سٹیٹ بینک شرح سود میں واضع کمی کرے،اسلام آباد چیمبر

سٹیٹ بینک شرح سود میں واضع کمی کرے،اسلام آباد چیمبر

  



 (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید، سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور نائب صدر سیف الرحمٰن خان نے اپنے ایک بیان کہا کہ 13.25فیصد شرح سود اس وقت کاروبار کی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے لہذا انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کیلئے شرح سود میں فوری طور پر واضع کمی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت نے شرح سود میں اضافہ کیا ہے کاروبار کی ترقی متاثر ہوئی ہے اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کو وسعت دینے اور نیا کاروبار شروع کرنے کیلئے بزنس مینوں کو بینکوں سے قرضہ لینا پڑتاہے لیکن شرح سود میں اضافہ ہونے سے بینکوں سے قرضہ حاصل کرنا بہت مہنگا ہو گیا ہے جس سے نیا کاروبار شروع کرنا اور موجودہ کاروبار کو وسعت دینا مشکل ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ کاروباری شعبہ اس وقت ایک جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو بینک نجی شعبے کو قرضہ دینے کی بجائے حکومت کی سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ حکومت سے ان کو بہتر منافع حاصل ہوتا ہے تاہم اس سے نجی شعبے کی ترقی متاثر ہو ئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے نہ صرف بڑی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ ایس ایم ای شعبے کی کارکردگی بھی مشکلات سے دوچار ہوئی ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت شرح سود میں جلد مناسب کمی کرے۔ محمد احمد وحید نے کہا کہ نجی شعبے کو بہتر فروغ دینے کیلئے دیگر ممالک نے شرح سود کو کم سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے لیکن پاکستان میں شرح سود کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا سٹیٹ بینک کے گورنر نے بیان دیا ہے کہ مہنگائی کم ہوتے ہی شرح سود میں کمی کی جائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کی ایک اہم شرح سود میں اضافہ ہے لہذا شرح سود کم ہونے سے مہنگائی بھی نیچے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں روپے کی قدر میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے جس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے تھا لیکن شرح سود زیادہ ہونے کی وجہ سے برآمداتی شعبے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت برآمدات سمیت کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے شرح سود کو کم کر کے 10فیصد سے نیچے لانے پر غور کرے تا کہ کاروباری اداروں کومناسب مارک اپ پر بینکوں سے قرضہ حاصل ہو جس سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا۔

، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت بھی بہتری کی طرف گامزن ہو گی۔

مزید : کامرس