شرم تم کو مگر نہیں آتی

شرم تم کو مگر نہیں آتی
 شرم تم کو مگر نہیں آتی

  


یہ ایک متنازعہ معاملہ ہے کہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن دی جائے یا نہیں، انہیں اس دنیا میں درپیش خطرات سے آگاہ کیا جائے یایہ خیال کیا جائے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ خود ہی جان لیں گے اورہوس سے بھرے خاندانوں اور معاشروں میں اپنے تحفظ کا بندوبست بھی خود ہی کر لیں گے۔ سکولوں میں جنسی معاملات بارے تعلیم فائدہ بھی دیتی ہے اور یہ ایک انداز میں نقصان دہ بھی ہے۔ یہ ہمارے بچوں کو بہت سارے ابہام دور کرنے میں مدد بھی دیتی ہے اور بعض اوقات ان کا بچپن وقت سے پہلے چھین بھی لیتی ہے ۔ اس معاملے پر ہم ایشیائی کچھ زیادہ کنفیوژ ہیں مگر بہت ساری ترقی یافتہ اقوام کچھ کم، مگر کنفیوژ وہ بھی ہیں اور اس بارے وہ والدین کو اختیار دے دیتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں جنسی تعلیم پر مبنی کلاسزاٹینڈ کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں اپنی بری باتیں ، عادتیں اور روایات ڈسکس کرنی چاہئیں یا نہیں، یہ بھی اسی قسم کی بحث کا حصہ ہے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر ہم اپنی خامیوں، کوتاہیوں اور برائیوں پر پردہ ڈالیں گے تو کیا وہ خامیاں ، کوتاہیاں او ربرائیاں ختم ہوجائیں گی۔ جب والدین اپنے بچوں اور تعلیمی ادارے اپنے طالب علموں کو کچھ نہیں بتائیں گے تو پھر انہیںیہ سب کچھ بتانے والوں کے اپنے مقاصد ہوں گے ، چاہے وہ دوست ہوں یا دشمن۔ یہ دنیا کس قسم کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے اس بارے ٹوئیٹر کا ہیش ٹیگ می ٹو بہت کچھ بتاتا ہے مگر میرے سامنے جو رپورٹ موجود ہے وہ می ٹو کے ہیش ٹیگ میں بیان حقیقتوں سے بھی زیادہ گھٹیا اورغلیظ ہے۔

مجھے وہ رپورٹ شرمناک محسوس ہو رہی ہے جس میں امریکی محکمہ دفاع نے امریکی افواج کو افغانستان میں بچوں کے ریپ کے معاملا ت کو نظرانداز کئے جانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی ثقافتی طور پر قبول کی گئی رسم ہے۔ مجھے ایک معروف کالم نگار کی طرح گالی لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے مگر یہاں ثقافتی طور پر قبول کی گئی اس رسم اور اس رسم کو قبول کرنے والوں کے لئے ایک گالی ضرور بنتی ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ گالی بری شے ہے مگر ماہرین نفسیات کے مطابق بعض اوقات ایک گالی آپ کے اندر کے غصے کو باہر نکال دیتی ہے، آپ کے بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے۔ یہی گالی آپ کے غصے اور بلڈ پریشر کو دوسروں میں بھی منتقل کر دیتی ہے۔ میں اس معاملے پر اپنے غصے اور بلڈ پریشر کو کم نہیں کرنا چاہتا اور میرے خیال میں کوئی بھی صاحب اولاد ایسا نہیں چاہے گا۔

پہلے تفصیلات بیان ہوجائیں، امریکی وزارت دفاع کے ذیلی ادارے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ثقافتی شعور کے حوالے سے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی ٹریننگ کے معاملے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کا ریپ کیا جانا افغانستان میں ثقافتی طور پر قبول کی گئی رسم ہے تاہم ان مشاہدات کا مقصد ایسے مخصوص حکم یا ضابطہ اخلاق تیار کرنا نہیں ہے جس سے بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات کو رپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی ہو ۔ امریکی اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو نظرانداز کریں اور معاملات سے مقامی پولیس کو نمٹنے دیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پینٹاگون پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر امریکی افواج کوافغان پولیس اور ملٹری حکام کی طرف سے بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات رپورٹ کرنے سے روک دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ کچھ امریکی فوجیوں کو ایسے واقعات رپورٹ کرنے پر سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ تمام معاملہ ہمارے ایک معتبر انگریزی اخبار نے رپورٹ کیا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ ہم اس معاملے پر بات کرنے سے پہلے امریکیوں کے افغانستان میں غیر قانونی طور پر قابض ہونے کے معاملے کو اٹھائیں گے اور کہیں گے کہ امریکیوں کو فوری طور پر افغانستان کو چھوڑ کے نکل جانا چاہئے اور جب ہم اس بحث میں جائیں گے تو بین الاقوامی سیاست اور مفادات پر بحث کرتے ہوئے کہیں سے کہیں نکل جائیں گے۔ ہمارے پیش نظر دوسرا معاملہ یہ ہوگا کہ یہ وہی امریکہ ہے جس میں ہم جنس پرستی کی سرپرستی کی جا رہی ہے،اس کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ ایسے معاملات پر ’’ ماما‘‘ بنے، وہ خود بہت گندی روایات کا حامل ہے۔ میں ان دونوں اعتراضات کو تسلیم کرتا ہوں اور یقینی طور پر افغانستان میں ا مریکی مداخلت ہویا ان کے معاشرے کے مادر پدر آزا د روئیے، یہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہیں لہذا انہیں مسترد کرتے ہوئے ہم اپنے سوال کی طرف واپس آجاتے ہیں کہ کیا بچوں کے ساتھ یہ رویہ ہمارے لئے قابل قبول ہے۔ مجھے ان دو باتوں کے جواب میں دو باتیں کہنی ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم جنس پرستی جیسی گندگی کو قبول اور رائج کرنے والے بھی اتنے ظالم نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اس قسم کے سلوک کی باقاعدہ اجازت دیں، اسے اپنی ثقافت کا حصہ بنا لیں اور دوسرے یہ کہ ہمیں اس غلیظ ظلم کے دفاع کی اس لئے بھی کوئی ضرورت نہیں کہ ہمارے ضابطہ اخلاق میں حضرت لوط کی قوم کا حال بیان کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دنیا بھر کی افواج کا ریکارڈ بھی بہتر نہیں ہے کیونکہ جب فوجیوں کو طویل عرصے کے لئے اپنی اپنی بیویوں سے دور رہنا پڑتا ہے تو وہ غلط قسم کی حرکتوں میں ملوث ہوجاتے ہیں مگر افغانستان میں کی گئی نشاندہی اس سے کچھ ہٹ کے ہے ، وہاں بیویوں کی موجودگی میں یہ گندا کام کیا جا رہا ہے اور اس کے بارے میںیہ کہنا کہ اسے ثقافتی طور پر قبول کر لیا گیا ہے، انتہائی ذلت آمیز ہے۔

بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ تعلیم بہت سارے مسائل حل کر دیتی ہے مگر میرے خیال میں ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تہذیب اور تربیت کی بھی ضرورت ہے۔میں جب افغان سرحد سے جڑے ہوئے اپنے علاقوں سے پنجاب کے متعدد علاقوں کی طرف سفر کرتی ہوئی ایسی ثقافتی روایات کو دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہمیں ا س بارے میں خصوصی تعلیمی اور تربیتی مہمیں چلانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے والدین کو بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ ہمیں ا پنے بچوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ مختلف قسم کے لالچ دے کر بہکانے والے ان کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ اس طرح کی حرکتیں انہیں کئی قسم کی بیماریوں کا شکار کر سکتی ہیں جو محض جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی بھی ہو سکتی ہیں۔افغانستان کے ساتھ جڑے ہوئے پاکستان میں بہت کچھ افغانستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس میں یہ مبینہ رسم بھی شامل ہے اور میں دہراوں کاگا کہ ہم اس سے محض اس لئے نظریں نہیں چرا سکتے کہ اسے سرحد پار کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، بیان کرنے والے وہاں اپنے وجود کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے یا ان کی اپنی معاشرتی روایات ہماری نظر میں قابل اعتراض ہیں۔ میرے پاس ایک دوسری رپورٹ میں اس حوالے سے کچھ اعداد وشمار بھی موجود ہیں جو کافی خوفناک ہیں مگر میں ان اعداد و شمار کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے سامنے پیش نہیں کر رہا۔مجھے اس امر کو فی الحال نظرانداز کرنا ہے کہ کہہ کون رہا ہے، مجھے یہ سننا ہے کہ کہا کیا جا رہا ہے اورغور کرنا ہے کہ کیا درست کہا جا رہا ہے۔

کیا کائنات کے رب نے بچوں سے زیادہ خوبصورت اور پیاری کوئی دوسری شے پیداکی ہے۔ قدرت کے کارخانے میں بچوں کے ساتھ یہ سلوک شائد کوئی بھی دوسری مخلوق نہیں کرتی۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ جنسی معاملات پر ڈسکشن کرتے ہوئے اور انہیں آگاہی دیتے ہوئے اپنی مخصوص معاشرتی روایات کے تحت خود کوشرمندہ اور غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ ہماری شرم اور ان کی لاعلمی افغانستان ہی نہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک میں بھی ہمارے بچوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت نہیں ہو رہی۔ کیا آپ اس بارے کچھ سوچنے اور ہمارے ذمہ دار اس بارے کچھ کرنے کی زحمت کریں گے؟

مزید : کالم