وزیر قانون کے استعفی کے بغیر نہیں اٹھیں گے، مظاہرین ، اسلام آباد دھرنا ، مذاکرات آخری مراحل میں ، آپریشن آخری آپشن ہو گا : وزیر داخلہ

وزیر قانون کے استعفی کے بغیر نہیں اٹھیں گے، مظاہرین ، اسلام آباد دھرنا ، ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں )دھرنا ختم کرانے کیلئے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکارہوگئے ،مظاہرین کا وفاقی وزیر زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ ، حکومت نے ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ گزشتہ روز راجہ ظفر الحق کی رہائشگاہ پر بات چیت میں وزیر داخلہ احسن اقبال ، وزیر مملکت پیر امین الحسنات ، میئر اسلام آباد شیخ انصر اور طارق فضل چودھری بھی شریک ہوئے، مظاہرین کی جانب سے مذہبی قیادت نے مذاکرات میں حصہ لیا اور پیر گولڑہ شریف بطور ثالث موجود رہے۔ دھرنے والوں نے وزیر قانون کے استعفے پر اصرار کیا لیکن سرکار نے صا ف انکار کر دیا۔ادھرتحریک لبیک کی طرف سے فیض آباد کے مقام پر جاری دھرنے کے شرکاء کی طرف سے پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے پہلی بار آنسو گیس کی شیلنگ کر کے دھرنے کے شرکاء کو منتشر کیا جبکہ پولیس ،رینجرز اور ایف سی کے دستے آپریشن کیلئے مکمل طو ر پر تیار ہیں تاہم حکومت مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کروانا چاہتی ہے،دھرنے کے باعث راستے اور سڑکیں بند ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے،وزارت داخلہ نے دھرنے کو ختم کرانے اور ختم نبوتؐ کے معاملے پر علماء کو بریفنگ دینے کیلئے آج پیر کو اہم اجلاس طلب کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک کی طرف سے فیض آباد انٹرچینج پر دیا گیا دھرنا آج (پیر) کو پندرہویں روز میں داخل ہوگیا ہے ۔دھرنے کی وجہ سے سڑکیں اور راستے بند ہیں جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، کاروباری ، تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں ، ہسپتالوں میں جانیوالوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سرکاری ملازمین میلوں پیدل سفر کر کے اپنے دفاتر کو پہنچتے ہیں اور گاڑیوں میں آنے والے چند منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے کر رہے ہیں ۔ اتوار کو دھرنے کے شرکاء نے کھنہ پل اور فیض آباد کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کیا ۔پولیس نے پہلی بار جوابی کارروائی کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء کو منتشر کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔دھرنے کو آپریشن کے ذریعے ختم کرنے کیلئے پولیس، رینجرز اور ایف سی کے دستے گزشتہ تین روز سے الرٹ ہیں، تاہم حکومت کی طرف سے مذاکراتی عمل کے باعث آپریشن نہیں کیا گیا ۔حکومت کی کوشش ہے دھرنے کو پر امن انداز میں مذاکرات کے ذریعے ختم کرا یا جائے تا کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہوسکے ۔ادھروزارت داخلہ کی طرف سے دھرنے کو ختم کرانے اور ختم نبوتؐ کے معاملے پر علماء کو بریفنگ دینے کیلئے آج (پیر) کو اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے دیگر علمائے کرام اور مشائخ عظام کو مدعو کیا گیا ہے اور حکومت جلاس میں علماء کرام سے اپیل کرے گی کہ وہ دھرنے کی قیادت کو درخواست کریں کہ وہ پر امن طور پر منتشر ہو جائیں تاکہ جڑواں شہروں میں آباد لوگوں کی مشکلات ختم کی جا سکیں ۔

دھرنا

اسلام آباد، سوئی (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد انٹر چینج پر بیٹھے دھرنا مظاہرین کیخلاف آپریشن کسی بھی وقت ہوسکتا ہے لیکن یہ آخری آپشن ہے۔گزشتہ روزاسلام آباد میں پیر امین الحسنات کے ہمر ا ہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا دھرنے والے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے جذبات بھڑکا رہے ہیں کہ کہیں ختم نبوتؐ کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی کی گئی ہے اور اس طرح کا پروپیگنڈا حقائق کے برخلاف ہے، کوئی بھی حکومت ختم نبوت ؐپر سمجھوتہ نہیں کر سکتی، پاکستان میں ختم نبوت ؐہمارے ایمان کا حصہ ہے اور پارلیمنٹ اور عوام ختم نبوت ؐکے محافظ ہیں۔ لوگوں کو مشتعل کرنا مناسب نہیں ، دھرنے سے جو امیج جارہا ہے اسے پاکستان کے دشمن استعمال کر رہے ہیں۔ دھرنے سے تاثر جارہا ہے ہماری قوم ختم نبوتؐ کے معاملے پر منقسم ہے، حکومت نے ختم نبوتؐ کے حوالے سے کوئی سقم نہیں چھوڑا، اگر کہیں سقم ہے تو دھرنے والے بتائیں۔ ختم نبوتؐ کے حوالے سے آئین میں 2002 سے جو سقم تھا اسے بھی دور کردیا گیا ہے، اسلئے اب دھرنے کا کوئی جواز نہیں رہا، ہم ختم نبوتؐ کے حوالے سے مظاہرین کے جذبے کا احترام کرتے ہیں۔ حکومت کشیدگی نہیں چاہتی، لوگوں کا اور عدالت کا ہم پر دباؤ بڑھ رہا ہے، امن کیساتھ دھرنے کے معاملے کو جلدحل کرنے کے خواہاں ہیں ،کیونکہ اب کوئی آئینی جواز باقی نہیں رہا، یقین دلانا چاہتا ہوں حکومت نے ختم نبوت ؐکے حوالے سے وہ کا ر نا مہ انجام دیا ہے جو 2002 سے مفقود تھا، اب کوئی حیلہ بہانہ نہیں کہ ہم لوگوں کی زندگی اجیرن کریں اور ملک کا نام بدنام کریں۔ سکیورٹی ادا ر ے کسی بھی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا توپھر جگہ خالی کرانے کیلئے فورسز کے پاس جو بھی انتظامی کارروائی کا اختیار ہے وہ استعمال کریں گے آپریشن آخری آپشن ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ دھرنا قا ئد ین سے مذاکرات کے مختلف دورے ہوئے ہیں حکومت پنجاب نے بھی مذاکرات کئے ہیں ، ہم نے ہر سطح پر مسلسل مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔ ختم نبوتؐ سے متعلق قانون جنرل مشرف کے دور میں صرف دس دن تک رہا اور فوت ہوگیا تھا اب اس قانون کو حکومت نے قیامت تک زندہ کردیا ہے۔ یہ مسئلہ اب ہمیشہ کیلئے طے ہوگیا ہے جو شخص نبی کریمؐ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ کسی بھی طرح سے مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں ۔ ختم نبوت کے حوالے سے عوام کے جذبات بھڑکانے کا تعلق دین سے نہیں بلکہ سیاست سے ہے، اگر کوئی جماعت دھرنے کے ذریعے اگلے انتخابات میں اپنا سیاسی کیریئر بنانا چاہتی ہے تو کھل کر اظہار کرے، لیکن پاکستان کے معصوم شہریوں کو جذبات کے ذریعے بھڑکا کر تشدد کی طرف لے جانا کسی طور بھی جائز نہیں ۔ کل تمام علماء و مشائخ مذاکرات میں موجود تھے ہم نے ان سے بھی گزارش کی کہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں ہم مکمل طور پر صبر اور ضبط کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں حکومت نے 2002 سے ساقط قانون کو بحال کردیا ہے ۔ اس موقع پروزیر مملکت پیر امین الحسنات نے کہا ہمارا اﷲ کے نبی حضرت محمدؐ کیساتھ عزت‘ پیار اور حرمت کا رشتہ ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر وزیر داخلہ احسن اقبال نے قوم کو ربیع الاول کی مبارکباد دیتے ہوئے اپنے تہینتی پیغام میں کہا ہے ربیع الاول امت مسلمہ کیلئے خوشیوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ۔دھرنے والوں سے اپیل ہے ربیع الاول کے تقدس کے پیش نظر دھرنا ختم کردیں ۔ قبل ازیں سوئی ملٹری کالج میں پانچویں سالانہ تقریب سے خطاب میں وزیر دا خلہ کا کہنا تھا سی پیک سے صوبہ بلوچستان زیادہ ترقی اور اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ صوبے کو توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلو چستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا۔ نوجوانوں کو روزگار کے زیادہ مواقع ، صنعتی ترقی کے رفتار میں اضافہ ہوگا سی پیک کے مخالفین کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی ہے پاکستان اور بلوچستان ترقی کریں۔ حکومت کا ویژن صرف انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبے لگانے تک محدود نہیں بلکہ ترقی کے لئے مختلف ترقیاتی اداروں کے بجٹ کو بھی دوگنا کردیا ہے جس میں سرفہرست ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہے۔ موثر اقدامات اورسکیورٹی فورسز کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان دوبارہ بحال ہوا ہے، موجودہ حالات کے واقعات افسوسناک ضرور ہے لیکن اس پر جلد قابو پالینگے۔

وزیر داخلہ

مزید : صفحہ اول