آ کوڈی کوڈی کوڈی!

آ کوڈی کوڈی کوڈی!
 آ کوڈی کوڈی کوڈی!

  



نواز شریف کو’آڈی کوڈی کوڈی‘کرتے زانو پر ہاتھ مار کر حکومت کے ہاتھ سے کیا نکلے، وزیر اعظم عمران خان کے ’میں چوروں کو نہیں چھوڑوں گا‘ کے بیانئے سے ہوا نکال گئے۔ ہمارے نانا بتایا کرتے تھے کہ ان کے گاؤں میں ایک مرتبہ ایک چور پکڑا ئی دے کر نکل گیا تھا کیونکہ جونہی اس کے گرد شکنجہ کسا گیا، اس نے جلدی سے شکنجہ کسنے والے کے کان میں کہا ’ہائے میرا پھوڑا‘ جس پر شکنجہ کسنے والے گھبرا کر بازوڈھیلے کئے تو چور جھٹکا مار کر یہ جا وہ جا!....کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں چور جسم پر تیل مل کر چوری کرنے نکلا کرتے تھے تاکہ کسی کو پکڑائی ہی نہ دیں۔ ہمارے خان صاحب نے گزشتہ پانچ سال اور موجودہ ایک سال سے نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف چور چور کی رٹ لگارکھی تھی، مگر وہ ہوشیار تھے کہ چکمہ دے کر حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے اور اب وزیر اعظم ہاتھ سے گرجانے والے دودھ پر آنسو بہارہے ہیں۔

نواز شریف کے ملک سے باہر جانے سے عمران خان کی جانب سے کرپشن کا منترا دم توڑ گیا ہے، اب وہ نہیں کہہ سکتے کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا کیونکہ نواز شریف ملک سے باہر ہیں، آصف زرداری جیل سے باہر ہیں اور حکومت کے اتحادی حکومت کے کہنے سننے سے باہر ہیں، اب کرپشن کا نعرہ Sellableنہیں رہا ہے۔ ویسے نعرہ تو عمران خان کا کوئی بھی Sellableنہیں رہا ہے، چاہے وہ پچاس لاکھ مکانوں کا ہو یا ایک کروڑ نوکریوں کا، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا ہو یا اوپر ایماندار آدمی کے بیٹھنے پر سسٹم کے ایمانداری سے کام کرنے کا ہو، وزیر اعظم عمران خان کے پلے کچھ نہیں رہا ہے، یہ الگ بات کہ ابھی تک نواز شریف اور آصف زرداری کرپشن کے الزاما ت سے بری نہیں ہوئے ہیں اور عمران خان کے ایک کروڑ سترلاکھ ووٹروں کے مجرم ہیں۔ خان صاحب کی ایک اور کامیابی یہ قرار دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفین کو اسپتالوں کے بیڈ تک پہنچادیا ہے، حکومت نے کرپشن کے مجرموں کی سزا پر کمپرومائز نہیں کیا اور انڈیمنیٹی بانڈ کی شرط رکھ کر اپنی ساکھ بحال رکھی۔ ای سی ایل قانون میں ایسی کوئی شرط نہ تھی مگر حکومت نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے ایک غیر قانونی کام کرنے سے بھی احتراز نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت عالیہ نے اس شرط کو معطل کرکے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔

ادھر مولانا فضل الرحمٰن بھی ڈٹ کر کھڑے رہے اور نہ صرف اپوزیشن کی نو جماعتوں بلکہ حکومت کے اتحادیوں کو بھی حکومت کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری جانب عوام نے ناقابل برداشت مہنگائی کے سبب حکومت کا جلوس نکالا ہوا تھا اور ٹی وی چینلز بھی اس آگ کو ہوا دیتے رہے تھے، عدلیہ بھی حکومتی موقف کے ساتھ کھڑی نہ ہوئی اور یوں عمران خان کے اکھڑ پن، میں نہ مانوں مزاج اور تکبر کو سب نے مل جل کر گرالیا، سسٹم جیت گیا انقلابی ہار گیا!

گزشتہ ایک ہفتے میں ہونے والی پیش رفت کے بعد کون جیتا کون ہارا کی بحث عبث لگتی ہے کہ سوسائٹی ہار گئی ہے کیونکہ نواز شریف اور عمران خان نے اپنے اپنے انداز میں انقلاب بپا کرنے کی اس عمر میں ٹھانی ہے جس عمر کی شادی اور ٹرالی پر لگی ٹیپ دوسرے ہی سنتے ہیں۔ نواز شریف عمر کے اس حصے میں ہیں کہ سوائے آرام کے ان کو کچھ بھی نہیں بھائے گا، سٹیٹس کو کے خلاف ان کی جنگ ادھوری رہ جائے گی، بے نظیر بھٹو کی طرح اور طرح رہ گئی تھی!

اب جب کہ نواز شریف جا چکے ہیں مولانا اسلام آباد سے جاچکے، حکومتی اتحادی دوبارہ سے بیبے بچے بن گئے ہیں، ملک کی معیشت کے حوالے سے اچھی خبروں کی رٹ لگادی گئی ہے لیکن اپوزیشن نے ابھی بہت سے کارڈ سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہیں، انہیں مناسب وقت کا انتظار ہے تاکہ چال چل سکیں، کیا 2020انتخابات کا سال ہوگا، اگر ہاں تو عمران خان ایئر مارشل اصغر خان ثابت ہوں گے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ نواز شریف جلد از جلد صحت یاب ہو کر وطن واپس لوٹیں!

مزید : رائے /کالم