33ویں برسی آ ج منائی جائے گی

33ویں برسی آ ج منائی جائے گی

اسلا م آ با د (آن لائن) ’’ مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں، جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دارچلے ‘‘ ۔معروف ترقی پسند شاعر و دانشور فیض احمد فیض کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تینتیس برس بیت گئے ان کی 33ویں برسی آ ج پیر منائی جائے گی اس سلسلے میں ملک بھر کے ادبی حلقوں میں تعزیتی ریفرنسز ،سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جس سے خطاب کرتے ہوئے ملکی و غیر ملکی ادبی شخصیات اور مقررین اس انقلابی شاعر کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اپنے الفاظ کو محبت کے موتیوں میں پرو دینے والے شاعرفیض احمد فیض 13فروری1911ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے وہ علامہ اقبال اور مرزا غالب کے بعد اردو ادب کے عظیم شاعر تھے۔فیض احمد فیض کی شاعری میں نقش فریادی،دست سبا،نسخہ ہائے وفا،زنداں نامہ،دست تہہ سنگ،سر وادی سینا،میرے دل میرے مسافر اور دیگر قابل ذکر ہیں ان مجموعہ جات کے انگلش،فارسی،روسی، جرمن اور دیگر زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں۔فیض احمد فیض ایشیاء کے وہ پہلے شاعرتھے جنہیں روس کی جانب سے لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا ان کی وفات سے قبل انہیں نوبل پرائز کیلئے بھی منتخب کیا گیا تھا علاوہ ازیں انہیں بیش بہا ملکی و غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے لیکن ایک شاعر کیلئے ان کا اصل ایوارڈ ان کے مداح ہوتے ہیں فیض احمد فیض کے بلاشبہ لاکھوں مداح اندرون و بیرون ملک موجود ہیں۔ فیض احمد فیض اردو ادب کے وہ عظیم شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری میں محبت،خوبصورتی اور سیاسی تصورات کو نہایت مہارت سے یکجا کر دیا تھا انہوں نے اپنی عمدہ ،نفیس،پرلطف اور سنجیدہ سوچ پر مشتمل شاعری کی بدولت دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا وہ پسی ہوئی انسانیت کیلئے ضمیراور یقین کی ایک ایسی آواز بن چکے تھے جو کہ ظالم زمانے کیلئے سوہان روح بن چکی تھی شاعری کی شکل میں ان کی آوازظلم کیلئے انقلاب کی ایک گرج بن چکی تھی۔ فیض احمد فیض20نومبر 1984ء کو 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔

مزید : صفحہ آخر