وہ عظیم مسلمان فاتح جسے وہم ہوگیا کہ اسکی رعایا اس کی صورت اچھی نہ ہونے سے اسکو اپنا دوست نہیں سمجھے گی ،لیکن اس نے پھر ایسا کام کردکھایا کہ آج پاکستانی خاص طور پر اس فخر کرتے ہیں

وہ عظیم مسلمان فاتح جسے وہم ہوگیا کہ اسکی رعایا اس کی صورت اچھی نہ ہونے سے ...
وہ عظیم مسلمان فاتح جسے وہم ہوگیا کہ اسکی رعایا اس کی صورت اچھی نہ ہونے سے اسکو اپنا دوست نہیں سمجھے گی ،لیکن اس نے پھر ایسا کام کردکھایا کہ آج پاکستانی خاص طور پر اس فخر کرتے ہیں

  



لاہور(ایس چودھری)وہم بڑی طاقتور بلا جو اس پر غالب آجائے وہی سکندر ہوتا ہے۔تاریخ بیان کرتی ہے کہ عظیم فاتح سلطان محمود غزنوی کو ایک بار عجیب وہم نے گھیر لیا لیکن یہی وہم بعد میں ایسا تریاق ثابت ہوا کہ اسکی شخصیت ہی بدل گئی۔ سلطان محمود غزنوی خوبصورت کی صورت اچھی نہ تھی۔ ایک روز وہ اپنے حجرہ خاص میں نماز پڑھ رہا تھا کہ دو غلاموں نے اس کے سامنے آئینہ اور کنگھی لا کر رکھ دی۔ اسی وقت اس کا وزیر احمد حسن حجرے میں آیا اور تعظیم بجا لایا۔ سلطان محمود نے نماز پڑھ کر اپنی قبا پہنی او پر کلاہ رکھی پھر آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے احمد حسن سے دریافت کیا”کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس وقت میرے دل میں کیا خیال ہے؟“

وزیر نے کہا”سلطان معظم، خود ہی بتائیں۔“

سلطان محمود نے کہا”میں ڈرتا ہوں کہ لوگ مجھ کو اپنا دوست نہیں سمجھتے ہوں گے کیونکہ لوگ ایسے بادشاہ کو اپنا دوست سمجھنے کے عادی ہیں جس کی صورت بھی اچھی ہو۔“

احمد حسن نے کہا”سلطان معظم، ایک ہی کام سے لوگ آپ کو اپنی جان اور اپنے زن و فرزند سے زیادہ عزیز رکھ سکتے ہیں اور آپ کا فرمان آگ اور پانی پر بھی جاری ہو سکتا ہے۔“

سلطان نے پوچھا”وہ کیا کام ہے؟“

احمد حسن نے کہا”دولت کو اپنا دشمن سمجھیں، پھر تمام لوگ آپ کے دوست ہو جائیں گے۔“ سلطان محمود کو یہ بات پسند آگئی اور اس کے بعد ہی اس کا ہاتھ بخشش اور خیرات کے لئے کشادہ ہوگیا۔اس نے دلوں کو فتح کیا ۔سترہ حملے کرکے ہندوستان فتح کیا ۔آج پاکستانی مسلمان اس عظیم مسلمان فاتح پر فخر کرتے ہیں جس نے اپنی ظاہری خوبصورتی کی بجائے باطنی خوبیوں سے کارہائے نمایاں ادا کئے۔

تھانیدار کا ایک گستاخ کو کرارہ جواب ’’پاکستان ہے تو میری تھانیداری ، ورنہ مجھے کوئی چپڑاسی بھی بھرتی نہ کرتا‘‘ یہ گستاخ کون تھا جس نے انبیاء کرام کی شان میں گستاخی نہیں کی تھی لیکن ایک ایسی شخصیت کی شان میں گستاخی پر اسے پیٹ ڈالاگیا تو تھانے پہنچ گیا تھا

مزید : ڈیلی بائیٹس