حکومت نے نظام کی تبدیلی کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے : محب اللہ

حکومت نے نظام کی تبدیلی کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے : محب اللہ

پشاور ) سٹاف رپورٹر(وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے لائیو سٹا ک و امداد باہمی محب اﷲ خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے اور یہی وہ پارٹی ہے جو عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اورملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے بھر پور جدوجہد کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے نظام کے تبدیلی کے لئے جو مثبت اصلاحات کئے ہیں ان کی بدولت مسائل پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ہماری ان اقدامات کے سبب 2018کے عام انتخابات میں سیاسی لٹیرے ایک بار پھر عبرتناک شکست سے دوچار ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کھنڈوگے آرکوٹ مٹہ سوات میں ایک شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات عزیز الرحمان ، تحصیل ممبر جاوید علی خان ، ضلعی ممبر حبیب اللہ خان ، ظاہر شاہ خان ایڈوکیٹ ، حاجی جمیل ، جاوید خان ، بھٹو خان ، اعظم خان ، علی شاہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے اہم کارکنان جن میں میاں گل جان ، میں سید بغداد ، افضل خان ، احمد جان ، جان بہادر ، جمشید ، عزیز خان ، شہنشاہ باچا ، حیدر علی خان ، ابراہیم ، اول خان ، باچا خان اور دیگر نے اپنے اپنے پارٹیوں سے مستعفی ہوکر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔محب اﷲ خان نے کہا صوبائی حکومت نے گزشتہ چار سالوں کے دوران عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اور رہنما اپنے اپنے پارٹیوں کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں جو پی ٹی آئی کی مقبولیت اور کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان ملک سے بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کا جو مشن شروع کیا ہے اس کی ابتداء ہو چکی ہے اور کئی لٹیرے قانون کے شکنجے میں آگئے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ اگر ماضی میں سیاستدان ملک و قوم کی اس طرح خدمت کر تے تو آج ملک اور قوم کی یہی حالت نہ ہو تی ۔انہو ں نے عوام سے کہا کہ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہاتھ مزید مضبوط کر یں تاکہ ملک کو دوسرے ترقیافتہ ممالک کی صف کھڑا کیا جا سکے ۔انہوں نے کپی کے پی کے 83-میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں گزشہ 65سالوں میں نہیں ہوئے ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر