی پی ایل سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی ہے آئی سی سی کی جانب سے اب پابندی کے بعد اب قوی امکان ہے کہ و ہ بطور باؤلنگ اپنا کیرئیر ہی ختم کردیں گے اور اس حوالے سے سابق کپتان وسیم اکرم نے ان کو بار بار پابندی کا شکار ہونے سے بچنے کے لئے مشورہ دیدیا ہے کہ وہ اپنی بیٹنگ پر بھرپور توجہ دیں ۔جبکہ ایشین انڈور روئینگ چیمپئن شپ ملائشیاء میں منعقد ہوئی پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے میکس فور ایونٹ میں مقبول علی،راشد حسین،رابعہ امجد اورنائلہ نانو نے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ لائٹ ویٹ پیئر میں مزمل شہزاد اور ولی اللہ خان نے سلور میڈل اپنے سر سجایا براونز میڈل لائٹ ویٹ مکس فور میں مزمل شہزاد،ولی اللہ خان،نائلہ نانو اور نگہت کوثرکامیابی حاصل کی جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے اس ایونٹ میں بیس سال بعد میڈلز جیتنے کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔جبکہ پاکستان کی انڈر19 کرکٹ ٹیم نے شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور آسان حریف افغانستان سے فائنل میں شکست کھالی ۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے پورے ایونٹ میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا مگر اصل اور اہم میچ میں امیدوں پر پورا نہ اترسکی افغان کرکٹ ٹیم کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور اس میچ میں کامیابی سے ثابت ہوا ہے کہ افغانستان میں کرکٹ کا نچلی سطح پر بھی بھرپور ٹیلنٹ موجود ہے۔

مزید : کالم