دیار رسول ﷺمیں بیتے ہوئے لمحات

دیار رسول ﷺمیں بیتے ہوئے لمحات
دیار رسول ﷺمیں بیتے ہوئے لمحات

  



حصہ دوئم

ریاض الجنہ جس کے بارے میں اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا ہے : (مَا بَیْنَ بَیْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ)’’ وہ مقام جو میرے گھر اور منبر کے درمیان ہے وہ جنت کے باغیچوں میں ایک باغیچہ ہے۔‘‘ یہ حدیث بخاری اور مسلم شریف میں ہے۔ اس حدیث کے کئی معانی اور مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔ امام نووویؒ فرماتے ہیں’’ یہ جگہ اسی طرح قیامت کے روز جنت میں منتقل کر دی جائے گی‘‘ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس مقام پر عبادت کرنا جنت میں پہنچا دیتا ہے۔

حصہ اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں’’ اس مقام پر انسان کو رحمت و سعادت حاصل ہوتی ہے‘‘یہاں پر قرآنی حلقات کا قیام ہویا حلقات حدیث قائم ہوں تو ان کا اپنا مزا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ امام دارالہجرہ مالک بن انس کس مقام پر بیٹھ کر اپنے شاگردوں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اسی ریاض الجنہ میں بیٹھتے ہوں۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ کبھی کبھار اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو کر اللہ کے رسول کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے تاریخی الفاظ دہراتے

کُلُّ أَحَدٍ یُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِہٖ وَیُرَدُّ إِلَّا صَاحِبَ ھٰذَا الْقَبْرِ

’’کسی بھی شخصیت کے قول کو قبول بھی کیا جا سکتا ہے اور اسے رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ جو صاحب قبررسول اللہ ﷺہیں ان کی کسی بات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ اس لیے کہ ہر ایک سے خطا کا احتمال ہے مگر اللہ کے رسول ﷺمعصوم عن الخطا ہیں۔

ریاض الجنۃ میں خاصا رش تھا۔ مجھے آج سے تیس پینتیس سال پرانے دن یاد آ گئے۔ اس زمانے میں رش تو ہوتا تھا‘ مگر ریاض الجنۃ میں بڑے آرام سے جگہ مل جاتی تھی۔ ابھی شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود والی توسیع نہیں ہوئی تھی۔ خواتین بھی دس بجے کے بعد ریاض الجنۃ آ کر نوافل پڑھ لیتی تھیں۔ ان کے لیے درمیان میں لکڑی کے بنچ رکھ کر جگہ بنا دی جاتی تھی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کمزور ہے۔ لوگ دین میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا تو نہیں بلکہ اسلام بتدریج طاقتور ہو رہا ہے۔ ہر جگہ، ہر ملک میں پھیل رہا ہے۔ لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مکہ اور مدینہ شریف آنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق کوئی بارہ ملین افراد ہر سال عمرہ کے لیے اندرون وبیرون ملک سے حرمین شریفین میں آتے ہیں۔ ہر چند کہ اب مکہ اور مدینہ شریف کے ارد گرد درجنوں کے حساب سے فائیو سٹار ہوٹل بن چکے ہیں، لیکن جب بھی پوچھو، معلوم کرو تو کمرے ملتے ہی نہیں ۔ لوگ پہلے اکیلے آتے تھے، اب پوری پوری فیملی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ خلیجی ممالک سے بڑے بڑے امرا ء اور سرمایہ دار طبقہ مکہ اور مدینہ شریف میں آکرآٹھ دس روز تک قیام پذیر رہتے ہیں۔ ٹھیک ہے وہ سیر بھی کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ اللہ کے دربار میں آہیں بھی بھرتے ہیں۔

پاکستانیوں کی شان نرالی ہے۔ اس سال رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اعتکاف بیٹھے ۔ میرے اپنے محتاط اندازے کے مطابق ان میں ستر فی صد پاکستانی تھے۔ یادش بخیر ہمارے حالیہ وزیر داخلہ جناب احسن اقبال بھی مسجد نبوی شریف میں ہر سال دس دن کا اعتکاف کرتے ہیں۔ برادرم انجینئر امیر ضمیر احمد خان اس مرتبہ حرم میں مجھے ان سے ملوانے لے گئے۔ میرا خیال تھا کہ وفاقی وزیر ہیں کوئی خاص جگہ مقرر ہو گی۔ کوئی سیکیورٹی کوئی کھلی جگہ ‘ مگر جب ملاقات ہوئی تو وہ عام مسلمانوں کے ساتھ اعتکاف میں تھے تو بے اختیار زبان سے نکلا: بلاشبہ یہاں امیر فقیر سب یکساں اور برابر ہیں۔ احسن اقبال عام معتمرین کے ساتھ ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ۔ ان کے سامنے ایک صاحب چادر لے کر سوئے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا’’ یہ کون ہیں؟‘‘

جواب ملا’’ یہ ناروال کے ایم پی اے صاحب ہیں‘‘ میں بہت متاثر ہوا۔اس لیے صاحبو آج کی دنیا میں اسلام کے متعلق میں تو بڑا پر امید ہوں۔ میں تو آج کے حالات کا چالیس سال پہلے کے دور سے مقابلہ کرتا ہوں تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہوں کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے، مغلوب ہونے کے لیے نہیں آیا۔ آج سے پچاس سال قبل جب گاؤں کا چودھری فجر یا عشاء کی نماز پڑھنے مسجد میں آ جاتا تو ہر طرف چرچا ہو جاتا کہ نمبردار نمازی ہے۔

ریاض الجنۃ میں نوافل شروع کیے تو عجیب سا سرور اور مزہ آ گیا۔ ایسا لگا کہ پچھلے گناہوں کی معافی مل گئی ہے۔ آج میں دو دعائیں کثرت کے ساتھ کر رہا تھا ایک تو اپنے بیٹے محمد کے دارالحدیث مکہ میں داخلے کے لیے اور دوسری محترم جناب علی محمد ابو تراب صاحب کی بازیابی کے لیے۔۔۔ سوچا کونسی دعا پہلے مانگوں؟ زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی کبھی محمد کے لیے اور کبھی ابو تراب صاحب کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکل رہی تھیں۔ا س کے علاوہ ان کے لیے بھی جنہوں نے دعاؤں کی درخواست کی تھی اور ان کے لیے بھی جو اس مقام پر خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے لیے دعا کی جائے اور پاکستان کے عزت وقار کے لیے، اپنے کنبہ قبیلہ کے لیے ‘ دوست احباب کے لیے ‘ میں سن رہا ہوں، پولیس والے آپس میں گفتگو کر رہے ہیں کہ یہ دارالسلام کا مدیر ہے۔ دوسرا بولا’’ ہاں دارالسلام معروف ہے‘‘

میں نے کہا’’ اللہ تیرا شکر ہے کہ ان مقدس مقامات پر بھی دارالسلام کا ذکر ہے‘‘

میں نے نوافل ادا کیے‘ ابو تراب نورپوری صاحب کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے آگے پڑے میرے شوز والا تھیلا اٹھا لیا۔ میں نے آگے بڑھ کر تھیلا چھیننے کی کوشش کی، مگر ان کی گرفت مجھ سے زیادہ سخت تھی۔ کہنے لگے’’آپ اپنے سامان اور جوتوں کی فکر سے آزاد ہو کر آرام سے درود و سلام پیش کریں‘‘ شُرطیوں نے لوگوں کو قدرے دور رکھنے کے لیے انسانی باڑ بنا رکھی تھی۔ مدینہ یونیورسٹی کا طالب علم جو اس وقت حجرے پر ڈیوٹی دے رہا تھا، اس نے آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیا۔ اللہ کے رسولﷺنے امت کو سلام کا طریقہ سکھایا ہے جو ہم ہر نماز کے دوران التحیات میں پڑھتے ہیں:

السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ’’اے نبی اکرم ﷺآپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔‘‘

یوں بھی کہا جا سکتا ہے

السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ‘‘

اس کے بعد کچھ مزید دعائیہ کلمات استعمال کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں

صَلَّی اللَّہُ عَلَیْکَ وَعَلٰی آلِکَ وَأَصْحَابِکَ، وَجَزَاکَ اللَّہُ عَنْ أُمَّتِکَ خَیْرًا، اللَّھُمَّ آتِہِ الْوَسِیلَۃَ وَالْفَضِیلَۃَ وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمودَ الَّذِي وَعَدْتَہُ

ان الفاظ کو کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ الفاظ اللہ کے رسول ﷺکی قبر مبارک کے آگے کھڑے ہو کر کہیں یا قبر کے سامنے چلتے ہوئے ادا کرلیں ۔

(جاری ہے)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ