فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 277

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 277
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 277

  


ہم خاموشی سے ان کے ہمراہ چل پڑے۔ ان کا چہرہ سرخ ہو رہاتھا، یہاں تک کہ ہونٹ تک سرخ تھے جب وہ غصّے یا پریشانی میں مبتلا ہو تے تو ان کے گورے چہرے پر شفق سی کِھل جایاکرتی تھی۔

ان کی کار میں بیٹھ کر جب انہوں نے کار اسٹارٹ کردی مگر پھر بھی خاموش ہی رہے تو ہمیں اندازہ ہوا کہ یقیناً کوئی گڑ بڑ ہے ورنہ ملک باری کی رننگ کمنٹری اب تک شروع ہو جاتی۔

ہم نے پوچھا۔’’باری صاحب، آخر بتاتے کیوں نہیں کیا بات ہے۔ آخر ہوا کیا ہے؟‘‘

’’کچھ نہیں ہوا۔ محمد علی کا دماغ بہت گرم ہے۔ اسے اپنے غصّے پر قابو رکھنا چاہئے۔‘‘

بعد میں انہوں نے جو کچھ بیان کیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ عزیز اللہ حسن اور محمد علی کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ زیبا اسٹوڈیو سے باہر جانے کیلئے اس طرف سے گزریں اوران لوگوں کے پاس جا کر کھڑی ہوگئیں۔ آثار بتا رہے تھے کہ ان کے اور محمد علی کے مابین حسب معمول کشیدگی موجود ہے۔ محمد علی کی کسی بات پر زیبا نے کوئی تلخ بات کی جس پر مشتعل ہو کر محمد علی نے بے اختیار طمانچہ رسید کیا۔ زیبا کیلئے ہی نہیں، دوسرے لوگوں کیلئے بھی یہ ایک خلاف توقّع حرکت تھی جس نے سب کو ششدر کردیا۔ زیبا کیلئے یہ توہین ناقابل برداشت تھی۔ انہوں نے شعلہ بار نگاہوں سے محمد علی طرف دیکھا اور تیزی سے واپس اپنے میک اپ روم کی طرف چلی گئیں۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 276  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

محمد علی کی عادت اور فطرت کے پیش نظر یہ بات ناقابل یقین تھی کہ وہ کسی خاتون پر ہاتھ اٹھائیں گے اور وہ بھی زیبا پر۔ وہ فطری طورپر انتہائی وضع دار اور شریف آدمی ہیں۔ ہر عورت کا احترام کرتے ہیں۔ ہر خاتون سے مؤدب ہو کر بات کرتے ہیں۔ وہ کسی خاتون کو سختی سے مخاطب کرنے کے عادی بھی نہیں ہیں۔ کہاں یہ کہ انہوں نے بھرے اسٹوڈیو میں زیبا کو طمانچہ رسید کردیا۔ اگرہم خود اس واقعہ کے عینی شاہد نہ ہوتے تو شاید اس بات پر ہر گز یقین نہ کرتے۔

اس واقعہ نے زیبا کو آگ بگولا کردیا۔ سب سے زیادہ تکلیف انہیں اس بات سے ہوئی کہ ملک باری اور عزیز اللہ حسن جیسے شناسا لوگوں کی موجودگی میں یہ واقعہ پیش آیاتھا مگر کسی کو یہ جرأت اور توفیق نہ ہوئی کہ محمد علی کا ہاتھ پکڑ لیتا یا زیبا کی حمایت میں محمد علی سے الُجھ پڑتا۔ اس واقعہ نے زیبا کے ذہن میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ محمد علی نے جو گستاخی کی تھی زیبا اسے معاف یا درگزر کرنے پر آمادہ نہ تھیں۔ انہیں یہ احساس ہوا تھا کہ محمد علی کو اس گستاخی کا مزہ چکھانے کیلئے کسی مضبوط اور جرأت مند شخص کی حمایت حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے فلمی دنیا میں چاروں طرف نظریں دوڑائیں کہ کوئی ایسا جی دار اور سر پھرا نظر آئے جوزیبا کی حمایت میں محمد علی کے سامنے سینہ سپر ہو جائے اور محمد علی سے انکی توہین کا بدلہ لے سکے۔

پاکستان کی فلمی صنعت میں اس سے پہلے جس ہیرو کو جنگ جو ہیرو کا لقب حاصل تھا وہ سدھیرتھے۔ خالص پٹھان، اعلیٰ خاندان، خوش شکل، خوش اطوار، اعلیٰ درجے کے شکاری اور نشانہ باز۔ شائستگی اور خوش اخلاقی ان کے مزاج میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں لیکن مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو پل بھر میں آگ بگولا۔ فلمی دنیا میں سدھیر کو ہمیشہ احترام اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھا گیا۔ کسی نے کبھی ان کی پٹھانیت کو للکارنے کی جرأت نہیں کی۔ سدھیر نے اداکار، فلم ساز، ہدایت کار ہر حیثیت سے کام کیا اور نیک نامی اور شہرت کمائی۔ لگ بھگ چالیس برس پہلے انہوں نے اپنے زمانے کی سُپر اسٹار’’شمّی‘‘ سے شادی کرلی تھی جو تادم آخر قائم رہی ۔ وہ بہت اچھّی گھریلو زندگی بسرکر تے رہے۔ کسی زمانے میں شمّی اور صبیحہ ہی دو پاکستانی فلمی صنعت کی چوٹی کی ہیروئنیں تھیں جن میں سے ایک کوسدھیر صاحب نے اپنی بیگم بنا لیاتھا اور وہ اداکاری ترک کرکے گھرداری ہی میں خوش تھیں۔ سالہا سال کے بعد انہوں نے صرف ایک ہی فلم میں اداکاری کی تھی، یہ سدھیر صاحب کی ذاتی فلم ’’ساحل‘‘ تھی۔ جس کے ہیرو، فلم ساز اور ہدایت کار خود سدھیر ہی تھے۔ اس کے بعد پھر کسی نے شمّی کو کہیں نہ دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ تقاریب میں بھی نظر نہیں آئیں۔

یہ وہ سدھیر صاحب تھے جن پر زیبا کی نگاہ انتخاب تھی اور انہیں یہ محسوس ہوا تھا کہ سارے پاکستان میں صرف سدھیر ہی ایسے شخص ہیں جو محمد علی سے زیبا کی توہین کا بدلہ لے سکتے ہیں۔

اس شام کے واقعہ کے بارے میں زیبا نے اپنے منہ پر قفل لگا لیاتھا مگر ان کا ذہن اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ وہ سدھیر کے ساتھ فلموں میں کام بھی کر رہی تھیں۔ اسی دوران میں ان دونوں کے مابین گہرے مراسم اور پھرانڈرسٹیڈنگ پیدا ہوگئی اور پھرایک دن سب یہ جان کر حیران رہ گئے کہ زیبا نے سدھیر سے شادی کرلی ہے۔ زیبا نے یہ بم دراصل محمد علی پر پھینکا تھا لیکن ساری فلم انڈسٹری میں اس کا دھماکا سنا گیا اور اس کی لرزش محسوس کی گئی۔ زیبا ان دنوں ایک نہایت مصروف ہیروئن تھیں۔ کئی فلموں میں کام کر رہی تھیں اس لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اداکاری سے کنارہ کش ہو جائیں۔ غالباً انہوں نے شادی کے وقت یہ وعدہ بھی نہیں کیاتھا کہ وہ فلموں میں اداکاری ترک کردیں گی مگر سدھیر صاحب کے چاہنے والوں کو بخوبی علم تھا کہ بالآخر زیباکو سدھیر کی بیگم بننے کے بعد فلمی سرگرمیوں کو خیرباد کہنا ہوگا۔

محمد علی پر اس خبر نے کیا اثر کیا؟ یہ کوئی نہ جان سکا۔ اس لئے کہ انہوں نے اس موضوع پر کبھی کسی کے سامنے لب کشائی نہیں کی۔ وہ بالکل خاموش تھے۔ پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہوگئے تھے اور فلموں میں زیادہ انہماک سے کام کرنے لگے تھے۔ ان کی مصروفیات میں بے پناہ اضافہ ہوگیاتھا۔ پہلے اگر وہ چوبیس گھنٹوں میں سے بارہ گھنٹے کام کرتے تھے تواب ان کی کوشش یہ تھی کہ وہ صبح سات بجے سے رات کے بارہ ایک بجے تک مصروف رہیں۔ گویا۔ع

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے

والی بات تھی۔ انہوں نے پاکستان کی فلمی صنعت میں صبح سات بجے سے دس بجے تک ایک نئی شفٹ ایجاد کی تھی۔ اس سے پہلے فلموں کی شوٹنگ صبح دس بجے سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ رات کے دس بجے تک جاری رہا کرتی تھی لیکن محمد علی نے فلم سازوں کو ایک نئی راہ سجھائی۔ انہوں نے صبح سات بجے سے دن کے دس بجے تک ایک نئی شفٹ دریافت کرلی جسے ’’ٹیڈی شفٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس زمانے میں ٹیڈی پتلون، ٹیڈی زنانہ قمیض یہاں تک کہ ٹیڈی جوتوں تک کا فیشن ہو گیاتھا۔ مختصر، چست اور کم سے کم کپڑے کے استعمال سے تیار ہونے والے لباس کو ’’ٹیڈی‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ چنانچہ اس مختصرسی شفٹ کو ’’ٹیڈی شفٹ‘‘ کہا جاتا تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 278 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ