سسرالیوں نے داماد مار ڈالا، بروقت پوسٹمارٹم نہ ہونے پر احتجاج

سسرالیوں نے داماد مار ڈالا، بروقت پوسٹمارٹم نہ ہونے پر احتجاج

  



لیاقت پور(نامہ نگار)سسرالیوں نے داماد کو زہر دے کر مار ڈالا بروقت پوسٹ مارٹم نہ کرنے پر ورثاء کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے باہر سڑک پر میت رکھ کر احتجاج ،اسسٹنٹ کمشنرکی(بقیہ نمبر41صفحہ7پر )

مداخلت پر احتجاج ختم کر دیا گیا ،قصبہ فیروزہ کے جمیل اختر نے بتایا کہ تین ماہ قبل اسکے بیٹے جہانگیر جمیل کی شادی نلہ موسانی کی بشیر احمد کی بیٹی شائستہ بی بی سے ہوئی مگر وہ چند روز قبل ناراض ہو کر اپنے والدین کے پاس چلی گئی دو رو ز قبل جہانگیر جمیل کا برادر نسبتی صدام حسین ان کے گھرآیا اور کہا کہ اسکی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے اس کے لیے اسے اپنی بہن کے زیورات کے علاوہ رقم کی بھی ضرورت ہے جمیل اختر نے بتایا کہ اس نے صدام حسین کو 45ہزار روپے دیے جس کے بعد وہ اپنے بہنوئی جہانگیر کو اپنے ساتھ یہ کہہ کر لے گیا کہ اسکی بیوی سے صلح کروا کر ساتھ روانہ کرے گا جمیل اختر نے الزام لگایا کہ اسکے بیٹے کے سسرالیوں نے اس پر تشدد کے بعد اسے زہریلی چیز پلائی حالت خراب ہونے پر تھانہ پکالاڑاں میں ٹیلی فون کر دیا پولیس نے جہانگیر جمیل کو تشویشناک حالت میں مرکز صحت پکالاڑاں منتقل کیا اطلاع ملنے پر وہ بھی مرکز صحت جا پہنچے جہاں جہانگیر جمیل بھی دم توڑ گیامرکز صحت میں وائس چےئرمین یونین کونسل نلہ موسانی ملک جاوید اور ملک امداد جہانگیر کے سسر بشیر کے ہمراہ موجود تھے جنہوں نے صلح کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا بااثر افراد کی مداخلت کی وجہ سے انہوں نے مرکز صحت پکالاڑاں سے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کیا اور میت کو ریفر کروا صبح 6بجے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لیاقت پور لے آئے مگر یہاں ڈاکٹروں نے غفلت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے 10بجے تک پوسٹ مارٹم نہیں کیا ورثا محمد شکیل ،نوید احمد ،محمد علی ،نیاز احمد ،عبدالستار ،پیر بخش اور دیگر نے اس صورتحال پر میت ہسپتال کے سامنے سڑ ک پر رکھ کر احتجاج کرنا شروع کر دیا اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر لیاقت پور عامر حسین پنوار موقع پر پہنچ گئے اورصورتحال کا جائزہ لیا انہوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجو د میڈیکل آفیسر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے بھی باز پر س کی ڈاکٹروں نے بتایا کہ انکی طرف سے پوسٹ مارٹم میں تاخیر نہیں ہو رہی ورثا کو غلط فہمی ہوئی ہے اسسٹنٹ کمشنر کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔

احتجاج

مزید : ملتان صفحہ آخر