نئی حلقہ بندیوں سے قبل عام انتخابات کروانے کی کوشش بے سود ،ایسے الیکشن کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی :اٹارنی جنرل پاکستان

نئی حلقہ بندیوں سے قبل عام انتخابات کروانے کی کوشش بے سود ،ایسے الیکشن کی ...
نئی حلقہ بندیوں سے قبل عام انتخابات کروانے کی کوشش بے سود ،ایسے الیکشن کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی :اٹارنی جنرل پاکستان

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی)اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں سے قبل عام انتخابات کروانے کی کوشش کی گئی تو ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی ۔آئین کے تحت قومی اسمبلی کی نشستوں کا تعین آخری مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔

آئندہ 48گھنٹوں بعد موسلادھار اور کہیں درمیانے درجے کی بارش کا امکان

لاہور ہائی کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ عام انتخابات وقت سے قبل نئی حلقہ بندیوں کے بغیر کروائے گئے توآئینی طور پر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے اسمبلیاں توڑنے یا سزامعاف کرنے کا اختیار وزیر اعظم اور کابینہ کی سفارش سے مشروط ہے۔اسمبلیاں توڑنے یا سزا معاف کرنے میں صدر پاکستان کا کردار محدود ہے ان کو وزیر اعظم کے مشورے کے تابع کر دیا گیا ہے،اسمبلیاں موجود ہوں یا نہ ہوں صدر پاکستان کے کوانتظامی امورچلانے اور آرڈیننس کی صورت میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، تمام ملکی امور صدر مملکت کے نام سے ہی چلائے جاتے ہیں تاہم صدر کے اختیارات کی حیثیت ملکہ برطانیہ یا بھارتی صدر کے اختیارات جتنی ہے،میاں محمدنوازشریف کی جانب سے رائے ونڈ میں کابینہ اجلاسوں کی صدارت سے متعلق اعتراضات بے بنیاد ہیں، جمہوری ممالک میں پارٹی سربراہ ہی کابینہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں،کیا پرویز خٹک عمران خان اور مراد علی شاہ آصف علی زرداری کی صدارت میں کابینہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے؟وزیراعظم مکمل بااختیار ہیں کسی کے اشاروں پر کام نہیں کر رہے،انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کی شقیں بحال ہونے کے بعد دھرنا پرامن طور پر ختم ہونا چاہیے ،وزیر خزانہ کو ڈالا گیا سٹنٹ درست کام نہیں کر رہا وہ سفر نہیں کر سکتے اسی لئے عدالت میںپیش نہیں ہو رہے ،اسحاق ڈار اور زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ بے بنیاد ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کلبھوشن کی درخواست پر اس کی اہلیہ کو اسلامی تعلیمات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنا قابل مذمت ہے ،خطے میں پائیدار امن کے لئے امریکہ افغانستان میں در اندازی بند کرے اور افغانستان کو دہشت گردوں کی مالی مدد بند کرنےکا پابند بنائے،انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں تاخیر سے چین میں بے چینی پائی جا رہی ہے،لاہور میںاورنج ٹرین منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے سے اس کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

مزید : لاہور