اسحاق ڈار اور لندن میں مقیم قاضی فیملی کا دراصل آپس میں کیا تعلق ہے ؟ پہلی مرتبہ تفصیلات منظرعام پر

اسحاق ڈار اور لندن میں مقیم قاضی فیملی کا دراصل آپس میں کیا تعلق ہے ؟ پہلی ...
اسحاق ڈار اور لندن میں مقیم قاضی فیملی کا دراصل آپس میں کیا تعلق ہے ؟ پہلی مرتبہ تفصیلات منظرعام پر

  

لندن (ویب ڈیسک) ”حدیبیہ پیپر ملز“ کا 17 سالہ پرانا مقدمہ کھلنے کے بعد لندن کی قاضی فیملی ایک دفعہ پھر اہمیت اختیار کر گئی ہے، قاضی فیملی ،شریف فیملی اور اسحاق ڈار کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا ،یہ وہی قاضی فیملی ہے جس کا الزام ہے کہ اسحاق ڈار نے دھوکہ دہی سے ان کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیز پر لاہور میں غیرملکی بینکوں میں ان کے نام پر اکاﺅنٹس کھلوائے اور بینکوں سے بڑی رقم کے قرض حاصل کر کے ملٹی ملینز پاﺅنڈز کی منی لانڈرنگ کی جس سے لندن میں مے فیئرز کے فلیٹس دے کر جائیدادیں خریدنے کے علاوہ ہمارے انہی اکاﺅنٹس پر حدیبیہ پیپر ملز بھیجے بھاری رقوم حاصل کی اور پھر اسی آفر میں منی لانڈرنگ بھی کی۔ معلوم ہوا ہے کہ قاضی فیملی پر بظاہر تو یہی کلیم کرتی ہے لیکن حقائق یہ ہیں کہ 20 سال پہلے درمیانے درجے کی مالی حیثیت کھنے والا  قاضیخاندان آج خود ملٹی ملینز ہے اور انکے صرف لندن میں ہی تین ایسے بڑے سٹور میں جہاں ڈیزائنر جینز اور دیگر ریڈی میڈ کے فروخت ہوتے ہیں حیران کن حد تک 90 کی دہائی کے آخر میں UTTER NUTTER کے نام سے ایک چھوٹی سی دکان نے مہنگے ترین ڈیزائنر سٹور کی برانچز تک کا سفر بڑی تیزی سے طے کیا اور یہ سفر اسحاق ڈار کی طرف سے اس فیملی کے جعلی اکاﺅنٹس کھلوانے کے بعد شروع ہوا تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ قاضی فیملی قطعی طور پراس کیس میں دوبارہ الجھنا نہیں چاہتی اور ان کی فیملی کا کوئی فرد پاکستان جاکر عدالت میں پیش نہیں ہوگا کیونکہ ایک تو اسحٰق ڈار اور شریف فیملی آج بھی ان کے قریب ہے دوسرا وہ کسی ایسی عدالتی یا ریاستی اداروں کی انکوائری کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں گواہی دیتے ہوئے ان کی اپنی تفتیش شروع ہوجائے کہ آپ کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق مذکورہ دونوں خاندانوں کے مابین کوئی خلیج نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں قاضی فیملی کے پاکستان کے  وی آئی پیز دوسرے بھی ریکارڈ ہیں اور لندن میں بھی اسحاق ڈار اور شریف فیملی نے ان کی ہر طرح سے لک آفٹر کی ،آج بھی ان کے باہمی روابط موجود ہیں انہیں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ اور دیگر جگہوں پر اکٹھابھی دیکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک دلچسپ اتفاق یہ بھی ہے کہ مشرقی لندن کے علاقہ الفورڈ میں واقع مہنگی ترین کثیر المنزلہ عمارت کے شاپنگ مال میں بھی قاضی فیملی کا ایک بڑا سٹور موجود ہے عمارت مبینہ طور پر شریف فیملی کی ملکیت ہے۔ خبریں کو اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ قاضی فیملی 1997-98 میں اس وقت منظر عام پر آئی جب لندن میں سکارٹ لینڈ یارڈ پولیس کا اپنا ایک آفیسر سارجنٹ پاول منشیات کے الزام میں پکڑا گیا اور اس کے بیگ سے قاضی فیملی کے انہی پاسپورٹس کی فوٹو کاپیز برآمد ہوئیں جو اس فیملی کے مطابق انہوں نے اسحاق ڈار کو اس لیے دی تھیں کہ وہ ان کے شناختی کارڈ بنوادے تاکہ انہیں پاکستان جا کر آسانی رہے لیکن  یہیں سے ہماری زندگیاں تبدیل ہو گئیں۔

کاشف قاضی کے مطابق 1992ءمیں ہمیں امریکن بینک لاہور سے پہلی بینک سٹیمنٹ موصول ہوئی تو ہم حیران رہ گئے ہم نے اسحاق ڈار سے پوچھا تو انہوں نے کہا پریشان مت ہوں یہ غیرقانونی نہیں بس تھوڑے پیسے بنانے کاذریعہ ہے لیکن بعدازاں ہمیں علم ہوا کہ لاہور میں سٹی بینک الفیصل بینک لمیٹڈ اطلس بوٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ اور بینک آف امریکہ سے ہمارے نام پر اربوں روپے رقوم حاصل کی گئیں اور بینکوں کو تاثر دیا گیا کہ یہ قوم حدیبیہ پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ جنرل بورڈ ملز لمیٹڈ چودھری شوگر ملز لمیڈ اور لندن کے مے فیئرز فلیٹس کے بطور قرض لی گئی ہیں۔ کاشف قاضی کے مطابق جلد ہی مذکورہ بینکوں کی طرف سے ہمیں تواتر کے ساتھ ڈیمانڈ لیٹر آنا شروع ہو گئے کہ  قرضوں کی اقساط ادا کریں کیونکہ 440 ملین پونڈ سے زیادہ کی رقم میری والدہ سکندرا ان کی بہو نزہت گوہر اور ہمارے دیگر فیملی ممبرز کے نام پر حاصل کی گئی تھیں یہی وہ بیان تھا جو قاضی فیملی نے پولیس کی اس تفتیش کے دوران دیا کہ ان کی فمیلی کے پاسپورٹس کی فوٹو کاپیز سارجنٹ پاول کے بیگ سے کیسے برآمد ہوئیں؟ منشیات کے اس کیس شائستہ خان اور خامیتا خان گرفتار ہوئے اور یہ انہوں نے اعتراف جرم بھی کیا۔ اس کیس میں شریف فیملی کے چند انتہائی قریبی لوگوں کے نام بھی آئے ان میں سے سے ایک شخص ابھی تک امریکہ کو بھی مطلوب ہے ۔انہی دنوں کاشف قاضی نے میڈیا کو جو بیانات دیئے وہ بھی ریکارڈکا حصہ ہیں انہوں نے بتایا کہ اسحٰق ڈار1960ءکی دہائی میں ہمارے ایک مشترکہ دوست کے توسط سے مزید تعلیم کیلئے لندن آئے، میرے والد مسعود قاضی نے ہی انہیں سپانسر کیاتھا انہوں نے ہم چاروں بھائیوں کے ساتھ اسحٰق ڈار کو چھوٹا بیٹا بنا کر رکھا، وہ سات سال تک ہماے ساتھ رہا اور1974ءمیں واپس پاکستان چلا گیا، لیکن وہ جب بھی لندن آتا ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا لکین اس نے ہمارے ساتھ محسن کشی کی اور معاشرے میں ہماری ساکھ خراب کی۔

رپورٹ کے مطابق 1.242 کھرب روپے مالیت کا” حدیبیہ پیپرز ملز“ کیس مارچ2000 ءکو منظر عام پر آیا اور اسے احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو اس میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا جبکہ مریم نواز، حمزہ، عباس شریف اور انکی بیگم صبیحہ شریف بھی نامزد تھیں لیکن شریف فیملی کی سعودی عرب جلا وطنی کیوجہ سے یہ کیس دب گیا پھر مئی2014 ء  میں ہائی کورٹ نے یہ کیس ختم کردیا، لیکن رواں سال ستمبر میں” نیب“ نے ایک دفعہ پھر ان کیس کو چیلنج کیا اور عدالت سے کہا ہمارے پاس کچھ تازہ ترین ثبوت بھی موجود ہیں، یاد رہے کہ اسی کیس میں25 اپریل2000 ءکو اسحٰق ڈار نے ضلعی مجسٹریٹ کو43 صفحات پر مشتمل اپنا اعترافی بیان دیاتھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف14.886 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے سکندر مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے نام پر اکائونٹ کھلوائے جس سے شریف برادران کے کہنے پر منی لانڈرنگ کی اور میں نے ہی قاضی فیملی کو1990ءمیں لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں نواز شریف سے تعارف کروایا اور میں نے قاضی فیملی کے118 اکائونٹس بھی نواز شریف کے کہنے پر ہی کھلوائے تھے کیونکہ نواز شریف چاہتے تھے کہ میں انہیں کم و بیش100 ملین روپے کی کریڈٹ لائن مہیا کروں، اسحٰق ڈار نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف نے مجھے باور کروایا کہ قاضی فیملی کا سربراہ راضی ہے کہ ان کے نام پر یہ ”بے نامی“ اکاو¿نٹس کو کسی بھی قسم کی انکوائری سے استثنٰی دے دیا گیا، تاہم اسحٰق ڈار حالیہ برسوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ مذکورہ اعترافی بیان ان سے دبائو ڈال کر لیا گیا تھا،” خبریں“ انویسٹی گیشن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چند ہفتے پہلے” حدیبیہ پیپرز ملز“ کیس کے سلسلہ میں ہی” نیب“ کی ٹیم نے لندن میں قاضی فیملی کے افراد سے ملاقات کی کوشش کی تھی یہ ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن ٹیلی فون رابطہ پر قاضی فیملی نے پاکستان آکر عدالت میں اپنا بیان دینے پر نیم رضا مندی ظاہر تو کی تھی لیکن یہ بھی کہا تھا کہ وہاں ہماری جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

مزید : برطانیہ