پولیس کارکردگی ، 4سال گزر جانے پر بھی 575مقبوضہ گاڑیاں مالکان تک نہ پہنچ سکیں

پولیس کارکردگی ، 4سال گزر جانے پر بھی 575مقبوضہ گاڑیاں مالکان تک نہ پہنچ سکیں

  



لاہور(خبرنگار) انویسٹی گیشن پولیس چار سال گزر جانے کے باوجود قبضہ میں لی جانے والی 575 قیمتی گاڑیوں کے اصل مالکان تک رسائی نہ پا سکی ہے۔ جس کی بنا پر 135 گاڑیوں کے قیمتی پرزہ جات تبدیل اور متعدد کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس کارکردگی کا جائزہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس قبضہ میں لی جانے والی 575 گاڑیوں کے اصل مالکان کا چار سال گزر جانے کے باوجود تاحال سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ انویسٹی گیشن پولیس نے برآمد ہونے والی یہ گاڑیاں تھانہ مناواں میں واقع ویئر ہاؤس میں کھڑی کر ر کھی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ویئر ہاؤس میں کئی سالوں سے کھڑی 575 گاڑیوں میں سے 135 گاڑیوں کے پرزہ جات تبدیل کردئیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ متعدد گاڑیوں کو قیمتی پرزہ جات سے محروم بھی کر دیا گیا ہے جبکہ ویئر ہاؤس میں کھڑی قیمتی گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی کسی قسم کے حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں جس کی بنا پر ویئر ہاؤس میں کئی سالوں سے کھڑی گاڑیاں کھٹارہ بن کر رہ گئی ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق قبضہ میں لی جانے والی قیمتی گاڑیوں میں 190 گاڑیاں نان کسٹم پیڈ بھی شامل ہیں اور ان گاڑیوں کی قیمت کروڑوں روپے میں بتائی گئی ہے۔ جبکہ 385 گاڑیاں چوری شدہ ہیں جو کہ شعبہ کارلفٹنگ ، سی آئی اے اور تھانوں کی پولیس سمیت پولیس کے دیگر شعبوں نے مختلف اوقات کے دوران برآمد کی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق قبضہ میں لی جانے والی گاڑیوں کے مالکان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے اور ان گاڑیوں کو نیلام کرنا ہے جس کے لئے متعدد بار متعلقہ ڈی سی لاہور اور متعلقہ مجسٹریٹ کو خطوط ارسال کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبشر میکن نے ’’ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ گاڑیوں کے قیمتی پرزہ جات غائب ہونے یا تبدیل کرنے کی بات غلط ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ویئر ہاؤس اوپن ہے جس کے باعث گاڑیوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا مسئلہ درپیش ہے۔ تاہم گاڑیوں کی نیلامی کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

مزید : علاقائی