مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا مستقبل!

مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا مستقبل!
مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا مستقبل!

  



کل کے کالم میں عرض کیا گیا تھا کہ مستقبل میں مسئلہ کشمیر پر کسی پاک بھارت جوہری ج گ کا امکا ہیں۔ ا ڈیا ے 5اگست کو جموں اور کشمیر کا وہ خصوصی سٹیٹس ختم کر دیا تھا جو اس کے آئی کے آرٹیکل 370کا حصہ تھا۔ بھارت (پاکستا کے مقابلے میں) اپ ی جمہوری اقدار پر بہت از کرتا ہے۔ گزشتہ 72برسوں میں پاکستا میں چار مرتبہ مارشل لاء لگایا گیا جو آئی ِ پاکستا کی کھلی ت سیخ تھی لیک ا ڈیا میں کبھی مارشل لاء ہیں لگا۔ یہ ”کریڈٹ“مودی حکومت کو جاتا ہے کہ اس ے آئی بھی توڑا اور مارشل لاء بھی لگایا۔ آرٹیکل 370کی ت سیخ آئی شک ی ہیں تو اور کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں تی ماہ سے جو کرفیو افذ ہے وہ مارشل لاء سے بدتر صورتِ حال ہیں تو اور کیا ہے؟…… ا ڈی میڈیا یہ استدلال بھی کرتا ہے کہ آرٹیکل 370 کو توڑ ا یا کشمیر میں کرفیو وغیرہ افذ کر ا اس کا داخلی معاملہ ہے۔

پاکستا یا کسی اور ملک کو کوئی حق ہیں پہ چتاکہ وہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔ لیک بھارت کو معلوم ہو ا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہیں بلکہ تقسیمِ برصغیر کا امکمل ایج ڈا ہے اور 72برس سے مت ازعہ چلا آ رہا ہے۔ سلامتی کو سل کی قراردادیں موجود ہیں ج میں کشمیر میں استصواب رائے کروا ے کو کہا گیا ہے۔ پاکستا اور ا ڈیا کی چار سلیں کشمیر اور رائے شماری کے الفاظ س س کر جوا اور پھر بوڑھی ہو گئیں یا ہو رہی ہیں۔ لیک مودی گور م ٹ ے یہ آئی شک ی کا جو اقدام کیا ہے اس کے خلاف ہ صرف بھارت کے ا در آوازیں اٹھ رہی ہیں بلکہ ساری مہذب د یا ا ڈی اقدام پر احتجاج کر رہی ہے۔ پاکستا جو مسئلہ کشمیر کا براہِ راست فریق ہے، اس کا احتجاج فطری طور پر تلخ تر بلکہ تلخ تری ہے۔ لیک میں ے کل کے کالم میں یہ بتا ے کی کوشش کی تھی کہ پاکستا کا یہ بیا یہ کہ مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر پاک بھارت جوہری ج گ چھڑ سکتی ہے، زیادہ قابلِ اعت ا ہیں سمجھا جا رہا اور د یا کی بڑی طاقتیں اسے خرید ے کو تیار ہیں۔

جب سے بھارت ے کشمیر کی آئی ی حیثیت تبدیل کی ہے پاکستا ی حکومت اور فوج مسلسل اس بات کو دہرائے جا رہی ہے کہ ا ڈیا اپ ے اس اقدام کو ریورس کرے وگر ہ ہم آخری حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ آخری حد کیا ہے؟ اس کا جواب بچے بچے کو معلوم ہے کہ پاکستا، ا ڈیا کے ساتھ ج گ کر ے کو تیار ہے اور یہ ج گ اگر طول کھی چتی ہے اور یوکلیئر وار فیئر میں تبدیل ہوتی ہے تو پاکستا اس کے لئے بھی تیار ہے۔ میری گزارش یہ تھی کہ ہر چ د کہ پاکستا کا کیس مضبوط ہے لیک کسی بھی ج گ میں دو یوکلیئر پاورز کا آخری حد تک جا ا بچوں کا کھیل ہیں۔ پاکستا اگر اس جوہری ج گ کے لئے تیار بھی ہو تو د یا تیار ہیں ہو گی اور جب تک د یا تیار ہ ہو، پاکستا اور بھارت جوہری ج گ کی طرف ہیں جا سکتے۔

اس جوہری ج گ کے ڈا ڈے چو کہ باقی د یا سے ملے ہوئے ہیں اس لئے د یا کی اصل طاقتوں (Powers to be) کو اس خطرے کا ادراک کر ا چاہیے۔ لیک اگر یہ طاقتیں ’ادراک‘ کرتیں تو اب تک کچھ ہ کچھ پیشرفت ہو چکی ہوتی لیک یہ مسئلہ اب تک جوں کا توں ہے اور اب تو ا ڈیا کے جر یل (ریٹائرڈ ہی سہی) یہ شرم اک بیا دے رہے ہیں کہ کشمیری مسلما وں کو قتل کر دی ا چاہیے اور ا کی خواتی کی عزتیں لوٹ لی ی چاہئیں میں ے اس حرامی ال سل جر یل کی یہ گستاخی س ی تو فوراً خیال آیا کہ اس کی آواز میں مودی بول رہا ہے۔

اور یہ گستاخی صرف بی جے پی کے رہ ماؤں تک محدود ہیں۔ کا گریسی اکابر سیاستدا وں کا بھی یہی وتیرہ رہا ہے۔ ہمیں 1971ء کی پاک بھارت ج گ فراموش ہیں کر ی چاہیے۔ اس وقت تو RSSکی پروردہ کوئی بی جے پی برسرِ حکومت ہیں تھی لیک یاد کیجئے ا ڈی آرمی اور مکتی باہ ی ے مشرقی پاکستا میں کیا کیا تھا؟ پاک فوج کو اجتماعی ریپ کے طع ے کے پردے میں جو گھ اؤ ا کھیل کھیلا گیا اور وہاں مسلم خواتی کی عصمت دری کے جو سا حات رو ما ہوئے وہ اب کوئی ڈھکی چھپی باتیں ہیں ہیں۔

ا درا گا دھی اس پاک بھارت ج گ کی ہیروء تھیں۔ کا گریسی رہ ماؤں کے سروں پر مشرقی پاکستا کو ب گلہ دیش ب ا ے کا سودا بری طرح سوار تھا۔ 1971ء کی اس ج گ کے 13برس بعد کا گریس کی اسی ”ہیروء“ ے سکھوں کے مقدس مقام دربار صاحب پر حملہ کر دیا تھا۔ آپریش بلیو سٹار (Blue Star) کی تفصیلات پڑھ ے کے بعد آپ کو معلوم ہو گا کہ کا گریس اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یکم جو 1984ء کو ا درا گا دھی ے حکم صادر کیا کہ امرتسر کے دربار صاحب پر دھاوا بول دیا جائے اور باغی سکھ رہ ما،جر یل س گھ بھ ڈراں والے کو ز دہ یا مردہ گرفتار کیا جائے۔ یہ آپریش 8د (یکم تا 8جو 1984ء) تک جاری رہا۔ جر یل س گھ مارا گیا اور ساتھ ہی ہزاروں سکھ بھی مارے گئے۔ بعض ا دازوں کے مطابق مر ے والوں کی تعداد 2500 سے زیادہ تھی۔

اس آپریش کی دو باتیں اور بھی اہم تر ہیں جو کا گریسی حکومت کی ہٹ دھرمی پر دلیل ہیں۔ ایک یہ کہ سکھوں ے جب اپ ے مقدس دربار صاحب کی توہی ہوتے دیکھی تو سروں پر کف با دھ لیا اور سارے ملک میں ہ دوؤں اور برہم وں کے خلاف سکھوں کے حملے شروع ہو گئے۔ ا ڈی آرمی ے اس باغیا ہ لہر کو سختی سے دبا دیا اور ایک ا دازے کے مطابق 3سے 4ہزار سکھوں کو جہاں دیکھا قتل کر دیا۔ اس کے جواب میں سکھوں ے بھی بغاوت کر دی۔ کئی باغی سکھ یو ٹوں کو موقوف (Disband) کر ا پڑا۔ سکھ رجم ٹ س ٹر رام گڑھ میں و آموز سکھ ریکروٹوں ے بھی بغاوت کر دی جس کو دبا ے کے لئے ا ڈی آرمی ے ٹی کوں کا استعمال کیا…… اور دوسرے یہ کہ ا درا گا دھی کے حکم سے دربار صاحب پر دھاوا بول ے کے لئے جو فورس ڈیپلائے کی گئی (9ا ف ٹری ڈویژ) اس کا GOC ایک سکھ تھا جس کا ام کلدیپ س گھ برار تھا۔ یع ی ہ دو ے سکھ کو سکھ سے لڑا ے کا مکروہ اور پرا ا حربہ استعمال کیا۔

یہ داستا دراز ہے۔ اس لئے اس کو یہیں چھوڑتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ سکھوں ے ا درا گا دھی اور کا گریسی رہ ماؤں سے کیا سلوک کیا اور ا سے کیا ا تقام لیا۔ دربار صاحب پر حملے کے 5ماہ بعد ومبر 1984ء میں ا درا گا دھی کے دو سکھ باڈی گارڈوں ے محترمہ کو بزعمِ خویش ”کیفر کردار“ کو پہ چایا اور دو سال بعد (1986ء میں) جس آرمی چیف ے دربار صاحب پر دھاوے کا آرڈر دیا تھا، اس کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہ دو کا گریسی حکومت ے سکھوں کی اشک شوئی شروع کر دی اور سکھ افسروں کو سی ئر عہدوں پر فائز کر ے کا پروگرام ب ایا۔ م موہ س گھ کا دس برس تک ہ دوستا کا وزیراعظم رہ ا اسی سلسلہ ء اشک شوئی کی ایک کڑی تھی۔

یہ تفصیل اس لئے قارئی کے سام ے رکھ رہا ہوں کہ کشمیر میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مواز ہ سکھ بغاوت سے ہیں کیا جا سکتا۔ ہ تو کشمیریوں کی ا ڈی آرمی میں کوئی ماء دگی ہے (سکھوں کے برعکس) اور ہ کشمیری قوم روائیتاً ج گجو قوم ہیں۔ وہ ام پس د، مہذب اور صلح جُو قوم ہیں۔ ا کی تاریخ اور سکھوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ کشمیری، سکھوں کے مقابلے میں ایک رم خو اور عبادت گزار (Docile)اقلیت ہیں۔ لیک اقبال ے کیا خوب فرمایا تھا:

کر سکتی ہے بے معرکہ جی ے کی تلافی؟

اے پیرِ حرم، تیری م اجاتِ سحر کیا

کشمیر میں ایک لاکھ کشمیریوں کا قبرستا میرے اس دعوے کا ثبوت ہے کہ وہ ہ دو حکومتِ وقت کے سام ے سی ہ تا کر کھڑے تو ہو سکتے ہیں لیک اپ ے دشم کے سی ے کو گولیوں سے چھل ی ہیں کر سکتے۔اگر ایسا ہوتا تو جس ہ دو جر یل ے کشمیری خواتی کی عصمت دری کی بات کی تھی اس کی بوٹیاں وچ لیتے اور گدی سے زبا کھی چ لیتے۔ آ ے والے کل میں یہ 80،90لاکھ کشمیری شائد ہ دو بربریت کا جواب بربریت سے دے سکیں تو دے سکیں لیک موجودہ صورتِ حال میں مجھے ایسا ہوتا ظر ہیں آتا۔ ا ڈیا میں سکھوں کی آبادی 14کروڑ ہے اور مسلما وں کی 20،22کروڑ ہے جبکہ کشمیری مسلما وں کی تعداد 80سے 90لاکھ کے درمیا ہے۔

ا ڈیا کی کل آبادی 125کروڑ ہے۔دوسرے لفظوں میں 100کروڑ اکثریت کا مقابلہ 25کروڑ اقلیت سے ہے اور 100کروڑ اکثریت میں ا ڈیا کے لاکھوں مسلح سپاہی (آرمی، ائر فورس، یوی) شامل ہیں۔ چ ا چہ بڑی آسا ی سے حساب لگایا جا سکتا ہے کہ ا ڈیا کو اپ ے ا در سے کسی مسلح اور ج گجو بغاوت یا سرکشی کا کوئی سام ا ہیں۔

درجِ بالا سطورمیں جو استدلال کیا گیاہے اس کا ابطال اگر کسی قاری کی طرف سے آئے تو مجھے خوشی ہو گی…… خالد ہمایوں صاحب ے کل اپ ے کالم میں میرے کالم کی جو ”خبر“ لی ہے، ا سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کی طرف بھی اچیز کی رہ مائی فرما دیں …… کاش وہ عالمی تاریخِ ج گ اور تاریخِ جمہوریت کے کوئی باقاعدہ س جیدہ طالب علم ہوتے!

مزید : رائے /کالم