حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات ختم، ڈیڈ لاک برقرار

حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات ختم، ڈیڈ لاک برقرار
حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات ختم، ڈیڈ لاک برقرار

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان پونے تین گھنٹے سے جاری مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔ دھرنا کمیٹی وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہے جبکہ حکومت وزیر قانون کے مستعفی ہونے سے انکاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”کیا آپ کو جمائمہ یاد آتی ہے۔۔۔؟“ منصور علی خان نے انٹرویو کے دوران عمران خان سے سوال پوچھا تو انہوں نے ایسا جواب دیدیا کہ سن کر جمائمہ خان کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے 

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں خواجہ سعد رفیق، زاہد حامد، راجہ ظفر الحق، انوشہ رحمان، پیر عنایت الحق شاہ، وحید نور، وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ، چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور کمشنر راولپنڈی شریک تھے۔

یہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں کیونکہ دھرنا کمیٹی وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہے جبکہ حکومت وفاقی وزیر کے مستعفی ہونے سے انکاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ اگر آپ کرکٹر بن کر پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ محمد حفیظ نے پاکستانی نوجوانوں کو وہ راز بتا دیا جو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے، جان کر آپ فوراً۔۔۔ 

ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایک چیز کی وضاحت کر دی ہے جبکہ دھرنا کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں