فیصلہ ہونا چاہئے دہشت گرد ملک ہے کون؟

فیصلہ ہونا چاہئے دہشت گرد ملک ہے کون؟
فیصلہ ہونا چاہئے دہشت گرد ملک ہے کون؟

  



دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ ہماری نہیں تھی، لیکن پا کستان نے اسے اپنی سمجھ کر لڑا، رزلٹ بھی دیئے اور دُنیا کے سامنے سرخرو ہوا۔ 75ہزارشہیدوں اور سو ارب ڈالر کے نقصان کے باوجودپاکستان بدستور دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے، اقوام عالم کو اب دہشت گرد ریاست بھارت کی فکر کر نی چاہئے،جہاں کی لیڈر شپ انتہا پسند اور دُنیا کے امن کو تباہ کرنے پر تلی ہو ئی ہے۔ دہشت گردی پیدا کیوں ہوئی؟،برقرار کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ خود ایک عالمی سپر پاور کا سپونسرڈ عمل ہو؟ کون ہے،جو ترقی پذیر ممالک میں دوہرا کھیل کھیل رہا ہے؟ امن پسند ممالک کواب اس پر غور وفکر کرنا چاہئے……”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں دکھانے کے اور“اب اقوام عالم کو ہمت کر کے امریکہ سے بھی پوچھنا چاہئے کہ جب آپ دُنیا کے75 ممالک کی سالمیت اور خود مختیاری کو چیلنج کریں گے تو ردعمل نہیں ہو گا توکیا ہو گا،جب مجبوراور محکوم ا پنے حق کے لئے بندوق اٹھائیں گے، توآپ ان کو دہشت گرد کہیں گے؟

فیصلہ ہونا چاہئے کہ دہشت گرد ہے کون؟…… امریکہ بے بنیاد بھارتی پروپیگنڈے اور ذاتی مفادات کے زیر اثر زمینی حقائق اوردو دہائیوں سے انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کی سہولت کاری سے فائدہ اٹھا کر افغانستان سے اپنی فوجوں کے بحفاظت انخلا کی راہیں تلاش کر رہا ہے تو دوسری طرف بھارت کو خوش کرنے کے لئے اس پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے، اس کی یہ دوغلی پالیسی بین الاقوامی اخلاقیات کے منافی ہے۔ اسے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کیوں نظر نہیں آتی، جسے وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان کے اقدامات سے نہ صرف خطے میں القاعدہ کا خاتمہ ہوا،بلکہ دُنیا محفوظ جگہ بنی۔واشنگٹن دراصل زمینی حقائق کے برعکس اور دو دہائیوں سے انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ پاکستان کی کوششوں نے افغان طالبان اور امریکی حکومت کے مابین مذاکرات میں آسانی پیدا ہوئی، جس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا۔

تین نومبر کو انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ اس لحاظ سے بھی باعث تعجب ہے کہ پاکستان پر الزام تراشی کرنے والے امریکی حکام اب تک پاکستان کی مدد سے اپنے تنازعات حل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متعلق دنیا ابھی تک تقسیم ہے۔ پسماندہ، غریب اور کمزور ریاستوں کو مزید غلام اور کمزور بنانے کے لئے دہشت گردی کی مختلف تعریف کی جاتی ہے،جو عموما عالمی طاقتوں کے مفادات کے خلاف کام کرنے کے ہم معنی ہے۔ دہشت گردی کی اصل تعریف انسانیت کے خلاف سنگین خطرات پیدا کرنے کے حوالے سے وضع ہونی چاہئے۔اس بنیادی خرابی کے باعث امریکہ دہشت گردی کے انسداد کی کارروائیوں کی حیثیت کا تعین کرتا آ رہا ہے۔ امریکہ نے پہلے عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا اور عالمی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے عراق کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ بالخصوص مسلمان ممالک میں جاری ہے اور اب تک 10لاکھ بے گناہوں کی جان لے چکی ہے۔

عراق کی جنگ میں مارے جانے والے لاکھوں نہتے عراقیوں کا خون اِس لئے بھی امریکہ کے سر ہے، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی وہاں موجود تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کو لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتار کر غلط اور گمراہ کن تسلیم کر چکے ہیں،برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے انٹیلی جنس کی غلطی تسلیم کر کے شرمندگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کی سازش کہنا اس لئے بھی غلط نہیں ہو گا کہ عراق کو تباہ کرنے کے بعد امریکی حکمرانوں نے بشار الاسد حکومت گرانے کے لئے شام کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جس داعش کو شام کو تباہ کرنے کے لئے جواز بنایا گیا،اس کا سربراہ ابوبکر البغدادی عراق میں امریکی تحویل میں رہ چکا تھا اور وہ حقیقت میں امریکی خفیہ ایجنسی ”سی آئی اے“ کا ہی شاہکار تھا۔

اس کو یکسر مسترد کرنا اِس لئے بھی ممکن نہیں، کیونکہ گزشتہ دِنوں روس کے وزیر خارجہ بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ابوبکر البغدادی امریکہ کا مہرہ تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جواز اور تعریف خود ساختہ اور فریب ہے،بلکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مسلمان ممالک کو تباہ اور کمزوربھی کر رہا ہے۔ اس کا ثبوت امریکی صدر بش کا مسلمان ممالک پر حملوں کو صلیبی جنگ قرار دینا ہے۔

جہاں تک امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر عدم اطمینان کا اظہار کرنے کا تعلق ہے تو اس کو امریکی دوغلا پن قرار دینا اس لئے بھی غلط نہیں ہو گا کہ امریکی حکمرانوں کا ہمیشہ یہ چلن رہا ہے کہ جب پاکستان کی امریکہ کو ضرورت ہوتی ہے تو پاکستان پر مراعات اور عنایات کی بارش شروع ہو جاتی ہے اور جب مطلب نکل جائے تو پاکستان پر پابندیوں کے جواز گھڑے جاتے ہیں۔80ء کی دہائی میں امریکہ کوجب سوویت یونین کے خلاف ضرورت تھی تو پاکستان اورطالبان امریکہ کی آنکھ کے تارے تھے اور جب روس کا شیرازہ بکھر گیا اور امریکہ کا مطلب نکل گیا تو پاکستان پر پریسلر ترمیم سمیت متعدد پابندیاں عائد کر دی گئیں اور طالبان جو امریکہ کے لئے سوویت جنگ لڑنے والے مجاہد تھے،دہشت گرد قرار پائے۔ افغانستان پر حملے کے لئے پاکستان کی سٹرٹیجک امداد کی ضرورت ہوئی تو پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی قرار پایا۔

اس کے بعد ایک آیا جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر تصور کئے جانے لگے، مگر جونہی امریکہ کو طالبان سے امن مذاکرات کی مدد کی ضرورت پڑی تو امریکہ کے افغانستان کے خصوصی ایلچی نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو سراہا جانے لگا۔اب ایک بار پھر جب امریکہ طالبان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں تو امریکہ کو پاکستان کے دہشت گردی کے اقدامات اور اخلاص پر شک ہو رہا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ پر مایوسی اور عدم اطمینان فطری عمل ہے اور یہ کہنا بھی بجا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے سے مایوسی ہوئی۔

بہتر ہو گا کہ حکومت ِ پاکستان امریکہ کے ماضی کے ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں امریکہ سے توقعات اور انحصار کو ہر ممکن حد تک کم کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک چین، روس، ایران اور ترکی کے ساتھ مل کر امریکہ کے دوغلے پن کو بے نقاب کرنے کی بھی کوشش کرے تاکہ مسلم ممالک کو تباہ کرنے کی امریکی پالیسی کا سدباب ممکن ہو سکے۔ دفتر خارجہ کو صرف اظہار مایوسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے،بلکہ ایک تفصیلی ڈوزئیر تیار کر کے امریکی حکام اور اقوام متحدہ کو بھیجا جائے، جس میں 75 ہزار شہیدوں اور 100 ارب ڈالر کے نقصان کا واشگاف ذکر بھی ہو۔

مزید : رائے /کالم