’تین سال قبل میری شادی ہوئی، خوش باش زندگی گزار رہا تھا کہ پچھلے ماہ میری دوسرے شہر ٹرانسفر کردی گئی، میری بیگم میرے والدین کے ساتھ ہی رک گئی لیکن تھوڑے دن پہلے اتفاق سے میں نے اس کا ای میل ان باکس کھولا تو یہ دیکھ کر زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا کہ وہ چپکے چپکے۔۔۔‘

’تین سال قبل میری شادی ہوئی، خوش باش زندگی گزار رہا تھا کہ پچھلے ماہ میری ...
’تین سال قبل میری شادی ہوئی، خوش باش زندگی گزار رہا تھا کہ پچھلے ماہ میری دوسرے شہر ٹرانسفر کردی گئی، میری بیگم میرے والدین کے ساتھ ہی رک گئی لیکن تھوڑے دن پہلے اتفاق سے میں نے اس کا ای میل ان باکس کھولا تو یہ دیکھ کر زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا کہ وہ چپکے چپکے۔۔۔‘

  


ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)میاں بیوی کے درمیاں اعتماد اور بھروسے کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے ایک لحاظ سے یہ اتنا ہی نازک اور حساس بھی ہوتا ہے۔ ایک بار اس میں بال آ جائے تو پھر پہلے جیسا شفاف تعلق ہزار کوشش سے بھی استوار نہیں ہو سکتا اور زندگی ایک مستقل درد بن کر رہ جاتی ہے۔ بیوی کو ماں باپ کے پاس چھوڑ کر ملازمت کے لئے دوسرے شہر جانے والے ایک بھارتی نوجوان کے ساتھ پیش آنے والا دردناک واقعہ بھی ایک ایسی ہی مثال ہے، جس کا تذکرہ اس نے کونسلنگ سائیکالوجسٹ زنخانہ جوشی کو بھیجے گئے سوال میں کچھ یوں کیا ہے:

میری شادی کو تین سال ہوچکے ہیں اور میری ازدواجی زندگی بہت اچھی اور خوش باش گزر رہی تھی کہ ٹرانسفر کے بعد ملازمت کے لئے مجھے ایک اور شہر منتقل ہونا پڑگیا، تاہم میری اہلیہ نے میرے والدین کے ساتھ ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے شہر جانے کے بعد ایک روز اچانک مجھے اس کا ای میل اکاﺅنٹ دیکھنے کا موقع ملا تو ایک گہرا صدمہ میرا منتظر تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ سارا سارا دن بات چیت کرتی رہتی ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ بات چیت رات کے وقت بھی ہونے لگی اور رفتہ رفتہ ایک معاشقے میں بدلنے لگی۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے آپس میں موبائل فون نمبرز کا بھی تبادلہ کرلیا۔ اب مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کے درمیان معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں۔ میرا اس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ اس سے بات کروں بھی تو کیا کروں، کہ شاید اب عمر بھر میں اس پر بھروسہ نہیں کر پاﺅں گا۔

یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کبھی غلطی سے بھی اپنے موبائل پر فحش فلمیں نہیں دیکھیں گے

زنخانہ جوشی اس نوجوان کے مشکل سوال پر اسے جواب دیتے ہوئے لکھتی ہیں:

دیکھئے آپ دونوں کے درمیان تین سال تک اچھا تعلق رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کی دوری ہی حالات کی خرابی کی وجہ بنی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی اہلیہ آپ کی عدم موجودگی میں افسردہ اور تنہا محسوس کرتی ہوں۔ عین ممکن ہے کہ وہ جذباتی خلاءکو پر کرنے کے لئے کسی اور سے رابطے میںہوں۔ البتہ، یہ بات بھی اہم ہے کہ انہوں نے آ پ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا۔

انٹرنیٹ پر دوستی، خاتون ملاقات کرنے آدمی کے پاس پہنچی تو اس کے جسم کا کونسا حصہ کھانے میں کھاگیا؟ جن کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے

میرا خیال ہے کہ آپ ایک دوسرے سے دوری کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کم کرسکتے ہیں۔ باقاعدگی سے بات چیت کرنے سے آپ کے درمیان جذباتی تعلق پھر سے استوار ہونے سے حالات کے درست نہج پر آنے کی بھرپور امید ہے۔ آپ کا تعلق ایک بار پھر مثبت طور پر بحال ہونے کے بعد آپ اس موضوع پر بھی بات کرسکتے ہیں۔ اعتماد بھی دوبارہ بحال ہوسکتاہے۔ اس کے لئے آپ کو ٹھنڈے دل کے ساتھ کچھ غور و فکر کرنا ہوگا اور مصلحت کے ساتھ مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔ تعلق کے ختم ہوجانے سے اس کا دوبارہ بحال ہونا اور پھر سے مضبوط ہو جانا کہیںاچھا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس