غرب اردن میں مسجد کے قریب یہودیوں کی عبادت پر تنازع

غرب اردن میں مسجد کے قریب یہودیوں کی عبادت پر تنازع
غرب اردن میں مسجد کے قریب یہودیوں کی عبادت پر تنازع

  



الخلیل (صباح نیوز)فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ایک مسجد کے قریب یہودی آباد کاروں نے اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق نماز ادا کرنے کی کوشش کی جس پر فلسطینی عوام میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

دہشتگردوں کے حامیوں کیخلاف ایکشن ضروری ہے :بھارت اور فرانس کا اتفاق

غیر ملکی میڈیاکے مطابق اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں الحاسیدیہ تنظیم کے بریسلوف فرقے سے تعلق رکھنے والے 300 یہودی آباد کاروں نے غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل الحلحول میں ایک مسجد میں گھسنے کی کوشش کی۔ یہودیوں کا دعوی ہے کہ اس مسجد میں ان کے 2 انبیا کرام کی قبریں موجود ہیں۔ایک یہودی آباد کار کا کہناتھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب 18 سال کے بعد انہیں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقے میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس موقع پر مشتعل فلسطینیوں نے آباد کاروں پر پٹرول بموں سے حملہ کیا اور سنگ باری کی تاہم سیکیورٹی فورسز نے فلسطینیوں کو منتشر کردیا تھا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔یہودیوں کی روایات کے مطابق الخلیل کے شمالی علاقے حلحول کی جامع مسجد میں یہودیوں کی قبریں موجود ہیں۔ یہودی اس مسجد کے قریب گئے جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں۔

مزید : بین الاقوامی