اے سی سی اے خواتین انٹریپرینیورز کی معاونت کیلئے متحرک

اے سی سی اے خواتین انٹریپرینیورز کی معاونت کیلئے متحرک

  



ملتان(پ ر)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) نے ویمن اکنامک امپاورمنٹ نیٹ ورک (Women Economic Empowrment Network; WEEN)کے اشتراک سے وِین سمٹ (WEEN SUMMIT) 2019 منعقد کی جس کا مقصد خواتین انٹریپرینیورز میں جذبہ پیدا کرنے، نیٹ ورک قائم کرنے، تعاون کرنے،معاونت حاصل کرنے اور نئے اقدام کے آغاز کے لیے مواقع فراہم کرنا تھا۔سمٹ میں اے سی سی اے کے رُکن خواجہ محسن نے ملک میں خواتین انٹریپرینیورشپ کو قابل بنانے کے بارے میں انتہائی معلوماتی پریزینٹیشن دی اور حاضرین کو بتایا کہ اے سی سی اے کس طرح فنانس کے شعبے میں خواتین کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے کیرئیر کے اہداف حا صل کر سکیں۔اِس سمٹ سے حاصل ہونے والے بڑے فوائد میں wehub.pk کے نام سے،خواتین انٹریپرینیورز کے لیے، پاکستان میں انتہائی جامع معلومات فراہم کرنے والی کاروباری پورٹل کا قیام، WECON موومنٹ کے ملتان چیپٹر کا قیام اور ویمن انٹرپرینیورز اینڈ لیڈرز پروگرا م کا آغاز شامل تھے جو جنوبی پنجاب میں پہلا انٹریپرینیورئیل پروگرام ہے۔ اس پروگرام میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں پر توجہ دی گئی ہے۔اس موقع پر اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ سجید اسلم نے کہا،”اے سی سی اے ہمیشہ ایک شمولیتی پیشہ ورانہ تنظیم رہی ہے اور ہم نے عالمی سطح پر صنفی تنوع کی ہمیشہ بھرپور وکالت کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہر ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنوع کی حمایت کرے اور خواتین کو فراہم کی جانے والے اعانت کے طریقوں اور مواقع کا جائزہ لے اور اس میں ملک کے ایسے تمام گروہوں کی نمائندگی ہونا چاہیے۔

جن کو پورے مواقع حاصل نہیں۔ اس بات کو یقینی بنا کر،کہ خواتین انٹریپرینیورز کو اعانت فراہم کی جاتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، ہم اپنے لوگوں کے لیے معاشی مواقع بہتر بنا سکتے ہیں۔“سجید اسلم نے مزید کہا،”پاکستان میں اکاؤنٹنگ کا پیشہ روزگار کے مقام پر حاصل ہونے والے تجربے اور خواتین کے لیے ترقی کے مواقع کو بہتر بنانے میں مخلص ہے۔ ہمیں مل جل کر، حقیقی اور متفقہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طویل المیعاد مسائل کو سمجھاکیا جا سکے، انھیں دور کیا جا سکے اور ایسی تبدیلی لائی جا سکے جو توازن پیدا کرے۔“ایونٹ کی خاص بات ممتاز خواتین کاروباری رہنماؤں اور پالیسی سازوں کی شرکت تھی جن میں Chairperson, Commonwealth Women Parliamentarians، شاندانہ گلزار بھی شامل تھیں۔

مزید : کامرس