ٹک ٹاک کا استعمال مثبت ہوناچاہیے‘ پابندی مسئلے کا حل نہیں‘ فنکار

ٹک ٹاک کا استعمال مثبت ہوناچاہیے‘ پابندی مسئلے کا حل نہیں‘ فنکار

  



لاہور(فلم رپورٹر) پاکستان میں ان دنوں موبائل فون کی ایپ ٹک ٹاک کی بڑی دھوم ہے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شوبز سے وابستہ شخصیات بھی اس کے سحر سے اپنا دامن چھڑا نہیں سکیں۔اداکار یاسر حسین،نور حسن،انمول نور،صندل خٹک،حریم شاہ اور ماہ نور پاکستان کے ٹاپ ٹک ٹاک سٹارز میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان بھر کے ٹاپ ٹک ٹاک سٹارز میں پنکی فرانسز،ریجا جیلانی،پریٹی عالیہ،بگس بنی،پیر احمد،حزیرا،نعمان رضوان خان،مبین رحمان،ابراہیم اور انعم اسد کے نام نمایاں ہیں ان کو فالو کرنے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی ہے۔شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ فنکاروں میں ٹک ٹاک کا جنون دن بدن بڑھ رہا ہے ان کا ماننا ہے کہ شہرت کا یہ سب سے آسان اور جلدی والا طریقہ ہے ہمارے معاشرے میں لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹک ٹاک جیسی ایپ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں اور یہ فحاشی کو فروغ دے رہی ہیں جبکہ کچھ لوگو ں یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر چیز کے دو پہلو یعنی مثبت اور منفی ہوتے ہیں ان سان جیسا سوچے گا ویسا ہی رد عمل ہوگا،شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ سکول کالج کے بچوں کو ٹک ٹاک سے دور رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے مستقبل اور ذہن پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شان،سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نورودیگر نے کہا ہے کہ جو لوگ ٹک ٹاک پر پابندی کی بات کرتے ہیں ان کو یہ جان لینا چاہیے کہ پابندی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے آپ ایک ایپ کو بند کریں گے تو کوئی دوسری ایپ آجائے گی اس لئے ہر چیز کو حد میں رہ کر ہی استعمال کرنا چاہیے یہ بلکل درست ہے کہ شوبز سے وابستہ لوگ خاص طور پر خواتین ان دنوں ٹک ٹاک کے جنون میں مبتلاء ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ٹک ٹاک سٹارز چھا چکے ہیں۔

مزید : کلچر