عدم تشدد، دیوبند کی روایت اور طرہ امتیاز ہے، عباس اختر

عدم تشدد، دیوبند کی روایت اور طرہ امتیاز ہے، عباس اختر

  



خانیوال (بیورونیوز )اکابر علماء دیوبند نے قیام امن کیلئے ہمیشہ کردار ادا کیا ،عدم تشدد علماء دیوبند کا طرہ امتیاز ہے اپنے مذہبی سیاسی مخالفین کے لئے بھی نامناسب الفاظ استعمال نہیں کئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے علماء دیوبند کا روشن کردار مسخ کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں ،۔ان (بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

خیالات کااظہار ممبر صوبائی امن کمیٹی مولانا محمد عباس اختر ،جمعیت علماء اہلسنت کے نائب امیر مفتی محمد زاہد ،تحفظ نظریہ پاکستان فورم کے چیئرمین مفتی خالد محمود ازھر ،جمعیت علماء اسلام (ف )کے راہنما مولانا اکرام القادری ،جمعیت (ف )کے صوبائی ناظم مولانا عطاء اللہ بخاری ،تحریک خدام اہلسنت کے ڈویژنل امیر مولانا سید معاویہ امجد شاہ ،جمعیت علماء اہلسنت کے جنرل سیکریٹری مولانا سیف اللہ شاہ نے جامعہ احسن العلوم میں سیمینار’’علماء دیوبند کا پیغام امن ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت اور مذہبی تنازعات کے خاتمے کے لئے علماء آئمہ خطبا ء اور دینی جماعتوں کے راہنما اپنا کردار ادا کرتے رہیں برصغیر میں عدم تشدد کا فلسفہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے دیا ۔باچا خان نے بھی عدم تشدد کا فلسفہ شیخ الہند سے لیا ۔حضرت مدنی حضرت تھانوی حضرت لاہوری امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری ،مفتی محمود ودیگر اکابرین عدم تشدد کے راستے پر ہی گامزن رہے ۔آج بھی دیوبند مکتبہ فکر سے وابستہ افرادو شخصیات اور ادارے عدم تشدد کے راستے پر رواں دواں ہیں ایک سازش کے ذریعے تشدد کی پالیسی وابستگان دیوبند کے ساتھ منسوب کردی گئی ۔قیام پاکستان سے قبل اور بعد فرزندان دیوبند کی ترجیحات میں قیام امن سرفہرست ہے۔ سیمینار کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ جمعیت علماء اہلسنت کو ضلع بھر فعال کیا جائیگا اور ماہ ربیع الاول ربیع الثانی میں تحصیل بھر میں ساٹھ اجتماعات سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے منعقد کیئے جائیں گے ۔5دسمبر کو لال مسجد چوک میں دسویں سالانہ سیرت کانفرنس منعقد ہوگی جس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی راہنما چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے سینٹ مولانا حافظ حمداللہ، مولانا عبد الکریم ندیم، مولانا شبیر احمد عثمانی ودیگر علماء خطاب کریں گے۔

دیوبند

مزید : ملتان صفحہ آخر