سانحہ تربت، مقتولین کی لاشیں گجرات میں ورثاء کے حوالے، رقت آمیز مناظر

سانحہ تربت، مقتولین کی لاشیں گجرات میں ورثاء کے حوالے، رقت آمیز مناظر

  



گجرات، جامکے چٹھہ (بیورورپورٹ، نمائندہ پاکستان) بلوچستان کے علاقہ تربت میں سفاک دہشتگردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے ضلع گجرات کے رہائشی5نوجوانوں کی میتیں انکے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ مشیر وزیر اعلی پنجاب نوابزادہ طاہر الملک نے متوفیان کی میتیں ان کے ورثاء کے حوالے کیں۔ اے ڈی سی جی آر سید موسیٰ رضا، ایڈیشنل ایس پی معاذ ظفر ، ریونیو آٖفیسر ارشاد احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں محمد دانش ، محمد ثاقب اور قاسم موضع کھوڑی، محمد عثمان ملک پور جبکہ بدر منیر موضع کسوکی نزد جلالپور جٹاں کا رہائشی تھا متوفیان کی میتیں بلوچستان سے لاہور ائیرپورٹ پہنچیں جہاں سے ڈپٹی کمشنر محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر فوکل پرسن اے ڈی سی آر میثم رضا کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ کی ٹیم انہیں عزیز بھٹی شہید ہسپتال لیکر پہنچی جہاں انہیں ورثا کے حوالے اور تدفین کیلئے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مشیر وزیر اعلی پنجاب نوابزادہ طاہر الملک نے افسوسناک واقعہ پر متوفیان کے ورثا سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب انکے غم میں برابر کی شریک ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران 20بے گناہ نوجوانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنائے جانے پر پوری قوم دکھ اور کرب میں مبتلاہے، حکومت اور سکیورٹی فورسز ان واقعات کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ دوسری طرف متاثرہ خاندانوں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ مقتول دانش علی دو بہنوں کا اکلوتا بھائی اور حساس ادارے کا ملازم تھا ‘ دسمبر میں اسکی شادی مقرر تھی گھر سے فوج میں نوکری پر جانے کا کہہ کر نکلا مگر وقوعہ سے دو یوم قبل فون کر کے گھر والوں کومطلع کیا کہ کوئٹہ میں ہوں اور یونان جا رہا ہے ‘مقتول قاسم ‘ فروٹ منڈی میں مزدوری جبکہ بدر منیر مقامی گڈز اڈا پر بطور ڈرائیور کام کرتا تھا ۔ قبل ازیں بلوچستان کے علاقے تربت سے ملنے والی مزید 5 افراد کی لاشیں گزشتہ روز کراچی سے پی آئی اے کی فلائٹ 302 کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچیں جنہیں وزیر تعلیم رانا مشہود احمد اور سی سی پی امین وینس سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے وصول کیااور لواحقین کے سپرد کر دیا۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے بعدازاں تمام افراد کی میتوں کو بذریعہ سڑک سخت سیکورٹی میں گجرات کیلئے روانہ کر دیاگیا اس موقع پر اہلخانہ کے لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا پانچوں نوجوان دوست تھے اور 20 روز قبل بغیر بتائے گھر سے نکلے تھے۔18 روز قبل پانچوں نوجوانوں نے اپنے اپنے گھر پر فون کرکے بتایا تھا کہ وہ ایجنٹ کے ذریعے جرمنی جارہے ہیں تاہم ایجنٹ انہیں جھانسہ دے کر فرار ہوگیا جنہیں دہشت گردوں نے تربت میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

مزید : صفحہ آخر