پاکستان یونیورسٹیاں ترقی یافتہ ممالک کی جامعات جیسا کردار ادا کریں،راجہ یاسر

  پاکستان یونیورسٹیاں ترقی یافتہ ممالک کی جامعات جیسا کردار ادا کریں،راجہ ...

  



لاہور (لیڈی رپورٹر)صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن راجا یاسر ہمایوں نے ملکی معیشت میں استحکام اور سماجی مسائل کے حل کیلئے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے مابین روابط مضبو ط کر نے پر زور دیا وہ پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام تعلیم پر تحقیق کے موضوع پرساتویں بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب فیصل آڈیٹوریم میں خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد اختر، ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین چوہدری، ڈائریکٹر ادارہ تعلیم و تحقیق پروفیسر ڈاکٹر رفاقت علی اکبر، فیکلٹی ممبران، طلباؤ طالبات کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، فلپائن، سعودی عرب، فرانس، ملائیشیا، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، آئرلینڈ،نیوزی لینڈاور پاکستان بھر سے 1000 سے زائد محققین، ماہرین تعلیم اور سماجی سائنسدانوں نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں راجا یاسر ہمایوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو صف اول کے ممالک کی یونیورسٹیوں کی طرح کردار ادا کرنے کیلئے آگے آنا چاہیے، اس کیلئے حکومت ہر سطح پر تعاون کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی ادارے ایڈوائزی باڈی کی طرح ہوتے ہیں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق سے نہ صرف صنعتیں بلکہ حکومتی ادارے اور ترقیاتی شعبے بھی مستفید ہوتے ہیں۔ انہوں نے تحقیقی کلچر کے فروغ اور ملک میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے تعلیمی ماہرین کی رائے دینے کیلئے اقدامات پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیازا حمد کی کاوشوں کو سراہا۔وائس چانسلرپروفیسر نیازا حمد نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن کا انحصار کوالٹی اساتذہ اور گرایجوئیٹس پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا سکول کی سطح پر طلباء کی بہترین تربیت سے ہی یونیورسٹی سطح پر اعلیٰ کوالٹی کے گرایجوئیٹس پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طلباء اور اساتذہ کا تناسب 1/50ہے جبکہ قومی معیار کے مطابق اسے 1/20جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق 1/10ہونا چاہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پی ایچ ڈی اساتذہ کی کمی کا بھی سامنا ہے اور پاکستانی یونیورسٹیوں میں صرف 35فیصدپی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کیلئے درخواست دینے والے امیدواروں میں سے بمشکل 10فیصد ہی داخلہ لے پاتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 100فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوالیہ پرچوں اور جوابی کاپیوں کی تشخیص سمیت تمام مسائل کے سدباب کیلئے طریقہ کاروضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور معاشرے کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے نئے علوم کی تخلیق یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹررفاقت علی اکبر نے کہا کہ ’ٹیچرز ایجوکیشن اور اکیسویں صدی‘ کے تھیم پر منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، فلپائن، سعودی عرب، فرانس، ملائیشیا، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، آئرلینڈ،نیوزی لینڈ اورپاکستان سے محققین، ماہرین تعلیم اور اساتذہ شرکت کرتے ہوئے 150سے زائد تحقیقی مقالے پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس ملک کو درپیش تعلیمی مسائل پر بات کرنے کیلئے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1