بھارتی شہری نے پاکستان آکر ایسا کام شروع کردیا کہ بھارتیوں کا غصہ آسمان پر جا پہنچا

بھارتی شہری نے پاکستان آکر ایسا کام شروع کردیا کہ بھارتیوں کا غصہ آسمان پر جا ...
بھارتی شہری نے پاکستان آکر ایسا کام شروع کردیا کہ بھارتیوں کا غصہ آسمان پر جا پہنچا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی شہریوں کے ذہن میں پاکستان سے نفرت کا بیج بویا جاتا ہے اور وہ بیج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک تناور درخت بن جاتا ہے مگر جو بھی بھارتی پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہے وہ اس کے حسن کا دلدادہ ہوجاتا ہے، یہاں کی سوغاتیں، مہمان نوازی ، انسانیت اور محبت کے رشتے بھارتی شہریوں کے دل کو موہ لیتے ہیںمگر جو بھی بھارتی شہری پاکستان کی حمایت میں بیان دیتا یا کوئی بات کرتا ہے اس کو اپنے ہی ملک سے طعنے سننے کو ملتے ہیں اور غداری کے القابات سے نوازہ جاتا ہے، ایسا ہی بھارت صحافی شیوم وج کے ساتھ جو لاہور کے دورے پر ہیں اور اپنی مصروفیات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کر رہے ہیں مگر ان کی جانب سے پاکستان کی تعریفیں بھارتی شہریوں کو ہضم نہیں ہو رہیں۔

بھارتی صحافی شیوم وج ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں ، انہوں نے اپنے دورے کے دوران واہگہ بارڈر سے لے کر ہر جگہ کے دورے کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئرز کیں ، انہوں نے لاہور کو ایک مختلف نظر سے دیکھا ، وہ لاہور کے ہر اس مقام پر گئے جو کسی نہ کسی وجہ سے شہرت کا حامل تھا۔

دہلی کے صحافی واہگہ بارڈ پر پہنچے تو انہوں نے تمام دہلی والوں کو خوشخبری سنادی کہ وہ اب پنجاب کے خوبصورت ترین مقام پر پہنچ گئے ہیں، انہوں نے لاہور کے فوڈ سٹریٹ کے دورے کے دوران اپنی تصویر بنائی اور اس ”بے شرم سیاح“ کی کیپشن کے ساتھ اسے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کردیا۔

لاہور کے خاص کشمیری چائے پیتے ہوئے بھارتی سیاح رقم طراز ہوئے کہ لاہور کی ”کشمیری چائے“ نمکین چائے ، قہوے اور لیپٹن کا مکسچر ہے اور اس مکسچر نے اسے پنجابی بنا دیا ہے۔ انہیں لاہور کی سڑکوں پر بھکاری تلاش کرنے میں تین دن لگے مگر تین دنوں کے بعد انہیں ایک سڑک پر خاتون بھیک مانگتے ہوئے نظر آئی۔شیوم وج لاہور شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ سے بھی خاصے متاثر نظر آئے ،

انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں لاہور کی میٹرو بس سروس کی بھی جی بھر کر تعریفیں کیں۔بھارتی شہر دہلی میں ٹریفک کے نظام سے پریشان صحافی نے ایک ٹوئٹ میں لاہوریوں کی تعریف کرتے ہوئے دہلی والوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور کہا کہ میں لاہوریوں سے پوچھ پوچھ کر تنگ آگیا ہوں کہ ٹریفک کہا ں ہے ؟ ٹریفک کہاں ہے؟ یہاں کے لوگ میٹرو میں سوار ہونے کے لئے پل کیوں نہیں پھلانگتے؟

شیوم وج گلبرگ کی فیرنی کے بھی عاشق نظر آئے ، فیرنی کی تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ میں نے لاہور کے کھانوں کی دہلی کے مقابلے میں جتنی بھی تصویریں اپ لوڈ کیں ان میں ایک اور تصویر کا اضافہ کروں گا ، اس فیرنی کی وجہ سے بھی لاہور دہلی کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

شیوم وج کی تصاویر سامنے آنے کے بعد بھارتی عوام کو آگ لگ گئی ، تاولین نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لاہور کی تصاویر اپ لوڈ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ بے وقوف صحافی جھگڑالو پاکستان کی تصاویر ایسی کیپشن لگا کر اپ لوڈ کر رہا ہے جیسے وہ پاکستان نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملک نیوزی لینڈ میں گیا ہوا ہے۔

تاولین کے ٹوئٹ کے جواب میں ایک پاکستانی صارف زینب نے لکھا کہ آنٹی جی لاہور کا ایک لبرٹی چوک آپ کے سارے بھارت سے خوبصورت ہے، سوچ لیں کہ پاکستان ایک چوک اتنا پیارا ہے تو باقی پاکستان کتنا خوبصورت ہوگا۔ آپ دونوں ممالک میں نفرتیں نہ پھیلائیں ، صحافی نے پاکستان کا وہ چہرہ دکھایا ہے جو آپ کا میڈیا نہیں دکھاتا۔اس کے علاوہ بھی ٹوئٹر پر بھارتی صحافی کو اپنے ہم وطنوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس