پنجاب میں بلدیاتی انتخابات!

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات!

  



وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوید سنائی کہ بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ اگلے سال مارچ میں شروع ہو جائے گا، محکمہ بلدیات اس کے لئے انتظام کر رہا ہے، وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ یہ انتخابات دو مراحل میں ہوں گے پہلے مرحلے میں ویلج پنجاب کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے اور دوسرے مرحلے میں یونین کونسلوں اور میونسپل کارپوریشنوں تک کے انتخابات ہوں گے جو جماعتی بنیادوں پر کرانے کا ارادہ ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی یہ تسلی یقینا ان اراکین اسمبلی کے لئے ہے جو ان کی جماعت سے تعلق رکھتے یا حلیف جماعتوں کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر آئے ہوئے ہیں۔ تاہم اس میں اس اطمینان کے سوا کچھ نہیں کہ بلدیاتی انتخابات ادارے توڑے گئے ہیں، شہریوں کو مقامی مسائل کے حوالے سے پریشانیاں ہیں۔ تحریک انصاف نے برسراقتدار آتے ہی پنجاب میں یہ بڑا کام کیا کہ سابقہ بلدیاتی قانون کو ختم کرکے سارے ادارے توڑ دیئے اور ایک نیا قانون منظور کرا لیا جو خیبرپختونخوا کی طرز کا ہے۔ بلدیاتی ادارے ختم ہو جانے سے گلی محلوں کے کام رک گئے اور آج صورت حال یہ ہے کہ عوام کو صفائی سے شکائت ہے تو مقامی سڑکوں اور گلیوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی پریشان کرتی ہے۔ اسی طرح پانی وغیرہ بھی درست اور صاف نہیں ملتا، یہ سارے مسائل مقامی سطح پر بلدیاتی نمائندے حل کرانے کی کوشش کرتے رہتے اور ایک حد تک کامیاب بھی ہوتے تھے اب ایک سال کا عرصہ ہو گیا، مسائل اور بڑھ گئے ان کا کوئی حل نہیں شہری برملا کہتے ہیں کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں میں بہت زیادہ اکثریت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والوں کی تھی اسی لئے ان کو توڑا گیا۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا۔ اب انتخابات میں بھی تاخیر ہو رہی ہے، بہتر ہو گا کہ وزیراعلیٰ اپنے کہے کے مطابق ہی اب بلدیاتی ادارے بنانے کے لئے انتخابات کرا ہی دیں کہ اب ان کی حکومت ہے اور وہ اپنی اکثریت چاہتے ہیں جو شاید ممکن ہو۔

مزید : رائے /اداریہ