آپ اتنے نااہل ہو چکے ہیں،حکومتی رٹ قائم نہیں کر سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس میں ریمارکس،سماعت جمعرات تک ملتوی

آپ اتنے نااہل ہو چکے ہیں،حکومتی رٹ قائم نہیں کر سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ...
آپ اتنے نااہل ہو چکے ہیں،حکومتی رٹ قائم نہیں کر سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس میں ریمارکس،سماعت جمعرات تک ملتوی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ اتنے نااہل ہو چکے ہیں حکومتی رٹ قائم نہیں کر سکتے، عدالت کا حکم گراﺅنڈ میں ہے آپ کومزید وقت نہیں دے سکتے ،آپ 2 گھنٹے میں فیصلہ کریں یا2 مہینے میں یہ آپ کا کام ہے۔

اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے خون ریزی کا خدشہ تھا جس پر آپریشن نہیں کیا،عدالت سے استدعا ہے کہ مزید 48 گھنٹے کا وقت دیا جائے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کروں گا۔

احسن اقبال نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا منتظمین سے مذاکرات مشائخ و علما کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے اورمذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے ،وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دھرنے میں شرپسند عناصر شامل ہے جس سے خون ریزی کا خدشہ ہے۔

اس پر فاضل جج نے کہا کہ جس مقصد کیلئے دھرنا ہے میں نے اس مقصد کو نہیں دیکھنا،شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا عدالت کا کام ہے،عدالت نے حکم عدولی پر فریقین کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس ،چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری کر دیئے اور تحریری طور پر جواب مانگ لیا۔

عدالت کی طلبی پر احسن اقبال ذاتی حٰیثیت میں  پیش ہوگئے  اور معاملے کو سلجھانے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت مانگ لی، یہاں کلک کریں۔

قبل ازیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوران سماعت سرکاری وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھاکہ عدالتی حکم پر دھرنا ختم کیوں نہیں کیاگیا۔اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ موقع دیں کچھ چیزیں آپ کو چیمبر میں بتا دیتا ہوں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوبتانا ہے کھلی عدالت میں بتائیں،چیزیں خفیہ رکھنے کا وقت چلا گیا ہے ،ٹی وی پر خطاب کریں قوم کو اعتماد میں لیں،قوم کو بتائیں ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ،یہ سارا معاملہ انتظامیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے ،انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ امن وامان کا ہے ،کیا 500 لوگوں کے باعث لاکھوں کے حقوق سلب کریں گے۔

عدالت کے طلب پر وفاقی وزیر داخلہ ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہو گئے اور معاملے کو سلجھانے کےلئے 48 گھنٹوں کی مہلت مانگ لی،عدالت نے حکومت کو دھرنا ختم کرانے کیلئے مزید 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:۔اسحاق ڈار کو اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہو جانا چاہئے ،نوازشریف کو گالی گلوچ کی سیاست سے نقصان ہوا،عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا چاہئے،خورشید شاہ

مزید : قومی /اہم خبریں