اچھے اخلاق اور تحمل سے انتہاپسندی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،بشپ فولی بیچ

اچھے اخلاق اور تحمل سے انتہاپسندی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،بشپ فولی بیچ

  



لاہور(پ ر) شمالی امریکہ کے اینگلیکن آرچ بشپ ریورنڈ ڈاکٹر فولی بیچ نے امن، بھائی چارے اور محبت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ صرف اچھے اخلاق اور تحمل کے مظاہرے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینٹ پیٹرز سکول میں اپنے اعزا ز میں دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیاجبکہ استقبالیہ کا اہتمام پاکستان میں موجود نیشنل کونسل آف چرچز اور رائیونڈ ڈائسسز کے بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل کی جانب سے کیا گیا۔استقبالیہ کی تقریب میں پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی، خطیب بادشاہی مسجد علامہ عبدالخبیر آزاد، علامہ راغب نعیمی، پیر ضیا الحق نقشبندی قادری، مولانا عاصم مخدوم اور ملتان کے بشپ لیو روڈایریک پال سمیت دیگر سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ استقبالیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرچ بشپ ڈاکٹر فولی بیچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اسلامی علما کی کوششوں کے باعث بین المذاہب ہم آہنگی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فولی بیچ نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کے متعلق بہت سے خیالات پائے جاتے ہیں لیکن انہیں پاکستان میں نیک نیتی اور محبت دیکھنے کو ملی ہے۔استقبالیہ تقریب سے بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ عیسائیت اور اسلام دونوں محبت،امن اور بھائی چارے کی تعلیمات پر مبنی مذاہب ہیں اور خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دے رہے ہیں۔ علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت سمیت دیگر مذہبی جماعتیں خصوصی طور پر مسیحی اقلیتوں کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور ان کا ادراک بھی رکھتی ہیں۔ہر مشکل گھڑی میں وہ اور ان کی جماعت مسیحیوں کے ساتھ کھڑے رہے۔

بشپ

مزید : میٹروپولیٹن 1