ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 16

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 16
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 16

  



16جدیدیت

بدقسمتی سے اتاترک نے قوم کو جدید بنانے کا جو راستہ اختیار کیا وہ مذہب کا کفن بن گیا۔اسلام کو بالجبر ریاست ہی نہیں بلکہ معاشرے اور تہذیب سے بھی نکالنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔تاہم بدیع الزماں نورسی جیسے اہل علم نے حکومت کے مقابلے سے ہٹ کر خاموشی سے کام کر کے عوام میں دینی روح بیدار رکھی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک صدی کے اندر اندر ان کے جبریہ سیکولرازم کے بجائے ایک مذہب پسند حکومت ترکی میں قائم ہے ۔جدیدیت کے اس عمل میں مذہب کے حوالے سے اتاترک نے جو کچھ کیا درست نہ تھا۔ مگر جو ایک سازشی تھیوری ہمارے ہاں مشہور کر دی گئی ہے کہ اتاترک ایک یہودی تھا ، یہ بات اپنی کمزوریوں کو نظر انداز کر کے اپنی ہر شکست اور ناکامی کا الزام اغیار پر ڈال دینے کی عادت کے سوا کچھ نہیں ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اُس دور میں مذہب دشمنی تنہا ترکی میں ہونے والا کوئی عمل تھا۔ترکی سو ویت یونین اور یورپ کے جس جغرافیے کے درمیان گھرا ہوا تھا وہاں دونوں طرف یہی کچھ ہورہا تھا۔اہل یورپ کا سامناجس جمود پسند مسیحی مذہبیت سے پڑ ا اس نے رفتہ رفتہ مذہب کے خلاف بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔ تاہم وہاں بغیر کسی جبر کے مذہب کو اجتماعی اور انفرادی زندگی سے نکال دیا گیا۔ جبکہ روس میں سیکولرازم نے حکومت کی طاقت کی بنیاد پر مذہب کو اجتماعی زندگی سے نکال باہر کیا تھا۔

ترکی میں بھی مذہبی جمود اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔خلافت کے سیاسی ادارے کو چونکہ مذہبی تقدس حاصل تھا اور اہل مذہب کو خلافت کی طرف سے مکمل تائید حاصل تھی، اس لیے حکمرانوں کے خلاف جو بھی لاوا پکتا اس کا رخ مذہب کی طرف بھی ہوجاتا تھا۔دوسری طرف یورپ کی دیکھا دیکھی جب ترکی والوں نے سائنسی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کچھ آگے بڑ ھنا چاہا تو اہل مذہب کی طرف سے اس کی مزاحمت کی گئی۔معاشرہ ہمیشہ تغیر پذیر رہتا ہے جبکہ اہل مذہب قدامت کی بیڑ یوں میں اسے جکڑ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہیں سے ایک فکری اور عملی تصادم شروع ہوجاتا ہے ۔یہ تصادم انیسویں صدی میں ترکی میں جاری رہا۔ بیسویں صدی میں جب سیکولر طبقات کو اقتدار ملا تو انھوں نے اہل مذہب کے ساتھ ساتھ مذہب کو بھی دیس نکالا دے دیا ۔ یورپ ، روس اور آخر میں ترکی سب کے ساتھ یہی ہوا۔ یہ چونکہ ایک غیر فطری اور انتہا پسندانہ عمل تھا اس لیے ا س دور کا خاتمہ ہوا اور اسی ترتیب سے مذہب کی واپسی ہوئی۔ یعنی پہلے مغرب، پھر روس اور پھر ترکی میں مذہبی فکر کا احیا ہوا۔

جبر کا خاتمہ

میرے نزدیک اللہ تعالیٰ دنیا کو اس جگہ لے آئے ہیں جہاں انسانیت کا آخری اورحتمی امتحان شروع ہورہا ہے ۔ یعنی اب نہ مذہبی جبر رہا ہے اور نہ سیکولر جبر ۔ اب ہر شخص اپنے نیک و بد میں آزاد ہے ۔ اب نہ کوئی آپ کو نیکی پر مجبور کرے گا نہ بدی پر۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں انسانیت کا پیغام پہنچادیں گے ۔اور پھر انسانوں کے پاس یہ موقع ہو گا کہ پوری آزادی کے ساتھ اپنا فیصلہ سنائیں ۔ جب انسان اپنا فیصلہ سنادیں گے تو اس کے بعد آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ سنائیں گے ۔موجودہ دور میں جبر کا خاتمہ اسی اختتام کا آغاز ہے ۔

شاپنگ سنٹر، ساحل اور ائیر پورٹ

فلورا شاپنگ سنٹر ایک وسیع و عریض شاپنگ سنٹر تھا جو بحیرہ مرمرہ کے حسین ساحل سمندر پر واقع تھا۔شاپنگ سنٹر کے عقب میں لب ساحل کھانے پینے کے لیے چھتریوں والے ریسٹورنٹ بنے ہوئے تھے ۔شاپنگ سنٹر بلندی پر تھا اور نیچے تک جانے کے لیے سیڑ ھیاں بنی ہوئی تھیں ۔ ایکیوریم جاتے ہوئے ہم نے یہ طے کیا تھا کہ خواتین سے ہم اسی جگہ پر ملیں گے ۔

جب ہم ایکیوریم دیکھ چکے تو میں اپنے بیٹے کے ساتھ باہر نکلا اور اسی جگہ پہنچ گیا ۔ اسریٰ، اوزگی اور میری بیگم تینوں وہاں موجود تھیں ۔اس جگہ سے ایک طرف تو بحیرہ مرمرہ کا دور تک پھیلا نیلگوں سمندر بہت خوبصورت لگ رہا تھا دوسری طرف فضا میں بھی ایک دلچسپ نظارہ موجود تھا۔شاپنگ سنٹر سے ذرا دور اتاترک ائیر پورٹ تھا۔جہاز لینڈنگ کے لیے سمندر کی طرف سے آتے تھے ۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ سمندر سے او پر فضا میں دور سے ایک ہی قطار میں جہاز آ رہے ہیں ۔ جہاں تک ہماری حد نگاہ تھی ہم نے یہ دیکھا کہ ایک وقت میں چار طیارے ایک کے پیچھے مسلسل آ رہے ہیں اور ہر منٹ میں جہاز ہمارے سامنے سے گزرکر لینڈ ہورہا ہے ۔

میرا خیال تھا کہ شام کے وقت یہاں بیٹھنا یقینا ایک شاندار تجربہ ہوتا ہو گا۔ کیونکہ سمندر مغرب کی سمت تھا اس لیے غروب آفتاب کا خوبصورت نظارہ بھی یہاں سے دیکھنا ممکن ہوتا ہو گا۔ دنیا بھر میں لوگوں نے اپنے ساحلی مقامات کو بہترین تفریحی مقامات میں بدل دیا ہے ، مگر پاکستان کے سب سے بڑ ے ساحلی شہر کراچی جو خوبصورت ترین ساحلی مقامات کا حامل ہے وہاں سردست تو پینے کے پانی کے لالے پڑ ے ہوئے ہیں ۔جو قوم دریائے سندھ کے پاس ہونے کے باوجود پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہ کرسکے ، اس کے ساحلی مقامات اگر تباہ حال ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : سیرناتمام