صرف سڑکیں اور توانائی کے منصوبے نہیں، اب چین سی پیک کے تحت پاکستان میں کون سے منصوبے لگانے والا ہے؟ پاکستانیوں کے لئے سب سے بڑی خوشخبری آگئی، دن پھرنے والے ہیں کیونکہ۔۔۔

صرف سڑکیں اور توانائی کے منصوبے نہیں، اب چین سی پیک کے تحت پاکستان میں کون سے ...
صرف سڑکیں اور توانائی کے منصوبے نہیں، اب چین سی پیک کے تحت پاکستان میں کون سے منصوبے لگانے والا ہے؟ پاکستانیوں کے لئے سب سے بڑی خوشخبری آگئی، دن پھرنے والے ہیں کیونکہ۔۔۔

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت اکثر سڑکوں اور توانائی منصوبوں کا ہی ذکر سننے کو ملتا ہے لیکن اب مزید ایسی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ جن سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کیوں اسے خطے کی تقدیر بدلنے والا تاریخی منصوبہ کہا جاتا ہے۔ ویب سائٹ dawn.com کے مطابق جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) برائے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی ایک اہم میٹنگ کل (بروز منگل) منعقد ہو رہی ہے جس میں 2017ءسے لے کر 2030ءتک ، یعنی اگلے 13سال کے لئے اہم ترین شعبوں میں باہمی تعاون کے طویل المدتی پلان کو حتمی شکل دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق لانگ ٹرم پلان کا ڈرافٹ، جسے دسمبر میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی چھٹی جے سی سی میٹنگ میں حتمی شکل دی گئی تھی، اور جسے صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے، میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اعلیٰ سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدرت پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلقہ ایک اعلیٰ سطحی کابینہ کمیٹی اصولی طور پر پہلے ہی یہ منظوری دے چکی ہے کہ 2020ءتک پہلے مرحلے کے دوران بننے والے نو خصوصی انڈسٹریل و اکنامک زونز میں کی جانے والی تمام سرمایہ کاری کے لئے خصوصی مراعاتی پیکج اور ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔

آج (بروز پیر) منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ کا آغاز طویل المدتی پلان کے تحت اقتصادی و صنعتی تعاون پر بات چیت سے ہوا۔ طویل المدتی پلان سے متعلقہ تمام چھ جوائنٹ ورکنگ گروپس، جن میں انڈسٹریل کوآپریشن، گوادر، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، توانائی اور سکیورٹی شامل ہیں، کی سربراہی وفاقی سیکرٹریز اور ان کے چینی ہم منصب کریں گے۔ اگلے روز سے جے سی سی کی رسمی نشست کا آغاز ہوگا جس کی سربراہی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال اور چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے نائب چیئرمین وانگ شیاﺅ تاﺅ کریں گے۔

اس طویل المدتی پلان کے تحت ”2+1+5“ سیاحتی سٹرکچر کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ یہ سیاحتی سٹرکچر دو مراکز، ایک محور اور پانچ زونز پر مشتمل ہوگا۔ دو مراکز کراچی اور گوادر ہیں جبکہ ان کے درمیان کوسٹل بیلٹ محور تصور ہوگا۔ اس محور کے ساتھ ساتھ عظیم الشان سیاحتی و ترقیاتی منصوبے قائم کئے جائیں گے۔ پانچ سیاحتی زون جیوانی اینڈ گوادر، جیدیجیاﺅ، اولمارا، سون میانی اور کیٹی بندر ہوں گے۔ مجموعی طور پر یہ ایک ایسا وسیع و عریض اور شاندار سیاحتی انفرا سٹرکچر ہو گا کہ جس کی مثال پورے خطے میں نہیں ہو گی۔ یہ صرف پاکستانی عوام ہی نہیں بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے بھی خطے میں پرکشش ترین سیاحتی مقامات کا طویل و عریض سلسلہ ہو گا، اور مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر روزگار کا ذریعہ بھی ہو گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس