بسنت کا استقبال : ’’اندر کھاتے ‘‘ پتنگ بازی کے کارخانے کھل گئے، ٹیلیفونز پر بکنگ کا سلسلہ شروع

بسنت کا استقبال : ’’اندر کھاتے ‘‘ پتنگ بازی کے کارخانے کھل گئے، ٹیلیفونز ...

  



لاہور(خبرنگار) صوبائی دارالحکومت میں ’’ اندر کھاتے‘‘ پتنگ سازی کے کارخانے کھل گئے اور پتنگ بازوں نے ٹیلی فونز پر اپنی مرضی کے آرڈر دینا شروع کر دئیے ہیں جس کی بنا پر رنگا رنگ اور بڑے بڑے سائز کی پتنگیں اور کیمیکل سے تیار ڈور کا استعمال عروج پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی پتنگ بازی کا سلسلہ عروج پر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کے دوران استعمال ہونے والے خطرناک سامان کی تیاری کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے اور اس میں رنگا رنگ اور بڑے سائز کی پنتگوں اور کیمیکل ڈور سے تیار ہونے والی ڈور کا استعمال بڑھ کر رہ گیا ہے جس میں پتنگ بازوں نے اپنی مرضی کی پتنگوں اور ڈوریں تیار کروانے کے آرڈر دینا شروع کر رکھے ہیں جس میں ٹیلی فونز پر پتنگ بازوں کو سپلائی دی جا رہی ہے جس کے باعث آسمان پر رنگا رنگ پتنگوں اورمختلف سائز اور بڑی بڑی پتنگوں کے اڑنے کے سلسلہ میں تیزی آ گئی ہے اور اس میں خطرناک سائز کی پتنگوں اورکیمیکل سے تیار ہونے والی ڈور کا استعمال عروج پر پہنچ گیا ہے جس میں گزشتہ روز بھی ہربنس پورہ ، غازی آباد، گجر پورہ، چائنہ سکیم، مصطفےٰ آباد، گلدشت ٹاؤن، الطاف کالونی، فتح گڑھ ، مصری شاہ، کوٹ خواجہ سعید اور مالی پورہ سمیت گلشن راوی اور سمن آباد میں سب سے زیادہ پتنگ بازی کی گئی ہے اور اس دوران خطرناک سائز اور بڑ ی بڑی پتنگوں سمیت رنگا رنگ پتنگوں کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ کیمیکل ڈور کا استعمال ہونے پر شہری دن بھر سہمے رہے ہیں اور پتنگ بازی جیسے بڑھتے ہوئے خطرناک اور جان لیوا کھیل پرشدید احتجاج کیا ہے اور وزیر اعلیٰ سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے جبکہ اس حوالے سے ایس ایس پی آپریشن سید منتظر مہدی نے کہاہے کہ پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہے۔ اس خطرناک کھیل کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے رکھا گیا ہے اس میں والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جس گھر کی چھت سے پتنگ اڑتی ہوئی نظرآئی اس بچے کے والد کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دے رکھا گیا ہے۔

مزید : علاقائی