سانجھی بیٹیاں

سانجھی بیٹیاں
سانجھی بیٹیاں

  



سنا کرتے تھے بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں ۔ کافی عرصے تک اس کی عملی تفسیر سے لطف اندوز بھی ہوئے ہیں۔ ہماری والدہ سرکاری معلمہ تھیں اور ان کا تبادلہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ہوتا رہتا تھا۔ اب یہ ان کی طفیل زیادہ تھا یا واقعی زمانہ سادہ تھا کہ ہم گھر سے باہر پہروں کھیلتے، بچے بچیاں ساتھ ہوتیں ، سورج چاند کو روشن کردیتاتوایسے میں جس کے گھر کے بڑے سے صحن میں ہم کھیلتے ان کا بڑا ہمیں جھڑکتا تو اس بات پر کہ چلو کھانا کھاو۔بلا تخصیص کہ کتنے بچے ہیں اور کس کس کے بچے ہیں، سب کو ٹھونس ٹھونس کر کھانا کھلایا جاتا اور دودھ کا گلاس بھر کر دیا جاتا، شکم سیری اور تھکاوٹ سے چور کوئی بچہ وہیں سو جاتا تو کبھی اس کے گھر والے آتے اور یا تو بچے کو لے جاتے یاوہ وہیں سویا رہتا۔

ہمیں اپنے ذہن پر لاکھ زور دینے کے باوجود ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں آرہا کہ اس دوران کسی لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی یا کسی نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی ۔ ہاں ۔۔۔شبو آپی اور سلیم بھائی اگر ایک دوسرے کو جوان ہونے پر چھپ چھپ کر دیکھتے پائے بھی جاتے تو شبو آپی چپ چاپ وہیں شادی کر لیتیں جہاں ماں باپ کہتے ۔چار دن آنسو بہا لیتیں اور سلیم بھائی بھیآہیں بھرتے خاموش ہو جاتے۔ 

مجھے یاد ہے اوائل عمری میں یہی کوئی دس گیارہ سال کی عمر میں گاؤں کے ایک لڑکے نے ہمیں ایک لوّ لیٹر تھمایا جس پر کچھ دل کی ٹیڑھی میڑھی سی شکلیں بنی ہوئی تھیں۔ شدید غصہ آیا۔ تنتناتے ہوئے اس کے گھر پہنچے اور اس لڑکے کے ابا کو وہ خط تھما دیا ۔ سارے خاندان نے اس کی پٹائی کردی اور ہم سے بھی اس کو تھپڑ رسید کروائے گئے۔َ یہ جملہ کوئی سو بار کہلوانے پر لڑکے کی جان خلاصی ہوئی کہ یہ میری بڑی بہن ہے۔ کسی نے خط کھول کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ آخر اس معصومانہ سے خط میں تھا کیا ؟ بس سب کے لیے اہم یہ بات تھی کہ یہ بیٹی ہے اور بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں ۔ ان کے سگے بچے نے ان کی ناک کٹوا دی ہے۔ غیرت کا یہ پیمانہ اس لیے تھا کہ وسائل کم تھے لیکن شکر گزاری اور اللہ کا خوف تھا۔ یہ ڈر کہ آج جو بوئیں گے کل وہی کاٹنا پڑے گا ۔لوگوں کو ہلکان کئے رکھتا تھا کہ برا نہیں کرنا۔ بیٹیوں کے لحاظ میں اپنی کملی بچھانے والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا مان اور غرور جو تھا۔جبکہ آج کے دور میں یہ شرم جھجھک دور ہو چکی ہے کوئی ہمارا کیا بگاڑ لے گااور تم کون ہوتے ہو میرے معاملات میں دخل اندازی کرنے والے کا فلسفہ ہمارے معاشرے کو ایک عجیب طرف لے چلا ہے۔ وہ میڈیا جو ڈراموں میں ڈوپٹے کی پالیسی کو مدنظر رکھتا تھا اور رات بارہ بجے ٹرانسمشن بند کر دیا کرتا تھا اب ریٹنگ کے چکر میں بارہ بجے کے بعد مخصوص چینلز پر مخصوص مواد لگاتا ہے، اور نام دیا جاتا ہے پبلک ڈیمانڈ کا۔ لیکن اگر آپ مستقل ایک چیز چلائی جا رہے ہیں تو چھوٹے بڑے بلا تخصیص اسے دیکھیں گے اور اس کے عادی ہو جائیں گے۔ 

میڈیا پر باآسانی رسائی نے جھجھک اور شرم اور لحاظ ختم کر دیا ہے۔ تین چار دن پہلے ایک وڈیو میری نظر سے گزری جس میں ایک چھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور اس کے خون آلود کپڑے اسی بے بس کی ماں دیکھا رہی تھی۔ مقصد بے حیائی نہیں انصاف کا حصول تھا کہ سوشل میڈیا پر اس کے وائرل ہونے کے بعد ہی اعلٰی حکام کی توجہ اس جانب مبذول ہو گی ۔ اخبار اٹھا کر دیکھ لیں ، کوئی ٹی وی چینل دیکھ لیں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے معاملات کی کوریج نظر آئے گی۔ دماغ تناؤ میں آجاتاہے کہ آخر یہ سب کرنے والے ہیں کون ؟ یہ ذہنی مریض ہم میں سے نہیں ہو سکتے بلکہ انسان بھی نہیں ہو سکتے۔یہ وہ حیوان ہیں جنھیں حیوان بھی اپنانے سے انکاری ہو جائیں۔ ایسے لوگ کس منہ سے خود کو مسلمان بلکہ انسان کہتے ہونگے۔ ایک سلوگن میری اور آپ کی نظر سے گزرتا ہے ’’نفرت جرم سے ، مجرم سے نہیں‘‘بجا ہے کیونکہ چوری ڈکیتی اور قتل جیسے عوامل غربت یا غصے کی وجہ سے سر زد ہو جاتے ہیں مگرزیادتی جیسا قبیح فعل انجام دینے والا پورے ہوش و حواس میں ہوتا ہے اور مغلوب کو بے چارگی کی کیفیت میں دیکھ کر لطف اٹھاتا ہے۔ فتح کا احساس اس کو اور ظلم پر اکساتا ہے۔ اسلام میں اس فعل کی سزا سنگ باری ہے کیونکہ جس طرح جسم کا ہر عضو محظوظ ہوتا ہے اسی طرح ہر عضو پر چوٹ لگنی چاہئیے۔میں کہتی ہوں کہ ایک یا دو سزائیں ایسی واقع ہو جائیں تو اگلی بار بچی ہو یا جوان اس گناہ کی طرف کوئی جانا درکنار سوچے گا بھی نہیں۔ کجا یہ کہ انصاف کے لیے دربدر بھٹکنا پڑے۔

اسلام میں نکاح کو پسند کیا گیاہے۔ تو حکومت کو چاہئیے کہ نکاح کو آسان بنا دیں ، اس کے لیے بھاری رقم رکھنا کہاں کا انصاف ہے ؟ اور پھر ہمارے معاشرتی ضابطے کہ جی طلاق یافتہ سے شادی نہیں کرنی، عمر میں بڑی، قد میں چھوٹی، ذات سے باہر، اپنے پیمانے بدلیں۔ اپنے بچوں کی تربیت کا انداز بدلیں۔ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں تو پہلے اپنے گھر میں اخلاقی اقدار کو بہتر بنائیں۔ بچوں کے سامنے گالم گلوج، ازدواجی معاملات ، نا کریں۔ ہر چیز کے استعمال اور فہم کی ایک عمر ہوتی ہے اس مناسب عمر کا انتظار کریں اور مناسب معلومات مہیا کریں۔ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی مصروفیات پر توجہ دیں۔ سمجھائیں۔ اعتماد دیں۔ اچھے برے کی تمیز سیکھائیں اور بتائیں کہ آج کسی کے ساتھ کرو گے تو کل اپنے گھر سے دینا پڑے گا ۔ 

۔۔۔ اور یہ جو معصوم بچیوں کو ہوس کا نشانے بناتے ہیں کل کس منہ سے اپنے بچوں کا منہ چومیں گے ؟ کس طرح اپنی بیٹی سے نظر ملائیں گے ۔وقت اگر اس بچی کے لیے مرہم ہوگا تو ایسے مجرم کے لیے اس کا ضمیر عدالت ہو گا ، اگر انصاف دنیا میں نہیں ملے گا تو انصاف وہ کرے گا جس کا نام عادل ہے اور اس کا انصاف، اس کی سزا ایسی ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ کیونکہ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اس کے لیے سب ایک جیسے ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیٹی خواہ کافر کی ہو یا مسلمان کی ، بیٹی صرف بیٹی ہوتی ہے۔ آئیے بارہ ربیع الاولکے پاک دن یہ عہد کر لیں کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے یہ تسلیم کریں گے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور حیا اور غیرت سے جئیں گے۔

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید : بلاگ