عدلیہ پر عوام کا اعتماد

عدلیہ پر عوام کا اعتماد

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے، مَیں موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آنے والے چیف جسٹس گلزار صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک کو انصاف دے کر آزاد کریں۔ہم آپ کی مدد کے لیے تیار ہیں،ساری جگہ سے پیسہ نکالیں گے۔پوری گورنمنٹ آپ کے لیے پیسہ دینے کو تیار ہے،لیکن ہماری عدلیہ نے عوام کا ٹرسٹ، اپنے اندر بحال کرنا ہے۔عدلیہ نے عام آدمی کو اعتماد دینا ہے کہ یہاں سب کے لیے ایک قانون ہے۔طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون کا تاثر نہیں ہونا چاہیے۔ہمارا قانون ایسا ہونا چاہیے کہ کمزور سے کمزور کو بھی اعتماد ہوکہ اسے انصاف ملے گا۔وہ ہزارہ موٹروے فیز ٹو منصوبہ کے تحت ایک سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انصاف اور قانون کا ذکر انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بوجہ علالت بیرون ملک روانگی کے تناظر میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کی اکثریت کی رائے تھی کہ نواز شریف کو، ملک لوٹنے والوں کو باہر نہ جانے دیا جائے، لیکن ان کی صحت خراب دیکھ کر رحم آ گیا۔ہم نے-7ارب کی گارنٹی مانگی تھی، مگر شہباز شریف نے ڈرامے شروع کر دیے۔شہباز شریف نے کہا ہی مَیں گارنٹی دوں گا،جس کا خود کا بیٹا، اور داماد چوری کر کے ملک سے بھاگا ہوا ہے،وہ کیا گارنٹی دے گا۔ نواز شریف کے سمدھی اور دونوں بیٹے ملک سے فرار ہیں خود شہباز شریف کی گارنٹی کون دے گا۔اس پر بھی کرپشن کے کیس ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ(ن) ادھر کھڑی ہوتی ہے جدھر پیسہ ہوتا ہے۔پیسے کے لیے یہ کبھی لبرل بن جاتے ہیں،اور کبھی جہادی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بدعنوان ٹولے اور پاکستان کے مفادات الگ الگ ہیں۔ یہ چاہتے ہیں عمران خان کے علاوہ کسی کو بھی وزیراعظم بنا دیا جائے۔انہیں میرے ساتھ مسئلہ ہے،کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ عمران خان کی کوئی قیمت نہیں۔اگر مَیں کرپٹ ٹولے کے دباؤ میں آ کر سمجھوتہ کرتا ہوں تو قوم سے غداری کروں گا۔ان سے جنرل مشرف کی طرح مُک مکا کر لوں تو سب آرام سے بیٹھ جائیں گے۔ بے شک میرے خلاف سب اکٹھے ہو جائیں،جو کرنا ہے کر لیں لیکن مَیں ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک بھی آدمی کو نہیں چھوڑوں گا۔مَیں دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر نہیں آیا،22 سال محنت کی ہے۔

وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری پر بھی سخت تنقید کی،ان پر پھبتیاں کسیں،اور بلاول کی تو نقلیں بھی اتاریں۔ان کے لب و لہجے کے بارے میں مختلف مبصرین مختلف باتیں کہہ رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد ان میں نیا اعتماد پیدا ہو گیا ہے، جبکہ یہ کہنے والے بھی موجود ہیں کہ کمزوری کا احساس غالب آ رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے گھٹی ہوئی فضا میں جو نعرہ ہائے مستانہ لگائے،انہوں نے میڈیا کو بھی توانا کیا،اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں بھی نئی روح پھونک دی۔حکومت کے اپنے اتحادی جودم سادھے بیٹھے ہوئے تھے،ان میں روک ٹوک کا حوصلہ پیدا ہوا،اور انہوں نے حکومت کو ایسے مشورے برملا دینا شروع کر دیے جو اس سے پہلے بند کمروں ہی میں دم توڑ جاتے تھے۔سیاسی معاملات کوئی حساب کے سوالات تو نہیں ہوتے کہ ان کا صحیح جواب ایک ہی ہو۔یہاں سو فیصد درستی اور سو فیصد غلطی کا تصور محال ہے۔اس لیے نکتہ ور اپنے اپنے نکتے تلاش کر سکتے ہیں،اور ہر نکتے کا اپنا اپنا وزن بھی ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم سے اس توقع کا اظہار کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے کہ وہ انتخابی مہم کے موڈ سے باہر نکلیں۔طعنوں،پھبتیوں اور تندو تیز جملوں کا اپنا مزہ ہے،ان سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے لیکن منصب دار اپنے کرارے جملوں کے حوالے سے نہیں اپنی کارکردگی کے حوالے سے پہچانے جاتے اور یاد رکھے جاتے ہیں۔وزیراعظم سے حریف تو کیا،ان کے اتحادی بھی یہ توقع رکھ رہے ہیں کہ وہ گورننس اور معیشت کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور چونچیں لڑانے کا کام ان کے لیے چھوڑ دیں جنہیں اور کوئی کام نہیں آتا۔

جہاں تک اپوزیشن پر تنقید کا تعلق ہے،اس میں بھی وزن ہو سکتا ہے۔اس میں سب فرشتے نہیں ہیں،یقینا جب شہباز شریف کو ان کے بیٹے اور داماد کا طعنہ دیا جاتا ہے،تو اسے ہوا میں اُڑا دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اپنے بارے میں وزیراعظم کا یہ اصرار بھی غلط نہیں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں،چھوٹے اور بڑے کے لیے انصاف کے ایوانوں میں یکساں سلوک بھی ہونا چاہیے۔لیکن جب موجودہ اور آئندہ چیف جسٹس کو آواز دے کر عدلیہ پر عوام کا اعتماد کا بحال کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ جیسے یہ اعتماد اب موجود نہیں ہے۔اسے پختہ کرنے کی بات اور ہے،لیکن بحال کرنے کے معانی اور ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اگر اربابِ اقتدار مطمئن پائے جائیں تو عوامی حلقوں میں اس کا مطلب مختلف لیا جاتا ہے۔اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد اس وقت مجروح ہوتا ہے،جب وہ اقتدار کی توقعات پر پورا اُترتی پائی جائیں۔پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے زیادہ فخر کے قابل نہیں ہے لیکن طویل جدوجہد کے بعد عدلیہ انتظامیہ سے آزاد ہو چکی ہے، اس کی تقرریوں اورترقیوں میں حکومتی کردار باقی نہیں رہا۔اس حوالے سے عدالتوں پر اعتماد اور ان کے اعتبار میں اضافہ ہوا ہے۔مسائل موجود ہیں،خطرات بھی منڈلاتے رہتے ہیں،لیکن جوہری تبدیلی سے انکار ممکن نہیں۔وزیراعظم گر چاہتے ہیں کہ سب کو جلد انصاف ملنا چاہیے،تو اس کے لیے پورے کریمنل جسٹس سسٹم میں تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔پولیس اور دوسرے تفتیشی اداروں کی تنظیم نو کرنا ہو گی،احتسابی اداروں کے احتساب کا اداراتی نظام بھی قائم کرنا ہو گا۔قوانین میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔اگر حکومت کسی کو گردن زدنی قرار دے تو آنکھ بند کر کے اس کی گردن نہیں اڑائی جا سکتی۔پاکستان کے دستور نے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔تفتیشی اداروں اور عدالتوں میں چلنے والے مقدمات سے حکومت کا کوئی سرو کار نہیں ہونا چاہیے۔ہر مہذب ملک میں ہر کام کرنے کے لیے الگ الگ ادارے قائم ہوتے اور انہیں مضبوط کرنے کو قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔نواز شریف پر وزیراعظم نے اپنے تئیں ”رحم“ کھا لیا ہے،تو اپنے ناظرین اور سامعین پر بھی رحم فرمائیں،عدالتوں کے فیصلوں کو کھلے دِل سے قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کی روایت جس قدر پختہ ہو گی،عدلیہ اتنی ہی مضبوط ہوتی جائے گی۔اس پر عوام کا اعتماد بھی پختہ ہوتا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ