دبئی شاہی خاندان کا پاکستان کو 800 ملین ڈالر دینے سے انکار، دانیال عزیز نے چپ سادھ لی

دبئی شاہی خاندان کا پاکستان کو 800 ملین ڈالر دینے سے انکار، دانیال عزیز نے چپ ...
دبئی شاہی خاندان کا پاکستان کو 800 ملین ڈالر دینے سے انکار، دانیال عزیز نے چپ سادھ لی

  



اسلام آباد (آن لائن) نواز شریف حکومت کی طرح شاہد خاقان عباسی حکومت بھی دبئی حکمران خاندان سے 80 ارب روپے وصول نہ کر سکی ہے اور 80 ارب روپے کی ریکوری کے لئے خط بھی تحریر نہیں کیا ہے۔ دبئی شاہی خاندان کی ملکیتی کمپنی اتصالات نے پی ٹی سی ایل کی فروخت کا معاہدہ کر کے حکومتپاکستان کو 800 ملین ڈالر کی ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا ہے اس انکار کی وجہ یہ تھی کہ اسحاق ڈار اور نواز شریف دبئی شاہی خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کے ملازم تھے اور ان کمپنیوں کے نام پر اقامے حاصل کر رکھے تھے۔

اسحاق ڈار نے بھاری سود پر اربوں دالر کے قرضے حاصل کئے لیکن حکومت پاکستان کا ذاتی دولت 800 ملین روپے دبئی حکمرانوں سے وصول کرنے کے لئے خط تحریر نہیں کیا کیونکہ اسحاق ڈار کا بیٹا ابھی تک دبئی کے شاہی خاندان کا ملازم ہے۔ اتصالات کو زیادہ فائدہ دینے والے زرداری حکومت کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ بھی دبئی میں شاہی خاندان کی ملازمت میں ہیں۔ اتصالات نے بہانہ بنا کر رکھا تھا کہ 3200 جائیدادوں کی منتقلی تک 800 ملین روپے نہیں دیں گے یہ جائیدادیں بھی اب شاہی خاندان کو منتقل ہو گئی ہیں لیکن پھر وہ رقوم ادا نہیں کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کے ذمہ دار وزیر خزانہ ‘ وزیر خارجہ نے دبئی کے اقامے لے رکھے ہیں جس وجہ سے یہ لوگ دبئی کمپنی کے ساتھ سخت اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

دانیال عزیز اب نجکاری کے وفاقی وزیر ہیں انہوںنے بھی 800 ملین روپے کی وصولی کے لئے چپ سادھ لی ہے حالانکہ ان کا اقامہ ظاہر بھی نہیں ہوا۔ یہ حکومت پاکستان کے لئے دردناک معاملہ ہے کہ ریاست گزشتہ 12 سالوں سے 800 ملین روپے وصول ہی نہیں کر پائی جبکہ اس عرصہ میں اربوں ڈالر کے قرضے بھاری سود پر لئے گئے ہیں۔

مزید : اسلام آباد